Al-Qurtubi - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
اس میں تین سائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین استجابوا لربھم واقاموا الصلوۃ عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس سے مراد مدینہ طیبہ کے انصار ہیں (1) ‘ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر ایمان لانے کی جب انہیں دعوت دی گئی تو انہوں نے اس پر لبیک کہی جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت سے قبل انہیں میں سے بارہ نقیب ان کی طرف روانہ کیے تھے۔ واقاموا الصلوۃ یعنی انہوں نے نماز کو اس کے اوقات میں شروط اور ہئیتوں کے ساتھ ادا کیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وامرھم شوری بینھم وہ امور میں مشورہ کیا کرتے تھے۔ شوری ‘ شاورتہ کا مصدر ہے جس طرح بشری اور ذکری وغیرہ نبی کریم ﷺ کے انصار مدینہ کے پاس آنے سے پہلے انصار کا یہ معمول تھا کہ جب وہ کسی امر کا ارادہ کرتے تو وہ آپس میں مشورہ کرتے پھر اس پر عمل کرتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی مدح کی (2) ؛ یہ نقاش کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ امور میں رائے کی اتباع کرتے ہیں اس لیے وہ اتفاق کرتے ہیں وہ اختلاف نہیں کرتے تو ان کے اتفاق کی وجہ سے ان کی مدح کی گئی (3) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کسی قوم نے کبھی بھی مشورہ نہیں کیا مگر انہیں بہترین امر کی طرف ہدایت دی گئی ( 4) ۔ ضحاک نے کہا : جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ظہور کے بارے میں سنا تو آپس میں مشورہ کیا وہ مراد ہے اور ان کے نقیب ان کے پاس آئے یہاں تک کہ ان کی رائے حضرت ایوب کے گھر میں آپ پر ایمان لانے اور آپ کی مدد کرنے پر متفق ہوگئی (5) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب بھی ان پر کوئی امر ظاہر ہوتا تو وہ آپس میں مشورہ کرتے ان میں سے بعض بعض کی خبر کو ترجیح نہ دیتے۔ ابن عربی نے کہا : مشورہ جماعت میں محبت پیدا کرتا ہے ‘ عقلوں کو پرکھنے کا آلہ ہے اور صحیح نتیجہ تک پہنچنے کا سبب ہے کسی قوم نے جب بھی مشورہ کیا وہ ہدایت پا گئے (6) ایک دانا نے کہا : اذا بلغ الرأی المشورۃ فاستعن برأی لبیب او مشورۃ حازم ولا تجعل الئسوری علیک غضا ضۃ فان الخوافی قوۃ للقوادم جب رائے مشورہ تک جا پہنچے تو دانشمند کی رائے اور محتاط کے مشورہ سے مدد لے تو مشورہ اپنے لیے نقص نہ سمجھ بیشک چھوٹے پر ‘ بڑے پروں کی قوت ہوا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امور میں مشورہ کی مدح کی ہے اس قوم کی مدح کے ساتھ جو اس کی پیروی کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ جنگوں کے متعلق امر میں اپنے صحابہ سے مشورہ کی طلب کیا کرتے تھے یہ آراء میں بہت زیادہ ہوتا ہے آپ احکام میں صحابہ سے م سورة لیا کرتے تھے کیونکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوتے وہ فرض ہوتے ‘ مستحب ہوتے ‘ مکروہ ہوتے ‘ مباح ہوتے یا حرام ہوتے ‘ جہاں تک صحابہ کرام کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہم پر ترجیح دی ہے وہ احکام میں بھی مشورہ کیا کرتے تھے اور کتاب و سنت سے ان کو مستنبط کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام نے سب سے پہلے جس معاملہ میں مشورہ کیا وہ خلافت کا معاملہ تھا نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں واضح ارشاد فرمایا تھا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور انصار کے درمیان معاملہ ہوا جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : ہم اپنی دنیا کے لیے اسی پر راضی ہیں جس پر نبی کریم ﷺ ہمارے دین کے بارے میں راضی تھے۔ مرتدوں کے بارے میں صحابہ نے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا ‘ صحابہ نے دادا اور اس کی میراث میں مشورہ کیا ‘ شراب اور ان کی حد کے بارے میں مشورہ کیا ‘ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد انہوں نے جنگوں کے بارے میں مشورہ کیا یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ہر مزان سے بھی جنگوں کے بارے میں مشورہ کیا جب وہ مسلمان کی حیثیت سے آپکی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہر مزان نے آپ سے عرض کی : اس جنگ اور اس جنگ میں مسلمانوں کے جو دشمن شریک ہیں ان کی مثال اس پرندے جیسی ہے جس کا ایک سر ہے اس کے دو بازو ہیں اور دو پائوں ہیں اگر ایک بازو ٹوٹ جائے تو دونوں ٹانگیں ‘ ایک بازو اور سر کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اگر دوسرا بازو بھی ٹوٹ جائے تو دونوں ٹانگیں اور سر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اگر سر کچل دیا جائے تو دونوں پائوں اور دونوں بازو بھی ختم ہوجاتے ہیں ‘ سرکسریٰ ہے ‘ ایک بازو قیصر اور دوسرا بازو فارس ہے مسلمانوں کو حکم دو کسری کی طرف نکلیں۔ ایک دانشمند نے کہا : میں نے کبھی بھی غلطی نہیں کی جب مجھے کوئی امر لاحق ہوتا تو میں اپنی قوم سے مشورہ کرتا میں وہی کرتا جو وہ رائے دیتے اگر میں صحیح نتیجہ تک جا پہنچتا تو وہ بھی صحیح نتیجہ تک پہنچتے اگر میں غلطی کرتا تو وہ بھی غلطی کرتے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ سورة آل عمران آیت 159 میں شوری کے احکام : وشاورھم فی الامر میں گذر چکے ہیں۔ مشورہ برکت ہے مشورہ سے مراد شوری ہے اسی طرح مشورہ ہے تو کہتا ہے : شاورتہ فی الا مردأستشرتہ کا معنی ایک ہی ہے۔ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب تمہارے امر اء تم میں سے بہترین لوگ ہوں ‘ تمہارے اغنیاء تم میں سے سخی لوگ ہوں اور تمہارے امور باہم مشورہ سے ہوں تو تمہارے لیے سطح زمین ‘ زمین کے بطن سے بہتر ہے جب تم میں سے امراء تم میں سے شریر ترین ہوں۔ تمہارے اغنیاء تم میں سے بخیل ترین لوگ ہوں اور تمہارے امور تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے حق میں زمین کا بطن اس کی سطح سے بہتر ہے (1) “ یہ حدیث غریب ہے۔ ومما رزقنھم ینفقون۔ یعنی جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے صدقہ کرتے ہیں۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گذر چکی ہے
Top