Al-Qurtubi - Aal-i-Imraan : 97
فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ
فِيْهِ : اس میں اٰيٰتٌ : نشانیاں بَيِّنٰتٌ : کھلی مَّقَامُ : مقام اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم وَمَنْ : اور جو دَخَلَهٗ : داخل ہوا اس میں كَانَ : ہوگیا اٰمِنًا : امن میں وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے عَلَي : پر النَّاسِ : لوگ حِجُّ الْبَيْتِ : خانہ کعبہ کا حج کرنا مَنِ : جو اسْتَطَاعَ : قدرت رکھتا ہو اِلَيْهِ : اس کی طرف سَبِيْلًا : راہ وَمَنْ : اور جو۔ جس كَفَرَ : کفر کیا فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ غَنِىٌّ : بےنیاز عَنِ : سے الْعٰلَمِيْنَ : جہان والے
اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے۔ جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پالیا۔ اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہل عالم سے بےنیاز ہے
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین “۔ اس میں نو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وللہ “ اس میں لام ایجاب والزام کے لئے ہے پھر اسے ارشاد باری تعالیٰ ” علی “ کے ساتھ مؤکد کیا، یہ عربوں کے نزدیک الفاظ وجوب کی تاکید لگانے والے حروف میں سے ہے، پس جب کوئی عربی یہ کہے : لفلان علی کذا تو تحقیق اس نے اسے مؤکد کردیا اور اپنے اوپر واجب کرلیا، تو اللہ تعالیٰ نے بلیغ ترین الفاظ وجوب کے ساتھ حج کا ذکر کیا اپنے حق کی تاکید لگاتے ہوئے اور اس کی حرمت کی تعظیم کرتے ہوئے اور اس کے فرض ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اور یہ ارکان اسلام میں سے ایک ہے اور یہ ساری عمر میں صرف ایک بار واجب ہوتا ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا ہے : یہ ہر پانچ سال میں ایک بار واجب ہوتا ہے اور انہوں نے اس بارے میں حدیث بیان کی ہے اور اسے حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف منسوب کیا ہے اور وہ حدیث باطل ہے صحیح نہیں ہے اور ان کی وجوہ (اور دلائل) میں اجماع مدافعت کرتا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں حضرت سفیان ثوری نے علاء بن مسیب سے، انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضرت سعید خدری ؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” رب کریم فرماتا ہے بلاشبہ میں نے اپنے بندے کو وسیع اور وافر رزق عطا فرمایا ہے اور اس نے ہر چار سال میں میری طرف محروم کے لئے کوئی شے نہیں لوٹائی “۔ یہ علاء بن مسیب بن رافع کاہلی کوفی کی مشہور حدیث ہے اور آپ محدثین کی اولاد میں سے ہیں اور ان سے کئی ایک روایت کیا ہے، ان میں سے بعض نے پانچ سال کا ذکر کیا ہے اور بعض نے سند اس طرح بیان کی ہے، عن العلاء عن یونس بن خباب عن ابی سعید، علاوہ ازیں بھی اس میں اختلاف ہے۔ اور ملاحدہ نے حج کا انکار کیا ہے : چونکہ اس میں کپڑے اتار دیئے جاتے ہیں اور یہ حیاء کے خلاف ہے اور سعی کرنا ہے اور یہ وقار کو ختم کردیتی ہے اور بلامقصد کنکریاں مارنا یہ خلاف عقل ہے، پس انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حج کے یہ تمام افعال باطل ہیں، کیونکہ وہ ان کی حکمت اور علت کو نہیں پہچان سکے اور وہ اس سے جاہل ہیں کہ مولی کی اپنے بندے کے ساتھ یہ شرط نہیں کہ وہ اسے ان تمام افعال کا مقصود اور مدعی بھی سمجھائے گا جس کا وہ اسے حکم دے گا اور نہ ہی یہ شرط ہے کہ بندہ ہر اس فعل کے فائدہ سے آگاہ ہو جس کا وہ مکلف ہے، بلکہ اس پر تو اطاعت کرنا متعین ہوجاتا ہے اور فائدہ کا مطالبہ اور مقصود کے بارے سوال کئے بغیر پیروی کرنا لازم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے حضور نبی مکرم ﷺ اپنے تلبیہ میں یہ الفاظ کہتے تھے۔ لبیک حقا حقا تعبدا ورقا لبیک الہ الحق۔ (1) (ابن ماجہ، کتاب التلبیہ، حدیث نمبر 2910، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ائمہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا : (آیت) ’ ایھا الناس قد فرض اللہ علیکم الحج فحجوا “۔ (اے لوگو ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے پس تم حج کرو) تو ایک آدمی نے عرض کی : یارسول اللہ ‘ ﷺ کیا ہر سال ؟ تو آپ ﷺ خاموش رہے، یہاں تک کہ اس نے تین بار یہ سوال کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوقلت نعم لوجبت ولما استطعتم “۔ (اگر میں کہہ دیتا ہاں تو یقینا وہ (ہرسال) واجب ہوجاتا اور پھر تم اس کی استطاعت نہ رکھتے) پھر آپ ﷺ نے فرمایا :” تم مجھے اس (شے) کے بارے چھوڑ دو جو میں تمہارے لئے چھوڑ دوں کیونکہ تم سے پہلے لوگ کثرت سے سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف رکھنے کے سبب ہی ہلاک اور برباد ہوئے ہیں، پس جب میں تمہیں کسی شے کے بارے میں حکم دوں تو تم اسے بجا لاؤ جتنی تم استطاعت رکھتے ہو اور جب میں تمہیں کسی شے سے منع کر دوں تو تم اسے چھوڑ دو ۔ ‘ یہ الفاظ مسلم کے ہیں، اس حدیث نے یہ وضاحت کردی ہے کہ جب خطاب مکلفین پر کسی شے کی فرضیت کے بارے ان کی طرف متوجہ ہو تو اسے ایک بار کرنا ہی کافی ہوتا ہے اور وہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا، الاستاذ ابو اسحاق الاسفرائینی وغیرہ نے اس سے اختلاف کیا ہے، اور یہ ثابت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کو آپ کے اصحاب نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ کیا ہمارا حج ہمارے اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں بلکہ یہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ “ اور یہ ان کے رد کے بارے میں نص ہے جنہوں نے یہ کہا ہے۔ (حج) ہر پانچ سال میں ایک بار واجب ہوتا ہے، حالانکہ حج عربوں کے نزدیک معلوم اور ان میں مشہور تھا اور یہ ان اعمال میں سے تھا جن میں وہ اپنی منڈیوں، اپنی طاعت وفرمانبرداری اور اپنے دین ابراہیمی پر قائم رہنے میں رغبت اور دلچسپی رکھتے تھے، پس جب دین اسلام آیا تو انہیں اس کے بارے خطاب کیا گیا جسے وہ جانتے تھے اور وہ شے ان پر لازم کی گئی جسے وہ پہچانتے تھے، اور حضور نبی مکرم ﷺ نے فرض حج سے پہلے حج ادا فرمایا (1) (ابن ماجہ، باب حجۃ رسول اللہ ﷺ ، حدیث نمبر 3066، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور آپ ﷺ نے عرفات میں وقوف کیا اور آپ ﷺ نے حضرت ابراہیم کی شریعت اور دین میں کوئی تبدیلی نہ کی جسے انہوں نے تبدیل کرلیا تھا، جس وقت قریش مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے : ہم اہل حرم ہیں ہم اس سے نہیں نکلیں گے اور ہم مذہب میں بڑے سخت ہیں جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔ میں کہتا ہوں : جو میں جانتا ہوں اس میں عجیب ترین یہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ہجرت سے پہلے دو بار حج ادا فرمایا اور آپ سے اس کے سبب فرض ساقط ہوگیا، کیونکہ آپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ندا پر لبیک کہی جب انہیں یہ کہا گیا۔ (آیت) ” واذن فی الناس بالحج “۔ ترجمہ : آپ لوگوں میں حج کے بارے اعلان کردیں۔ ال کیا الطبری نے کہا ہے : یہ بعید ہے، کیونکہ جب آپ ﷺ کی شریعت میں یہ موجود ہے (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت “۔ پس آپ کی شریعت میں حکم خطاب کے ساتھ آپ پر اس کا واجب ہونا ضروری ہے، اور اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے خطاب انہیں کیا ہے جنہوں نے حج ادا نہیں کیا، یہ ایسا فیصلہ اور تخصیص ہے جس پر کوئی دلیل نہیں، اور اس پر یہ لازم آتا ہے کہ اس خطاب کے ساتھ اس پر حج واجب نہ جس نے دین ابراہیمی کے مطابق حج کرلیا اور یہ حقیقت سے انتہائی بعید ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) کتاب وسنت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حج کی ادائیگی علی التراخی واجب ہوتی ہے نہ کہ علی الفور، یہی حضرت امام مالک کا مذہب ہے جو ابن خویز منداد نے ذکر کیا ہے اور یہی امام شافعی اور امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علہیم کا قول ہے اور امام ابو یوسف (رح) سے بھی ایک روایت اسی طرح ہے اور متاخرین مالکیہ میں سے بعض اہل بغداد نے یہ کہا ہے کہ اس کی ادائیگی علی الفور واجب ہوتی ہے اور اس پر قدرت رکھتے ہوئے اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے اور یہی داؤد کا قول ہے۔ اور صحیح پہلا قول ہے کیونکہ سورة حج میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالا “۔ (الحج : 27) ترجمہ ؛ اور اعلان عام کر دو لوگوں میں حج کا وہ آئیں گے آپ کے پاس یاپیادہ۔ اور سورة حج مکیہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت “۔ الآیہ۔ اور یہ سورة غزوہ احد کے سال 3 ھ میں مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے 12 ھ تک حج ادا نہیں فرمایا : رہی سنت ! تو ضمام بن ثعلبہ سعدی کی حدیث ہے جو کہ بنی سعد بن بکر سے تھے وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ سے اسلام کے بارے سوال کیا تو آپ ﷺ نے کلمہ شہادت، نماز، زکوۃ روزہ اور حج کا ذکر فرمایا۔ اسے حضرت ابن عباس ؓ (2) صحیح بخاری، باب ماجاء فی العلم وقولہ وقولہ تعالیٰ قل رب زدنی علما، حدیث نمبر 61، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت انس ؓ نے روایت کیا ہے اور ان تمام میں حج کا ذکر ہے اور یہ کہ وہ فرض قرار دیا گیا ہے اور حضرت انس ؓ کی حدیث اپنے سیاق کے اعتبار سے احسن اور اتم ہے۔ اور اس کے فرض ہونے کے وقت میں اختلاف ہے، سو بعض نے کہا ہے 5 ھ، بعض نے کہا ہے 7 ھ اور بعض نے کہا ہے اس کا وقت 9 ھ ہے اور ابن ہشام نے ابوعبیدہ الواقدی سے جنگ احزاب سے واپسی کے بعد غزوہ خندق کا سال ذکر کیا ہے۔ ابن عبدالبر نے بیان کیا ہے : اس بات پر دلیل کہ حج کی ادائیگی علی التراخی واجب ہے اس پر اجماع علماء ہے کہ حج پر قدرت رکھنے والا فاسق نہیں جبکہ وہ اسے ایک یا دو سال یا اسی طرح کی کچھ مدت موخر کر دے اور یہ کہ جب استطاعت رکھنے کے کئی سال بعد جب اس نے حج ادا کردیا تو تحقیق اس نے وہحج اپنے وقت میں ہی ادا کیا اور تمام کے نزدیک وہ اس آدمی کی طرح نہیں جس کی نماز فوت ہوجائے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا اور پھر نکلنے کے بعد وہ اسے قضا کرے اور نہ اس کی طرح جس نے اپنا حج فاسد کردیا ہو اور پھر وہ اس کی قضا کرے، پس جب علماء نے اس پر اجماع کرلیا کہ جس نے اپنی استطاعت کے وقت سے کئی سال بعد حج کیا اسے یہ نہیں کہا جائے گا : تو اسے قضا کرنے والا ہے جو تجھ پر واجب تھا، تو ہم نے یقینا جان لیا کہ حج کے وقت میں وسعت رکھی گئی ہے اور یہ کہ یہ علی التراخی واجب ہوتا ہے نہ کی علی الفور، ابو عمر ؓ نے کہا ہے : جس نے بھی بالتراخی کا قول کیا ہے وہ اس بارے میں کوئی حد بیان نہیں کرتا، مگر صرف یہ کہ سحنون سے روایت ہے کہ ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو اتنی استطاعت پاتا ہے جس کے ساتھ وہ حج کرسکتا ہے اور پھر وہ اس پر قدرت رکھنے کے باوجود بہت سے سالوں تک اسے مؤخر دیتا ہے کیا حج میں اس تاخیر کے سبب اسے فاسق کہا جائے گا اور اس کی شہادت رد کردی جائے گی ؟ تو انہوں نے فرمایا : نہیں اگرچہ اس کی عمر کے ساٹھ سال گزر جائیں، البتہ جب اس کی عمر ساٹھ برس سے تجاوز کر جائے گی تو اسے فاسق قرار دیا جائے گا اور اس کی شہادت رد کردی جائے گی، یہ توقیف اور حد ہے اور شرع میں حدود صرف اسی سے اخذ کی جاتی ہیں جسے ان کی وضاحت کا اختیار ہو۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اور اسے ابن خویز منداد نے ابن قاسم سے بیان کیا ہے، ابن قاسم وغیرہ نے کہا ہے : اگر اس نے حج کو ساٹھ برس کی عمر تک مؤخر کیا تو وہ گنہگار نہ ہوگا اور اگر اسے ساٹھ سال کی عمر کے بعد بھی مؤخر کیا تو اسے گنہگار قرار دیا جائے گا کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا (1) (ابن ماجہ، باب العمل والاجل، حدیث نمبر 4225، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، روایۃ بالمعنی) میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہیں اور وہ کم ہیں جو اس سے تجاوز کریں گے “ تو گویا اس عشرے میں اس پر خطاب تنگ ہوجاتا ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے : بعض لوگوں (جیسا کہ سحنون وغیرہ) نے حضور نبی مکرم ﷺ کے ارشاد سے استدلال کیا ہے : معترک امتی بین الستین الی السبعین وقل من یجاوز ذالک (میری امت کی عمریں ساٹھ برس سے ستر برس تک کے درمیان ہیں اور وہ قلیل ہیں جو اس سے تجاوز کریں گے) اور اس میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے، کیونکہ یہ ایسا کلام ہے جو آپ نے اپنی امت کی اغلب عمروں کے بارے میں بیان فرمایا ہے۔ اگر حدیث صحیح ہے اور اس میں ستر برس تک توسیع پر دلیل موجود ہے، کیونکہ اغلبا ایسا ہی ہے اور یہ مناسب نہیں ہے اس جیسی کمزور تاویل کے ساتھ اس کو بالیقین فاسق قرار دیا جائے جس کی عدالت وامانت بالکل صحیح ہو۔ وباللہ التوفیق۔ مسئلہ نمبر : (3) علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت “۔ کے ساتھ خطاب عام ہے اور اس کا اطلاق تمام پر ہے، ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ” اگرچہ لوگوں نے مطلق عمومات میں اختلافات کیا ہے مگر انہوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت تمام لوگوں مردوں اور عورتوں پر محمول ہے، سوائے صغیر (نابالغ) بچوں کے کیونکہ وہ بالاجماع اصول تکلیف سے خارج ہیں اور اسی طرح غلام بھی اس میں داخل نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد نے انہیں مطلق عموم سے خارج کردیا ہے (آیت) ” من استطاع الیہ سبیلا “۔ اور غلام قدرت نہیں رکھتا، کیونکہ آقا اسے اس عبادت سے اپنے حقوق کی وجہ سے روکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حق پر آقا کے حق کو بندوں کے ساتھ نرمی اور ان کی مصلحت کے لئے مقدم کیا ہے اور اس میں امت اور ائمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، پس ہم اس کے ساتھ تعریف نہیں کریں گے جسے ہم جانتے نہیں اور اس پر اجماع کے سوا کوئی دلیل نہیں ہے۔ “ ابن منذر نے کہا ہے : عام اہل علم نے اس پر اجماع کیا ہے سوائے ان کے جوان سے جدا اور الگ رہے اور وہ ان میں سے ہیں جن کے اختلاف کی کوئی قدر و منزلت نہیں، کہ بچہ جب اپنی حالت صغر میں حج کرے اور غلام جب اپنی غلامی کی حالت میں حج کرے، پھر وہ بچہ بالغ ہوئے اور غلام آزاد ہوجائے تو بلاشبہ ان دونوں پر حج اسلام فرض ہوگا جب وہ اس کی قدرت اور استطاعت پالیں گے۔ اور ابو عمر (رح) نے کہا ہے : داؤد نے فقہاء امصار ائمہ اثر کی غلام کے بارے میں مخالفت کی ہے اور وہ یہ کہ ان کے نزدیک وہ حج کا مخاطب ہے اور وہ جمہور علماء کے نزدیک عام خطاب سے خارج ہے جو اس ارشاد میں ہے (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت، من استطاع الیہ سبیلا “۔ اور اس میں دلیل اس میں تصرف کی قدرت نہ ہونا ہے (1) (ابن ماجہ، کتاب الطلاق حدیث نمبر 2030، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ بھی کہ غلام کے لئے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر حج کرنا جائز نہیں ہوتا، جیسا کہ وہ جمعہ کے خطاب سے خارج ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ “۔ الآیہ (جمعہ 9) سوائے چند کے، عام علماء کے نزدیک یہی حکم ہے اور اسی طرح وہ ایجاب شہادت کے خطاب سے خارج ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” ولایاب الشھدآء اذا ما دعوا “۔ (البقرہ : 282) ترجمہ ؛ اور نہ انکار کریں گواہ جب وہ بلائیں جائیں) پس اس میں بھی غلام داخل نہیں اور جس طرح بچے کا نکلنا اس قول سے جائز ہے (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت “۔ حالانکہ وہ بھی الناس میں سے ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بچے سے قلم اٹھالیا گیا ہے، اور عورت اس ارشاد سے خارج ہے۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ “۔ حالانکہ یہ ان میں سے ہے جنہیں اسم ایمان شامل ہے اور اسی طرح مذکورہ خطاب سے غلام بھی خارج ہے اور یہ حجاز، عراق، شام اور افریقہ کے فقہاء کا قول ہے اور اس کی مثل سے ان پر تاویل کتاب کی تحریف جائز نہیں۔ اور اگر کہا جائے : جب غلام مسجد حرام میں حاضر ہوا اور اس کا آقا اسے اجازت بھی دے دے تو پھر حج کیونکر الازم نہ ہوگا ؟ تو جوابا یہ کہا جائے گا کہ یہ سوال اجماع پر ہے اور بسا اوقات وہ اس کی علت بیان نہیں کرتا، لیکن جب یہ حکم علی الاجماع ثابت ہے تو ہم نے اس کے ساتھ اس پر استدلال کیا کہ غلامی کی حالت میں اس کے حج کو حج اسلام شمار نہ کیا جائے گا اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس کسی بچے نے حج کیا پھر اس نے حج کی استطاعت پالی تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوسرا حج ادا کرے اور جس کسی اعرابی نے حج کیا پھر اس نے ہجرت کی تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوسرا حج ادا کرے اور جس کسی غلام نے حج کیا پھر اسے آزاد کردیا گیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوسرا حج ادا کرے۔ “ ابن عربی نے کہا ہے : ” ہمارے بعض علماء نے نرمی سے کام لیا ہے اور کہا ہے : بلاشبہ غلام پر حج ثابت (لازم) نہیں اگر آقا اسے اجازت دے دے کیونکہ وہ فی الاصل کافر تھا اور کافر کا حج کسی شمار میں نہیں اور پھر جب اس پر غلامی کی ضرب ہمیشہ کے لئے لگا دی گئی تو وہ حکم حج کا مخاطب ہی نہ رہا۔ یہ تین وجوہ سے فاسد ہے پس تم انہیں جان لو : (1) بلاشبہ ہمارے نزدیک کفار فروعات شرعیہ کے مخاطب ہیں اور اس بارے میں امام مالک کے قول میں کوئی اختلاف نہیں۔ (2) تمام عبادات نماز، روزہ وغیرہ اس پر لازم ہوتی ہیں اس کے باوجود کہ وہ غلام ہے اور اگر وہ یہی فعل اپنی حالت کفر میں کرے تو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، پس ثابت ہوا کہ حج بھی انہیں کی مثل ہے۔ (3) یہ کہ کفر اسلام کے سبب ختم ہوگیا تو اس کے ساتھ ہی اس کے حکم کا ختم ہونا بھی ثابت ہے۔ پس یہ واضح ہوگیا کہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس میں معتمد علیہ آقا کے حقوق کا مقدم ہونا ہے۔ واللہ الموفق۔ مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” من استطاع الیہ سبیلا “۔ اس میں من بدل بعض من الکل ہونے کی بنا پر محل جر میں ہے، یہ اکثر نحویوں کا قول ہے۔ اور کسائی نے یہ اجازت بھی دی ہے کہ من حج البیت کے سبب محل رفع میں ہو اور تقدیر کلام یہ ہو ” ان یحج البیت من ‘۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ شرط ہے اور استطاع محل جزم میں ہے اور جواب شرط محذوف ہے یعنی من استطاع الیہ سبیلا فعلیہ الحج۔ دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ کیا حج ہر سال فرض ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں بلکہ ؟ صرف ایک بار حج کرنا فرض ہے۔ “ پھر عرض کی گئی ! یہ سبیل کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” زاد راہ اور سواری “ اور انہوں نے اسے حضرت انس، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عمر، حضرت جابر، حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت عمرو بن شعیب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے اور انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “۔ بیان فرمایا کہ اس کے بارے پوچھا گیا تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تو اونٹ کی پشت پالے “۔ اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کو ابن ماجہ نے بھی اپنی سنن میں نقل کیا ہے اور امام ابو عیسیٰ ترمذی (رح) نے وہ اپنی جامع میں ذکر کی ہے اور کہا ہے : حدیث حسن “۔ یہ حدیث حسن ہے اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب زاد راہ اور سواری کا مالک ہو تو اس پر حج واجب ہے اور ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی قوت حفظ کے بارے میں بعض اہل حدیث نے کلام کیا ہے (1) (ابن ماجہ، باب مایوجب الحج، حدیث نمبر 2886، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ان دونوں نے اسے وکیع سے اور دارقطنی نے سفیان بن سعید سے اسے نقل کیا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ ابراہیم بن یزید نے محمد بن عباد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : ایک آدمی حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں کھڑا ہوا اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کون سی شے حج کو واجب کردیتی ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” زاد راہ اور سواری پر قدرت “ عرض کی : یارسول اللہ ﷺ حاجی کون ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : غبار آلود بالوں والا جس نے خوشبو کا استعمال ترک کردیا ہو۔ “ عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ حاجی کون ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : غبار آلود بالوں والا جس نے خوشبو کا استعمال ترک کردیا ہو ، “ اور پھر ایک دوسرا کھڑا ہوا اور عرض کی : یارسول اللہ ﷺ حج کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” العج والثج “۔ وکیع نے کہا ہے : عج سے مراد بلند آواز سے تلبیہ کہنا ہے اور ثج سے مراد قربانی کا جانور ذبح کرنا ہے، یہ الفاظ ابن ماجہ کے ہیں، اور جنہوں نے کہا ہے کہ زاد راہ اور سواری پر قادر ہونا حج واجب ہونے کے لئے شرط ہے ان میں حضرت عمر بن خطاب اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن جبیر، حضرت عطاء اور حضرت مجاہد رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں۔ اور یہی موقف حضرت امام شافعی، حضرت ثوری، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب حضرت امام احمد، حضرت اسحاق، حضرت عبدالعزیز بن ابی سلمہ اور حضرت ابن حبیب رحمۃ اللہ علہیم نے بھی اپنایا ہے اور اسی کی مثل عبدوس نے سحنون سے ذکر کیا ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : استطاعت کی دو صورتیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے بدن کے ساتھ قدرت رکھتا ہو اور وہ اتنا مال پاتا ہو جو اسے حج کے لئے پہنچا سکے گا اور دوسری یہ ہے کہ وہ اپنے بدن میں کمزور ہو اور اپنی سواری پر ثابت نہ رہ سکتا ہو اور وہ ایسے آدمی پر قادر ہو جو اس کی اطاعت وپیروی کرتا ہو (اس میں کہ) جب وہ اسے حکم دے کہ وہ اس کی جانب سے اجرت کے ساتھ اور بغیر اجرت کے حج کرے، (یعنی اپنی جانب سے کسی دوسرے کو حج پر بھیج سکتا ہو) جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ رہا وہ جو اپنے بدن کے ساتھ استطاعت اور قدرت رکھتا ہے تو اس پر کتاب اللہ کے اس ارشاد کے ساتھ (آیت) ” من استطاع الیہ سبیلا “۔ حج فرض لازم ہوتا ہے اور جو استطاعت بالمال رکھتا ہے تو اس پر سنت کے مطابق حج فرض لازم ہوتا ہے جیسا کہ حدیث خثعمیہ آگے آرہی ہے۔ اور مستطیع بنفسہ سے مراد وہ قوی اور طاقتور آدمی ہے جسے سواری پر سوار ہونے کی مشقت کے بغیر کوئی مشقت لاحق نہ ہو، کیونکہ یہ آدمی جب زاد راہ اور سواری کا مالک ہو تو اس کی ذات پر فرض حج لازم ہوجاتا ہے اور بلاشبہ زاد راہ اور سواری دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے ایک کے نہ کی صورت میں اس سے حج کا فرض ساقط ہوجاتا ہے، پس اگر وہ پیدل چلنے پر قادر ہو تو وہ زاد راہ پا لے یا راستے میں زاد راہ کمانے پر قادر ہو اپنے داروبار اور پیشہ سے مثلا نگینے اور منکے بیچنا اور حجامۃ (پچھ لگانا) یا اسی طرح کا کوئی کام، تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ پیدل حج کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، امام شافعی (رح) نے کہا ہے : مرد عورت کے مقابلہ میں کم معذور ہوتا ہے، کیونکہ وہ زیادہ قومی اور طاقتور ہوتا ہے اور یہ حکم ان کے نزدیک بطریق استحباب ہے نہ کہ بطریق وجوب پس اگر وہ راستے میں لوگوں سے مانگنے کے سبب زاد راہ پر قادر ہو تو اس کے لئے حج کرنا مکروہ ہے کیونکہ وہ لوگوں پر بوجھ اور بھاری ہوجائے گا۔ اور امام مالک بن انس ؓ نے کہا ہے : جب وہ چلنے پر قادر ہو اور زاد راہ پا لے تو اس کے لئے حج کرنا فرض ہے اور اگر وہ سواری کا مالک نہ ہو، البتہ وہ راستے میں چلنے کی قدرت رکھتا ہو تو اس کے بارے غور وفکر کی جائے گی اور اگر وہ زاد رہا کا مالک ہو تو اس پر فرض حج کی ادائیگی واجب ہے اور اگر وہ زاد راہ کا مالک نہ ہو لیکن وہ راستے میں اپنی حاجت کے مطابق کمانے کی قدرت رکھتا ہو تو اس کے بارے بھی غور وفکر کی جائے گی اور اگر وہ ایسے اہل مرؤت میں سے ہو جو بذات خود کمائی نہیں کرسکتے تو اس پر واجب نہ ہوگا اور اگر وہ ان میں سے ہو جو تجارت یا کسی کاروبار کے ذریعہ اپنی کفایت اور ضرورت پوری کرسکتا ہے تو اس پر فرض حج لازم ہے اور اسی طرح اگر اس کی عادت لوگوں سے سوال کرنا اور مانگنا ہو تو اس پر بھی فرض حج لازم ہے۔ اور اسی طرح امام مالک (رح) نے چلنے کی طاقت رکھنے والے پر حج کو واجب کیا ہے، اگرچہ اس کے ساتھ زاد راہ اور سواری نہ بھی ہو، اور یہی حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ شعبی اور عکرمہ کا قول ہے، اور ضحاک نے کہا ہے : اگر وہ جوان، طاقتور اور صحت مند ہو اور اس کا مال نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے کھانے کے عوض اپنے کھانے کے عوض اپنے آپ کو اجرت پر دے دے یا اپنے کسی بیٹے کو یہاں تک کہ وہ اپنا حج پورا کرلے۔ تو حضرت مقاتل نے انہیں کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس کا مکلف بنایا ہے کہ وہ بیت اللہ شریف کی طرف پیدل چل کر آئیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : اگر ان میں سے کسی کی مکہ مکرمہ میں میراث ہو کیا وہ اسے چھوڑ دے گا ؟ بلکہ وہ تو اس کی طرف چلے گا اگرچہ سرین کے بل گھسٹ کر ہی آنا پڑے، اسی طرح اس پر حج بھی واجب ہوگا۔ اور انہوں نے اس قول باری تعالیٰ سے استدلال کیا ہے (آیت) ” واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالا “۔ اس میں رجالا بمعنی مشاۃ ہے یعنی پیدل چلتے ہوئے انہوں نے کہا ہے : کیونکہ فرائض اعیان میں سے حج عبادات بدنیہ میں سے ہے، لہذا یہ واجب ہے کہ اس کی واجب ہونے کی شرائط میں سے نہ زاد راہ ہو اور نہ سواری ہو جیسا کہ نماز اور روزہ وغیرہ۔ انہوں نے کہا : اگر زاد راہ اور سواری کے بارے خوزی کی حدیث صحیح ہے تو ہم نے اسے عوام الناس پر محمول کیا ہے اور ان میں سے اکثر دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے ہیں اور مطلق کلام کو غالب احوال پر محمول کرنا شریعت میں بہت زیادہ ہے اور کلام عرب اور اس کے اشعار میں وافر ہے۔ ابن وہب، ابن القاسم اور اشہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس میں لوگ اپنی طاقت اپنی سہولت اور اپنی مضبوطی کی مقدار پر ہیں، اشہب نے مالک کو کہا۔ کیا وہ زاد راہ اور سواری ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں قسم بخدا، وہ نہیں ہے مگر لوگوں کی طاقت کی مقدار پر کبھی آدمی زاد راہ اور سواری پاتا ہے لیکن وہ چلنے پر قدرت نہیں رکھتا اور دوسرا پیدا چلنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) جب استطاعت پائی جائے اور حج کا فرض متوجہ ہو تو کبھی ایسا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے جو حج سے روک دیتا ہے مثلا قرض خواہ اسے نکلنے سے روک دے یہاں تک کہ وہ قرض ادا کر دے، اور اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے یا اس کے بچے ہوں اس پر ان کا نفقہ واجب ہوتا ہے تو اس پر حج لازم نہیں ہوگا یہاں تک کہ ان کے لئے اتنا نفقہ ہو جو اس کے جانے سے لے کر واپس لوٹنے تک غائب رہنے کی مدت کے لئے کافی ہو، کیونکہ اہل و عیال کا یہ خرچہ تو علی الفور فرض ہے اور حج علی التراخی فرض ہے، پس عیال کو مقدم کرنا اولی ہے اور حضور نبی ﷺ نے فرمایا : ” آدمی کے لئے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کر دے جس کی وہ کفالت کرتا ہے۔ “ اور اسی طرح والدین ہیں آدمی ان پر ہلاکت اور مصیبت لانے اور ان کی مہربانیوں اور شفقتوں کا عوض اور بدلہ نہ دینے سے خوفزدہ رہتا ہے پس اس کے لئے حج کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے اور اگر وہ اسے شوق و محبت اور وحشت کی وجہ سے روک لیں تو اس کی طرف توجہ نہ کی جائے گی۔ اور عورت کو اس کا خاوند روک سکتا ہے اور بعض نے کہا ہے : وہ اسے نہیں روک سکتا۔ اور صحیح قول یہی ہے کہ روکنا جائز ہے، بالخصوص جب ہم نے یہ کہا ہے کہ حج بالفور لازم نہیں ہوتا۔ اور سمندر اس کے وجوب کے مانع نہیں ہوتا جبکہ غالب گمان سلامتی کا ہو، جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے، اور وہ اپنے بارے میں یہ جانتا ہو کہ اس کا سر نہیں چکرائے گا، اور اگر اس پر غالب گمان ہلاکت یاسر چکرانے کا ہو یہاں تک کہ وہ نماز بھی معطل کر دے تو پھر نہیں۔ اور اگر وہ سواروں کی کثرت اور جگہ کی تنگی کے سبب سجدہ کرنے کی جگہ نہ پائے تو امام مالک نے کہا ہے : جب وہ رکوع و سجود کی استطاعت نہ رکھے مگر اپنے بھائی کی پشت پر تو پھر وہ اس پر سوار نہ ہوگا۔ پھر کہا : کیا وہ وہاں سوار ہو سکتا ہے جہاں وہ نماز نہ پڑھ سکے ؟ اس کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے جو نماز کو ترک کردے، اور حج ساقط ہوجاتا ہے جب راستے میں ایسا دشمن ہو جو جانوں کو ضائع کرنے کا سبب ہو یا اموال کو لوٹتا ہو جبکہ وہ کسی مخصوص دھمکی کے ساتھ دھمکائے یا وہ کسی برباد اور ہلاک کرنے والی مقدار کے ساتھ دھمکائے اور اگر دھمکی ہلاک وبرباد کرنے کی نہ ہو تو حج کے ساقط ہونے میں اختلاف ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : وہ ایک حبہ بھی نہیں دے گا اور حج کا فرض ساقط ہوجائے گا اور مانگنے والے پر حج واجب ہوتا ہے جبکہ وہ اس کی عادت ہو اور اس کا ظن غالب یہ ہو کہ وہ اسے پالے گا جو اسے عطا کرے گا اور بعض نے کا ہے اس پر واجب نہ ہوگا، اس بنا پر کہ اس میں استطاعت کی رعایت لازم ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (6) جب موانع زائل ہوجائیں اور اس کے پاس دراہم ودنانیر میں سے ایسی کوئی شے نہ ہو جس کے ساتھ وہ حج کرسکتا ہو اور اس کے پاس سامان ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ حج کے لئے اپنے سامان میں سے وہ بیچ دے جو اس حال میں بیچا جاسکتا ہے جب اس پر دین اور قرض ہو۔ اور ابن القاسم سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس کا مشکیزہ ہو اور اس کے سوا اس کا کچھ نہ ہو، کیا وہ حج اسلام کے لئے اسے بیچ دے گا اور اپنی اولاد کو چھوڑ دے گا درآنحالیکہ ان کے لئے کوئی شے نہ ہو جس کے ساھ وہ زندگی گزار سکتے ہوں ؟ انہوں نے کہا : ہاں، وہ اس پر ہے اور وہ اپنی اولاد کو صدقہ میں چھوڑ دے گا، لیکن صحیح پہلا قول ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کے لئے گناہ کے اعتبار سے یہی کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کر دے جس کی وہ کفالت کرتا ہے ، “ اور یہ امام شافعی کا قول ہے، ان کے مذہب سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ حج لازم نہیں ہوتا مگر اس کے لئے جس کے پاس اتنے اخراجات موجود ہوں جو جانے سے لے کر لوٹنے تک کافی ہوں، آپ نے یہ الاملاء میں کہا ہے : اگرچہ اس کے اہل و عیال نہ ہوں، اور بعض نے کہا ہے : رجوع کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس پر اپنے شہر کے قیام کو ترک کرنے میں کوئی بڑی مشقت نہیں ہے، کیونکہ اس میں نہ اس کے اہل ہیں اور نہ کوئی عیال اور ہر شہر (ملک) اس کے لئے وطن ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ انسان اپنے وطن سے جدائی کے سبب اسی طرح وحشت سی محسوس کرتا ہے جس طرح وہ اپنے گھر والوں کے فراق میں مضطرب رہتا ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ باکرہ عورت جب زنا کرے تو اسے کوڑے لگائے جاتے ہیں اور اسے اس کے شہر سے جلا وطن کردیا جاتا ہے چاہے وہاں اس کے اہل ہوں یا نہ ہوں۔ امام شافعی (رح) نے ” الام “ میں کہا ہے : جب آدمی کا گھر اور خادم ہو اور اس کے پاس اپنے گھر والوں کے لئے اتنا خرچہ موجود ہو جو اس کی عدم موجودگی میں ان کے لئے کافی ہوجائے تو اس پر حج لازم ہوگا، اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ آپ نے یہ اعتبار کیا ہے کہ حج کا مال خادم اور گھر سے فالتو اور زائد ہو، کیونکہ آپ نے اسے گھر والوں کے نفقہ پر مقدم کیا ہے، گویا کہ آپ نے کہا ہے : ان تمام کے بعد (اس کے پاس حج کا مال ہو) اور آپ کے اصحاب نے کہا ہے : اس پر لازم ہے کہ گھر اور خادم فروخت کر دے اور اپنے گھر والوں کے لئے گھر اور خادم کرائے پر لے اور اگر اس کے پاس ایسا سامان ہو جس کے ساتھ وہ تجارت کرتا ہو اور اس کا نفع علی الدوام اس کی ذاتی اور اہل و عیال کی کفایت کی مقدار ہو اور جب وہ اصل مال سے کچھ خرچ کر دے تو اس کا نفع مختل ہوجائے اور وہ اس کی حاجت و ضرورت کے لئے کافی نہ رہے تو کیا اصل مال سے اس پر حج لازم ہوگا یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں : پہلا قول جمہور کا ہے اور وہی صحیح اور مشہور ہے، کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر اس کی زمین ہو اس کا غلہ اسے کافی ہو رہتا ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ حج میں اصل زمین فروخت کر دے، پس اسی طرح سامان بھی ہے اور ابن شریح نے کہا ہے : وہ اس پر لازم نہ ہوگا اور وہ سامان کو باقی رکھے گا اور اس کے اصل سے حج نہیں کرے گا، کیونکہ اس پر حج اس مال سے واجب ہوتا ہے جو اس کی کفایت اور حاجت سے فالتو ہو، پس یہ گفتگو استطاعت بالبدن والمال کے بارے میں ہے۔ مسئلہ نمبر : (7) مریض اور معضوب (جس کا کوئی عضو کٹا ہوا ہو) اور العضب کا معنی کاٹنا ہوتا ہے اور اسی سے تلوار کا نام عضب رکھا گیا ہے گویا کہ جو اس حالت کو پہنچ چکا ہو کہ وہ سواری کو نہ مضبوطی سے تھامنے کی قدرت رکھتا ہو اور نہ اس پر مضبوطی سے بیٹھ سکتا ہو تو وہ اسی کی طرح ہے جس کے اعضا کاٹ دیئے گئے ہوں، جبکہ وہ کسی شے پر قدرت نہ رکھتا ہو، علماء نے ان دونوں کے حکم میں اختلاف کیا ہے اپنے اس اجماع ہے اور مریض اور معضوب دونوں میں استطاعت اور قدرت نہیں ہے۔ امام مالک (رح) نے کہا ہے : جب آدمی معضوب ہو تو اس سے حج کا فریضہ بالکل ساقط ہوجاتا ہے، چاہے وہ اس پر قادر ہو جو اس کی طرف سے مال کے عوض یا بغیر مال کے حج کرسکتا ہو اس پر حج فرض لازم نہ ہوگا، اور اگر اس پر حج واجب ہوگیا پھر اس کا کوئی عضو کاٹ دیا گیا اور وہ اپاہج ہوگیا تو اس سے حج کا فریضہ ساقط ہوجائے گا اور یہ جائز نہ ہوگا کہ اس کی زندگی میں کسی بھی اعتبار سے کوئی اس کی طرف سے حج کرے، بلکہ اگر وہ وصیت کرے کہ اس کی موت کے بعد اس کی طرف سے حج کیا جائے اور اس کے ترکہ کے تیسرے حصہ سے حج کیا جائے تو یہ نفل ہوگا، اور انہوں نے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : (آیت) ” وان لیس للانسان الا ما سعی “۔ پس اس میں یہ خبر ہے کہ اس کے لئے اس کے سوا کچھ نہیں ہے جو اس نے خود کوشش کی۔ پس جس نے کہا ہے : اس کے لئے اس کے سوا کسی اور نے سعی کی ہے تو اس نے ظاہر آیت کا خلاف کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت “۔ کے مطابق یہ استطاعت رکھنے والا نہیں ہے، کیونکہ حج سے مراد مکلف آدمی کا بذات خود بیت اللہ شریف کا قصد کرنا ہے کیونکہ یہ ایک عبادت ہے اور اس سے عاجز ہونے کے ساتھ اس میں نیابت درست نہیں جیسا کہ نماز میں (نیابت درست نہیں ہوتی) اور محمد بن منکدر نے حضرت جابر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ایک حج کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا (ایک مرنے والے کو (دوسرا) اس کی طرف سے حج کرنے والے کو اور (تیسرا) اسے بھیجنے والے کو “۔ اسے الطبرانی القاسم سلیمان بن احمد نے بیان کیا ہے اور اس طرح سند بیان کی ہے حدثنا عمرو بن حصین الدوسی قال حدثنا ابو معشر عن محمد بن المنکدر ‘۔ اور آگے انہوں نے اسے بیان کیا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : ابو معشر کا نام نجیح ہے اور وہ انکے نزدیک ضیعف راوی ہے، اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : اپاہج مریض وہ جس کا کوئی عضو کٹا ہوا ہو اور شیخ کبیر جو ایسے آدمی پر قادر ہو جو اس کی بات ماننے اور پیروی کرنے کے لئے تیار ہو جب وہ اسے اپنی طرف سے حج کرنے کا حکم دے تو وہ بھی من وجہ استطاعت رکھنے والا ہے، اور اس کی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ وہ اتنے مال پر قادر ہو کہ وہ اس کے عوض ایسے آدمی کو اجرت پر لے سکے جو اس کی طرف سے حج کرے گا کیونکہ وہ اس پر حج کا فریضہ لازم کر رہا ہے اور یہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے شیخ کبیر (انتہائی بوڑھا آدمی) کو فرمایا جو حج نہ کرسکے وہ ایک آدمی کو تیار کرے جو اس کی طرف سے حج کرے گا اور یہی موقف ثوری (رح)، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحاب، ابن مبارک، احمد اور اسحاق نے اختیار کیا ہے ،۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے آدمی پر قادر ہو جو طاعت ونیابت اس کے لئے پیش کرے اور وہ اس کی طرف سے حج کرے، پس امام شافعی (رح)، امام احمد (رح) اور ابن راہویہ (رح) کے نزدیک اس پر بھی حج لازم ہوگا، اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : صرف طاعت وپیروی پیش کرنے کے ساتھ کسی حال میں حج لازم نہیں ہوگا۔ امام شافعی (رح) نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ بنی خثعم کی ایک عورت نے حضور نبی مکرم ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ حج اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے بندوں پر فرض ہے میں نے اپنے باپ کو انتہائی بوڑھا پایا ہے وہ سواری پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا، کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں “ اور یہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا (1) (صحیح بخاری، کتاب الحج، حدیث نمبر 1417، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ایک روایت میں ہے : وہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنے اونٹ کی پیٹھ پر سکون سے بیٹھ سکے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تو اس کی طرف سے حج کر تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے باپ پر قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کردیتی ؟ “ اس نے عرض کی : جی ہاں تو آپ نے فرمایا : ” پس اللہ تعالیٰ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے (2) (ابن ماجہ باب الحج عن المیت، حدیث 2899، ایضا) پس حضور نبی مکرم ؓ نے اس بنا پر حج کو واجب قرار دیا کہ اس کی بیٹی نے اس کی اطاعت وپیروی کی اور اس نے اپنا آپ اس کے لئے پیش کیا کہ وہ اس کی طرف سے حج کرے گی، تو جب بیٹی کی پیروی کے سبب اس پر حج واجب ہے تو پھر بدرجہ اولی اتنے مال پر قادر ہونے کی صورت میں حج واجب ہوگا جس کے عوض وہ کسی کو اجرت پرلے سکتا ہے، پھر اگر وہ طاعت کے بغیر مال اس کے لئے خرچ کرے تو صحیح یہ ہے کہ اس کا قبول کرنا اس کے لئے لازم نہیں ہے اور اس کے ساتھ حج کرنا اس کی اپنی طرف سے ہوگا اور وہ اس کے لئے مال خرچ کرنے کے سبب مستطیع شمار نہ ہوگا۔ اور ہمارے علماء نے کہا ہے : خثعمیہ کی حدیث سے مقصود (حج کو) واجب کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مقصود والدین کے ساتھ حسن سلوک ان کے دینی اور دنیوی مصالح کے بارے غور وفکر اور طبعا اور شرعا ان کے لئے جانب منفعت پر ابھارنا اور برانگیختہ کرنا ہے، پس جب آپ ﷺ نے ایک عورت کے اپنے والد کے بارے میں خیر اور نیکی کی جذبات، ظاہری فرمانبرداری، رغبت صادقہ اور اسے نیکی اور ثواب پہنچانے کی حرص کو دیکھا اور یہ کہ وہ اس کے حج کی برکت سے محروم رہنے پر اظہار تاسف کر رہی ہے تو آپ ﷺ نے اسے اس طرح جواب دیا، اسی طرح آپ ﷺ نے ایک دوسری عورت کو فرمایا جس نے یہ عرض کی : میری ماں نے حج کرنے نذر مانی تھی لیکن وہ حج نہ کرسکی یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئی کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” تو اس کی طرف سے حج کر، تیری کیا رائے ہے اگر تیری ماں پر قرض ہوتا کیا تو اسے ادا کردیتی ؟ “ اس نے عرض کی : جی ہاں (3) (صحیح بخاری باب الحج والنذور۔۔۔۔۔ الخ حدیث 1720، ایضا) ۔ تو اس میں جو کچھ ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ احسانات اور مردوں کو نیکی اور خیرات کا ثواب پہنچانے کے باب سے ہے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ آپ ﷺ نے فعل حج کو قرضے کے ساتھ تشبیہ دی ہے، اور یہ بات بالاجماع ثابت ہے کہ اگر کوئی فوت ہوجائے اور اس پر قرض ہو تو اس کے ولی پر اسے اپنے مال سے ادا کرنا واجب نہیں اور اگر اس نے بطور احسان ادا کردیا تو اس کی طرف سے قرض ادا ہوجائے گا۔ اور اس میں اس پر بھی دلیل موجود ہے کہ اس حدیث میں حج اس کے باپ پر فرض نہیں جس کی تصریح اس عورت نے اپنے اس قول سے کی ہے ” لایستطیع اور جو استطاعت نہیں رکھتا اس پر حج فرض نہیں ہوتا۔ اور یہ تصریح وجوب کی نفی اور فرض کے منع کے بارے میں ہے اور یہ جائز نہیں ہوتا کہ جس کی حدیث کی ابتدا میں بالیقین نفی ہو وہی حدیث کے آخر میں ظنا ثابت ہو۔ اسے آپ کا یہ قول ثابت کر رہا ہے : فدین اللہ احق ان یقضی (پس اللہ تعالیٰ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے) کیونکہ یہ بالاجماع اپنے ظاہر پر نہیں ہے، کیونکہ بلاشبہ بندے کا قرض ادائیگی اور قضا کے زیادہ قریب ہے اور بالاجماع اسی سے ابتدا ہوتی ہے کیونکہ بندہ فقیر ہے اور اللہ تعالیٰ مستغنی ہے۔ ابن عربی (رح) نے یہی کہا ہے، ابو عمر بن عبدالبر نے ذکر کیا ہے کہ امام مالک (رح) اور ان کے اصحاب کے نزدیک خثیمیہ کی حدیث اس کی ساتھ مخصوص ہے، اور دوسروں نے کہا ہے : اس میں اضطراب ہے اور ابن وہب اور ابومصعب (رح) نے کہا ہے : یہ صرف اولاد کے حق میں ہے۔ اور ابن حبیب نے کہا ہے : یہ ایسے بوڑھے کے بارے میں ہے جسے اٹھانے والا کوئی نہ ہو اور وہ حج نہ کرسکے، حج کی رخصت کے لئے ہے اور اس آدمی کے بارے میں رخصت ہے جو فوت ہوگیا اور وہ حج نہ کرسکا، کہ اس کی طرف سے اس کا بیٹا حج کرے اگرچہ وہ اسے اس بارے میں وصیت نہ بھی کرے اور یہ اس کی طرف سے جائز ہوگا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، پس یہ معضوب اور اس کے ہم مثل کے بارے کلام ہے، اور خثعمیہ کی حدیث کو ائمہ نے نقل کیا ہے اور یہ حسن کے اس قول کی ترید کرتی ہے کہ عورت کا مرد کی جانب سے حج کرنا جائز نہیں۔ مسئلہ نمبر : (8) اور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جب مکلف کے پاس ایسی خوراک نہ ہو جسے وہ راستے میں استعمال کرے گا تو اس پر حج لازم نہیں، اور اگر اسے کوئی اجنبی ایسا مال ہبہ کرے جس کے ساتھ وہ حج کرسکتا ہو تو اسے قبول کرنا بالاجماع اس پر لازم نہیں، کیونکہ اس میں احسان کا احساس اسے لاحق ہوسکتا ہے اور اگر کسی آدمی نے اپنے باپ کو مال ہبہ کیا تو امام شافعی (رح) نے کہا ہے : اسے قبول کرنا اس کے ذمہ لازم ہے، کیونکہ آدمی کا بیٹا اس کی اپنی کمائی ہے، اس میں اس پر کوئی احسان نہیں ہے۔ اور امام مالک (رح) اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : اسے قبول کرنا اس پر لازم نہیں ہے، کیونکہ اس میں حرمت ابوت کا ساقط ہونا ہے، جب کہ کہا یہ جاتا ہے قد جزاہ وقار فاء “ تحقیق اس نے اسے جزادی اور اس نے اس کے ساتھ وفا کی۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (9) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن کفر فان اللہ عنی عن العلمین “۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اور جو کوئی فرض حج کا انکار کرے اور وہ اسے واجب نہ جانے، اور حضرت بصری (رح) وغیرہ نے کہا ہے : بیشک وہ جس نے حج کی قدرت رکھنے کے باوجود اسے ترک کردیا تو وہ کافر ہے۔ اور ترمذی نے حارث سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو آدمی مالک ہوا زاد راہ کا اور ایسی سواری کا جوا سے بیت اللہ شریف تک پہنچا سکتی ہو اور وہ حج نہ کرے تو اس پر (کوئی حرج) نہیں ہے کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر مرے اور وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرما رہا ہے (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “۔ ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اس سند کے سوا نہیں پہنچانتے اور اس کی اسناد میں کلام ہے اور ہلال بن عبداللہ مجہول راوی ہے اور حارث کو ضعیف قرار دیا جاتا ہے (1) جامع ترمذی باب ماجاء فی التغلیۃ فی ترک الحج، حدیث 740، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اسی طرح حضرت ابو امامہ اور حضرت عمر بن خطاب ؓ سے بھی مروی ہے، اور عبد خیر بن یزید نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں پر حج فرض کیا ہے جو وہاں تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں، اور جس نے نہ کیا تو اسے چاہیے کہ وہ جس حال پر چاہے مر جائے اگر چاہے تو وہ یہودی یا نصرانی ہو یا مجوسی مگر یہ کہ اس کے لئے کوئی عذر ہو بیمار ہو یا جابر سلطان (کی طرف سے کوئی رکاوٹ ہو) خبردار جان لو نہ اس کے لئے میری شفاعت میں کوئی حصہ ہے اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا “۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے حج تک پہنچا سکتا ہو اور اس نے حج نہ کیا یا اس کے پاس اتنا مال ہو جس میں زکوۃ فرض ہوتی ہے اور اس نے زکوۃ نہدی تو وہ موت کے وقت رجعت (واپسی کا سوال کرے گا “۔ تو کہا گیا : اے ابن عباس ؓ بیشک ہم تو اسے کافروں کے لئے دیکھتے رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا : میں اس بارے تم پر قرآن کریم پڑھتا ہوں : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ، ومن یفعل ذلک فاولئک ھم الخسرون “۔ وانفقوا من مارزقنکم من قبلان یاتی احدکم الموت فیقول رب لو لا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصلحین “۔ (1) (جامع ترمذی، باب ومن سورة المنافقین، حدیث 3238، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ترجمہ : اے ایمان والو ! تمہیں غافل نہ کردیں تمہارے اموال اور نہ تمہاری اولاد اللہ کے ذکر سے، اور جنہوں نے ایسا کیا تو وہی لوگ گھاٹے میں ہوں گے، اور خرچ کرلو اس رزق سے جو ہم نے تم کو دیا اس سے پیشتر کہ آجائے تم میں سے کسی کے پاس موت تو (اس وقت) وہ کہنے لگے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی مدت کے لئے کیوں مہلت نہ دی تاکہ میں صدقہ (و خیرات) کرلیتا اور نیکوں میں شامل ہوجاتا) حسن بن صالح نے اس کی تفسیر میں کہا ہے : پس میں زکوۃ دوں گا اور میں حج کروں گا اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ کسی آدمی نے آپ سے اس آیت کے بارے پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” من حج لا یرجو ثوابا او جلس لا یخاف عقابا فقد کفربہ “ (جس نے حج کیا اور ثواب کی امید نہ رکھی یا بیٹھا رہا اور سزا کا خوف نہ رکھا تو اس نے اس کے ساتھ کفر کیا) اور حضرت قتادہ ؓ نے حضرت حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ؛ تحقیق میں نے ارادہ کیا کہ میں لوگوں کو شہروں کی طرف بھیجوں اور وہ ایسے آدمی پر نظر رکھیں جس کے پاس مال ہے اور اس نے حج نہیں کیا پس وہ اس پر جزیہ لگا دیں، پس اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین “۔ میں کہتا ہوں : یہ انتہائی شدت اور سختی کے محل میں وارد ہوئی ہے اور اسی لئے ہمارے علماء نے کہا ہے : آیت اس معنی کو متضمن ہے کہ جو آدمی فوت ہوا اور اس نے حج نہ کیا حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا تو وعید اس کی طرف متوجہ ہوگی اور کسی دوسرے کا اس کی طرف سے حج کرنا جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ اگر غیر کا حج کرنا اس سے فرض کو ساقط کر دے تو اس سے وعید ساقط ہوجائے۔ واللہ اعلم۔ اور سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے : اگر میرا کوئی پڑوسی فوت ہوا اور اس کے پاس وسعت اور خوشحالی ہو اور اس نے حج نہ کیا تو میں نے اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
Top