Al-Qurtubi - Al-Ahzaab : 15
وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا
وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا : حالانکہ وہ عہد کرچکے تھے اللّٰهَ : اللہ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے لَا : نہ يُوَلُّوْنَ : پھیریں گے الْاَدْبَارَ ۭ : پیٹھ وَكَانَ : اور ہے عَهْدُ اللّٰهِ : اللہ کا وعدہ مَسْئُوْلًا : پوچھا جانے والا
حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اس) کی ضرور پرسش ہوگی
آیت ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل غزوئہ خندق سے پہلے اور غزوئہ بدر کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا۔ قتادہ نے کہا : اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ غزوئہ بدر سے غائب رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو جو کرامات اور نصرت عطاکی تھی اس کو انہوں نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا تھا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں جنگ کا موقع دیا تو ہم ضرور جنگ کریں گے (1) ۔ یزید بن رومان نے کہا : وہ بنو حارثہ تھے انہوں نے غزوئہ احد کے موقع پر بنو سلمہ کے ساتھ مل کر بزدلی کا ارادہ کیا تھا۔ جب ان کے بارے میں نازل ہوا جو نازل ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس چیز کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنی طرف سے پیش کیا تھا (2) ۔ آیت وکان عھد اللہ مسئولا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : وہ ستر افراد تھے انہوں نے لیلہ العقبہ کو نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ انہوں نے عرض کی : اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے شرطیں لگالو جو بھی آپ چاہیں۔ فرمایا : ” میں اپنے رب کے لیے شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کر وگے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائو گے۔ اور میں اپنے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تممیری حفاظت اس طرح کرو گے جس طرح تم اپنی عورتوں، اپنے اموال اور اپنی اولاد کی حفاظت کرتے ہو “۔ انہوں نے عرض کی : یا نبی اللہ ! اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارے لیے کیا ہوگا۔ فرمایا : ” تمہارے لیے دنیا اور آخرت میں جنت ہوگی “ (3) ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی مراد ہے : آیت وکان عھد اللہ مسئولا یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس بارے میں پوچھے گا۔
Top