Al-Qurtubi - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حزئہ حرث سے مراد عمل اور کسب ہے ‘ اسی معنی میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا قول ہے : تو دنیا کے لیے تگ و دو کر گویا تو نے ہمیشہ رہنا ہے اور اپنی آخرت کے لیے کوشش کرو گے یا تو نے کل ہی مرجانا ہے (1) ۔ اسی وجہ سے انسان کو حارث کہتے ہیں معنی ہے ہم نے اسے رزق دیا ہے جو اسے آخرت کی کھیتی کے طور پر طلب کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتا ہے اور دین کی عزت کی خاطر مال خرچ کرتا ہے تو ہم اس کا ثواب ایک کے بدلہ میں دس گنا ‘ سات سو گنا اور اس سے زیادہ تک دیتے ہیں۔ ومن کان یرید حرث الدنیا تعالیٰ نے اسے جو مال دیا ہے وہ اس کے ذریعہ دنیا کی ریاست چاہتا ہے ممنوعات تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ہم اسے رزق سے محروم نہیں کرتے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان : یریدالعاجلۃ۔۔ (بنی اسرائیل) ایک قول یہ کیا گیا ہے : نزد لہ فی حرثہ کا معنی ہے ہم اسے عبادت کی توفیق دیتے ہیں اور ہم اسے ان پر آسان کردیتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حرث الا خرۃ سے مراد اطاعت ہے یعنی جس نے اطاعت کی اس کے لیے ثواب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نزدلہ فی حرثہ کا معنی ہے ہم اسے دنیا ‘ آخرت کے ساتھ دیتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت جہاد کے بارے میں ہے یعنی جس نے جہاد کے ساتھ آخرت کا ارادہ کیا اسے ثواب دیا جائے گا جس نے اپنے جہاد سے غنیمت کا ارادہ کیا تو اسے غنیمت دے دی جائی گی۔ قشیری نے کہا : آیت کافر کے بارے میں ہے اللہ تعالیٰ جسے دنیا میں وسیع رزق دیتا ہے یعنی اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس سے دھوکہ میں مبتلا ہو کیونکہ دنیا باقی رہنے والی نہیں۔ قتادہ نے کہا : جو آخرت کی نیت کرتا ہے (2) اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی چیزیں بھی عطا فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور جس نے دنیا کی نیت کی اسے صرف دنیا میں عطا فرماتا ہے ‘ یہ بھی فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جو آدمی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو ہم اس کے عمل میں اضافہ کردیتے ہیں اور دنیا سے اسے وہ کچھ عطا کرتے ہیں جو کچھ ہم نے اس کے لیے لکھا ہوتا ہے اور جو اپنی دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے تو ہم اس کے لیے آخرت میں صرف آگ کا ہی حصہ بنادیتے ہیں اور دنیا سے وہی رزق پاتا ہے جو ہم نے اس کے لیے تقسیم کررکھا ہوتا ہے جو اسے دیا جانا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ ترجیح دے یا نہ دے۔ جویبر نے ضحاک سیوہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے : جو ابرار سے ہوتا ہے وہ اپنے عمل صالح کے ساتھ آخرت کے ثواب کا ارادہ کرتا ہے تو ہم اس کی نیکیوں میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو فاجر ہوا کرتا ہے وہ اپنے عمل حسن کے ساتھ دنیا کا ارادہ کرتا ہے تو ہم اسے وہی دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ یہ منسوخ ہوگیا : من کا یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید (اسرائیل :18) صحیح یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں کیونکہ یہ خبر ہے اور تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوا کرتی ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث صحیح ثابت ہے لا یقل أحد کم اللھم أغفرلی ان شئت اللھم ارحمنی ان شئت (1) ۔ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : اے اللہ ! مجھے بحش دے اگر تو چاہے ‘ اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما اگر تو چاہے۔ قتادہ نے کہا : جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے وہ تیرے سامنے اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ نسخ نہیں۔ ہم نے سورة ہود میں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ یہ مطلق اور مقید کے باب سے ہے اور نسخ اخبار میں داخل نہیں ہوتا۔ مسئلہ : یہ آیت امام ابوحنیفہ کے اس قول کو باطل کرتی ہے (2): جس نے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے وضو کیا تو یہ وضو اس کے فرض کے قائم مقام ہوجائے گا کیونکہ وضو کی فرضیت آخرت کی کھیتی ہے اور ٹھنڈک حاصل کرنا امور دنیا سے ہے ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر داخل نہ ہوگا اس آیت کے ظاہر سے اس کی نیت اس کے قائم مقام نہ ہوگی ؛ (٭) یہ ابن عربی کا قول ہے۔
Top