Al-Qurtubi - Al-Qasas : 17
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ بِمَآ : اے میرے رب جیسا کہ اَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا عَلَيَّ : مجھ پر فَلَنْ اَكُوْنَ : تو میں ہرگز نہ ہوں گا ظَهِيْرًا : مددگار لِّلْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کا
کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا
قال رب بمآ انعمت علی فلن اکون ظھیراً للمجرمین اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قال رب بمآ انعمت علی جو معرفت، حکمت اور توحید کی صورت میں تو نے مجھ پر انعام کیا ہے فلن اکون ظھیراً للمجرمین میں کافروں کا مددگار نہیں۔ قشیری نے کہا : بما انعمت علی من المغفرۃ نہیں کہا، کیونکہ یہ وحی سے قبل کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ یہ نہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قتل کے عمل کو معاف کردیا ہے۔ ماوردی نے کہا : بمآ انعمت علی اس میں دو وجوہ ہیں (1) مغفرت، مہدوی اور ثعلبی نے اسی طرح ذکر کیا ہے مہدوی نے کہا، بما انعمت علی من المغفرۃ تو نے مغفرت کی صورت میں جو مجھ پر انعام کیا اور مجھے کوئی سزا نہ دی (2) ہدایت کی صورت میں جو تو نے مجھ پر انعام کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : فغفرلہ مغفرت پر دال ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ زمحشری نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرمان : بما انعمت علی کے بارے میں جائز ہے کہ یہ قسم ہو اس کا جواب محذوف ہو تقدیر کلام یہ ہوا قسم بانعامک علی بالمغفرۃ لانوبن۔ فلن اکون ظھیراً للمجرمین یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفقت و مہربانی کا سوال ہے، گویا عرض کی : اے میرے رب ! تو نے مجھ پر مغفرت کی صورت میں جو انعام کیا ہے اس کے وسیلہ سے مجھے محفوظ رکھ، اگر تو نے مجھے محفوظ رکھا تو میں مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ مجرمین کی مدد سے مراد یا تو فرعون کی صحبت، اس کی جماعت میں شامل ہونا اور اس کے لشکر میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ آپ اس کے ساتھ اسی طرح سوار ہوا کرتے تھے جس طرح بچہ والد کے ساتھ ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ابن فرعون کہا جاتا یا ایسی مدد ہے جو جرم اور گناہ کی طرف لے جائے، جس طرح اسرائیلی کی مدد جو اسے قتل کی طرف لیگئی جس کا قتل آپ کے لئے حلال نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارادہ کیا اگرچہ میں نے اس قتل میں غل طی کی ہے جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا پھر بھی میں مسلمان کی مجرم کے خلاف مدد کو ترک کرنے والا نہیں۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی مومن تھا اور مسلمان کی مدد تمام شریعتوں میں واجب ہے۔ بعض روایات میں ہے : وہ اسرائیلی کا فر تھا اس کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے انہ من شیعۃ وہ اسرائیلی تھا دین میں مواففقت کا ارادہ نہیں کیا اسی وجہ سے آپ کو شرمندگی ہوئی کیونکہ آپ نے کافر کے خلاف کافر کی مدد کی تھی۔ تو فرمایا : لا اکون بعدھا ظہیرا للکافرین ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ خبر نہیں بلکہ دعا ہے اس کا معنی ہوگا، اے میرے رب مجھے مجرموں کا مددگار نہ بنا۔ فراء نے کہا : معنی ہے میں کبھی بھی مجرمین کا مددگار نہیں بنوں گا، یہ گمان کیا کہ اس کا یہ قول حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : اس کا خبر کے معنی میں ہو زیادہ مناسب ہے اور سیاق کلام کے زیادہ مشابہ ہے جس طرح یہ جملہ کہا جاتا ہے : لاعصیک لانک انعمت علی میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا کیونکہ تو نے مجھ پر انعام کیا ہے۔ حضرت ابن عباس کا حقیقت میں یہ قول ہے نہ کہ وہ جو فراء نے بیان کیا ہے کیونکہ حضرت ابن عباس نے کہا : انہوں نے استثناء نہ کی تو دوسرے دن ہی آزمائش میں ڈال دیئے گئے استثناء دعا میں نہیں ہوتی یہ نہیں کہا جاتا : اللھم اغفرلی ان شئت اے اللہ ! مجھے بخش دے اگر تو چاہے۔ سب سے تعجب والی چیز ہے کہفرائنیحضرت ابن عباس سے یہ روایت کی پھر ان سے قول کی حکایت کی۔ میں کہتا ہوں : یہ معنی سورة نمل میں ملخص مبین گزر چکا ہے کہ یہ خبر ہے دعا نہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے استثناء نہ کی تو انہیں ایک دفعہ پھر آزمائش میں ڈالا گیا یعنی انہوں نے یہ نہ کہا : فلن اکون انشاء اللہ یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (1) : ولاترکنوا الی الذین ظلموا (ہود : 113) مسئلہ نمبر 2۔ سلمہ بن نبی ط نے کہا، عبدالرحمن بن مسلم نیضحاک کی طرف اہل بخاری کے عطیات بھیجے اور کہا : انہیں عطا کردیں۔ انہوں نے کہا : مجھے معاف رکھو، وہ لگاتار معذرت کرتے رہے یہاں تک کہ عبدالرحمن نے انہیں اس ذمہ داری سے بری کردیا۔ ان سے کہا گیا : تم پر کیا حرج تھا کہ تم وہ عطیات انہیں دے دیتے اور ان کے حق میں کچھ کمی نہ کرتے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں ظالموں کی کسی بھی چیز میں کوئی مدد کروں۔ عبداللہ بن ولید و صافی نے کہا میں نے عطاء بن ابی رباح سے کہا، میرا ایک بھائی ہے وہ اپنے قلم سیرزق کماتا ہے جو مال خزانہ میں آتا ہے اور جو نکلتا ہے اس کا حساب رکھتا ہے اس کے عیال بھی ہیں اگر وہ اس ذمہ داری کو چھوڑے تو محتاج ہوجائے اور مقروض ہوجائے۔ پوچھا : سردار کون ہے ؟ میں نے جواب : دیا خالد بن عبداللہ قسری۔ فرمایا : کیا تو وہ نہیں پڑھتا جو عبدصالح کہتا ہے : بما انعمت علی فلن اکون ظھیراً للمجرمین حضرت ابن عباس نے کہا : انہوں نے انشاء اللہ نے کہی تو انہیں دوبارہ امتحان میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی، تیرا بھائی ان کی مدد نہیں کرتا اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے۔ عطاء نے کہا : کسی کے لئے بھی حلال نہیں کہ وہ ظالموں کی مدد کرے اس کے لئے نہ حساب کتاب لکھے اور نہ ہی اس کی سنگت اختیار کرے اگر اس نے اس میں سے کوئی بھی عمل کیا تو وہ ظالموں کا مددگار ہوجائے گا۔ حدیث طیبہ میں ہے :” قیامت کے روز ایک منا دی کرنے والا ندا کرے گا۔ ظالم کہاں ہیں ؟ ظالموں کی مشابہت اختیار کرنے والے کہاں ہیں ؟ اور ظالموں کے مددگار کہاں ہیں ؟ یہیں تک کہ جس نے ان کی دوات کی روشنائی کو درست کیا یا ان کے لئے قلم چھیلی تو انہیں لوہے کے ایک تابوت میں جمع کیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :” جو آدمی کسی مظلوم کے ساتھ چلاتا کہ اس کے ظلم کیخلاف اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے قدم صراط پر ثبت فرما دے گا جس روز قدم پھسل جائیں گے اور جو آدمی ظالم کے ساتھ چلاتا کہ اس کے ظلم پر اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اس کے قدموں کو پھسلا دیگاجس روز قدم پھسل جائیں گے۔ “ حدیث طیبہ میں ہے : ” جو ظالم کے ساتھ چلا تو اس نے جرم کیا۔ “ ظالم کے اتھ چلنا جرم نہیں مگر اس صورت میں جب وہ اس کی مدد کرے کیونکہ اس نے ایسے امر کا ارتکاب کیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا : ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدہ : 2)
Top