Al-Qurtubi - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب آیت قل لا اسئلکم علیہ اجرا نازل ہوئی کچھ لوگوں نے اپنے دلوں میں سوچا آپ ﷺ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ اپنے بعد ہمیں اپنے قریبی رشتہ داروں کی اتباع پر برانگیختہ کررہے ہیں جبریل امین نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ کو آگاہ کردیا کہ انہوں نے آپ ﷺ پر تہمت لگائی ہے تو یہ آیت ام یقولون افتری علی اللہ کذبا نازل ہوئی تو ان لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ سچے ہیں اور ہم توبہ کرتے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنے اولیاء اور اہل اطاعت کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘ آیت عام ہے (2) ۔ توبہ کے معنی اور اس کے احکام کے متعلق گفتگو گذر چکی ہے۔ سورة براءت میں یہ لفظ گذر چکا ہے۔ ویعفوا عن السیات ویعلم ما تفعلون۔ یعنی اسلام لانے سے قبل جو شرک کیا کرتا تھا اس کو معاف فرماتا ہے اور تم جو اچھا یا برا عمل کرتے ہو اسے جانتا ہے۔ حمزہ ‘ کسائی ‘ حفص اور خلف نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود ؓ اور ان شاگردوں کی قرائت ہے باقی نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ؛ ابو عبید اور باو حاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے ‘ کیونکہ یہ دو خبروں کے درمیان ہے پہلی خبر وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ اور دوسری یستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ہے۔
Top