Al-Qurtubi - Ash-Shura : 19
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠   ۧ
اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ : مہربان ہے اپنے بندوں پر يَرْزُقُ : رزق دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَهُوَ الْقَوِيُّ : اور وہ قوت والا ہے الْعَزِيْزُ : غلبے والا ہے
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
اللہ لطیف بعباد ہ ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ان پر شفیق ہے۔ عکرمہ نے کہا : وہ ان کے ساتھ نیکی کرنے والا ہے۔ سدی نے کہا : وہ ان کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ نیک اور فاجر کے ساتھ مہربانی کرنے والا ہے کیونکہ ان کے معاصی کیوجہ سے وہ بھوکوں نہیں مرتے۔ قرظی نے کہا : وہ پیشی اور محاسبہ کے موقع پر شفقت فرمانے والا ہے۔ کہا : غدا عند مولی الخلق للخلق موقف یسا ئلھم فیہ الجلیل و یلطف قیامت کے روز مخلوق نے خالق کے ہاں کھڑا ہونا ہے ‘ اس روز اللہ تعالیٰ ان کے باز پرس کرے گا اور مہربانی فرمائے گا۔ جعفر بن محمد بن علی بن حسین نے کہا : رزق میں دو طریقوں سے مہربانی فرماتا ہے : (1) اس نے تیرا رزق پاکیزہ چیزوں سے بنایا ہے (2) اس نے رزق تجھے ایک ہی دفعہ نہیں دے دیا کہ تو اسمیں فضول خرچی کردے۔ حسین بن فضل نے کہا : قرآن میں اس کے ساتھ شفقت کرنے والا ہے ‘ اس کی تفسیر اور تفصیل بیان کرنے والا ہے۔ جنید نے کہا : وہ اپنے اولیاء پر مہربانی کرنے والا ہے یہاں تک کہ وہ اسے پہچان لیتے ہیں اور اگر وہ اپنے دشمنوں پر مہربانی فرماتا تو وہ اس کا انکار نہ کرتے۔ محمد بن علی کتانی نے کہا : لطیف سے مراد اس کے بندوں سے جو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہے جب وہ مخلوق سے مایوس ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور اس پر توجہ فرماتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث طیبہ میں آیا ہے ” اللہ تعالیٰ بوسیدہ قبروں کی طرف جھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ان کے آثار مٹ گئے اور ان کی صورتیں محو ہوگئیں اور ان پر عذاب باقی ہے جبکہ میں لطیف ہوں اور أرحم الراحمین ہوں ‘ ان سے عذاب میں تخفیف کردو ‘ تو ان سے عذاب میں تخفیف کردی جاتی ہے “ (1) ۔ ا بو علی ثقفی ؓ نے کہا : أمر بأ فنانء القبور کا ننی أخوفطئۃ والثوب فیہ نحیف ومن شق فاہ اللہ قدر رزقہ روبی بمن یلجأ الیہ لطیف میں قبر ستانوں سے گذرتا ہوں گو یا میں سمجھدار ہوں جبکہ کپڑا اس میں کمزور ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کا منہ کھولتا ہے اس کا رزق مقرر کردیتا ہے اور جو اس کی پناہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لطیف اسے کہتے ہیں جو اپنے بندوں کے مناقب کو عام کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو چھپاتا ہے اسی تعبیر میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : یا من أظھر الجمیل و ستر القبیح اے وہ ذات پاک ! جو جمیل کو ظاہر کرتی ہے اور قبیح امرکو پوشیدہ رکھتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لطیف اسے کہتے ہیں کہ قلیل کو قبول کرے اور عظیم چیزکو خرچ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرے اور مشکل کو آسان کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس سے مراد وہ ذات ہے جس کے عدل سے ڈرا جاتا ہے اور اس کے فضل سے امید رکھی جاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ ذات ہے جو اپنے بندے پر ہمت سے بڑھ کر نعمت کرتا ہے اور طاقت سے بڑھ کر اطاعت کی توفیق دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم :34) واسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ (لقمان :20) وماجعل علیکم فی الدین من حرج (حج :78) یریداللہ ان یخفف عنکم (النسائ :28) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے جو خدمت پر مدد کرتا ہے اور زیادہ وہ مدح کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے جو اس کی نافرمانی کرے اس کو جلدی سزا نہیں دیتا اور جو اس سے امید رکھے اسے خائب و خاسر نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے سائل کو خالی نہیں لوٹا تا اور امیدرکھنے والے کو مایوس نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو لغزش کرتا ہے اسے معاف کردیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس پر رحم فرماتا ہے جو اپنے آپ پر رحم نہیں فرماتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ ذات ہے جو عارفین کے دلوں میں مشاہدہ کا چراغ روشن کرتی ہے اور صراط مستقیم کو اس کا منہاج بنا دیتی ہے اور اپنے نیکی کے بادلوں سے ان کے لیے موسلادھار بارش برساتی ہے۔ سورة الانعام میں ابو العالیہ اور جنید کا قول گذر چکا ہے ہم نے یہ سب باتیں الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں لطیف اسم کے ضمن میں ذکر کردی ہیں۔ الحمد اللہ۔ یرزق من یشآء جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے ‘ کسی قوم کو مال میں فضیلت دینے میں حکمت ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں جس طرح ارشاد فرمایا : لیتخذ بعضھم بعضا سخریا (زخرف :32) یہ بندوں پر مہربانی ہے ‘ یہ بھی مقصود ہے کہ اس کے ذریعے غنی کو فقیر اور فقیر کو غنی کے ساتھ امتحان میں ڈالا جائے جس طرح ارشاد فرمایا : وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اتصبرون (فرقان :20) اس کی وضاحت پہلے گذر چکی ہے
Top