Al-Qurtubi - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
والذین یحآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ مشرکین کی طرف رجوع کیا۔ مجاہد نے کہا : لوگوں کے اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دین میں حجت بازیاں کرتے ہیں۔ کہا : ان لوگوں نے وہم کیا کہ جاہلیت لوٹ آئے گی (3) قتادہ نے کہا : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دین کے بارے میں حجت بازیاں کرتے ہیں وہ یہودو نصاری ہیں (4) ان کی حجت بازی ان کا یہ قول تھا : ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے ‘ وہ اپنی فضیلت کا تصور رکھتے تھے کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور انبیاء کی اولاد ہیں مشرکین کہتے ہیں ای الفریقین خیر مقاما و احسن ندیا۔ (مریم) تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : والذین یحآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ حجتھم داحضۃ عندربھم ان کے لیے کوئی ثابت نہیں اس شے کی طرح جو اپنی جگہ سے پھسل جاتی ہے لہ میں ھاء ضمیر نبی کریم ﷺ کے لیے ہے بعد اس کے محمد ﷺ کی دعا قبول کی جا چکی تھی جیسے اہل بدر اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کی تھی یوں اس کا باب ذکر کیا جاتا ہے دحفت حجۃ دھوضا وہ باطل ہوگئی ادحضھا اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے باطل کردیا۔ ادحاض کا معنی پھسلانا ہے۔ مکان دحض و دحض ایسی جگہ جس پر پھسلن ہو۔ دحضت رجلہ تدحض دحضا اس کا پائوں پھسل گیا دحضت الشمس عند کبد السماء سورج زائل ہوگیا وعلیھم غضب مراد دنیا ہے یعنی دنیا میں اپ پر غضب ہوگا ولھم عذاب شدید۔ اس سے مراد ہے آخرت میں ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔
Top