Al-Qurtubi - Ash-Shura : 5
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ : قریب ہے آسمان يَتَفَطَّرْنَ : کہ پھٹ پڑیں مِنْ : سے فَوْقِهِنَّ : اپنے اوپر (سے) وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے يُسَبِّحُوْنَ : وہ تسبیح کررہے ہیں بِحَمْدِ : ساتھ حمد کے رَبِّهِمْ : اپنے رب کی وَيَسْتَغْفِرُوْنَ : اور وہ بخشش مانگتے ہیں لِمَنْ فِي الْاَرْضِ : واسطے ان کے جو زمین میں ہیں اَلَآ : خبردار اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ : وہ غفور رحیم ہے
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم وہ اللہ تعالیٰ کی ان چیزوں سے پاکی بیان کرتا ہے جو اس کے وصف میں جائز نہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مشرکین کی جراء توں سے متعجب ہوتے ہیں اور تعجب کے موقع پر تسبیح کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروری ہے کہ ان کی تسبیح ان چیزوں پر تعجب کا اظہار ہے جو وہ دیکھتے ہیں کہ مشرک اپنے کام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کی تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے جس کو وہ دیکھتے ہیں۔ بحد ربھم کا معنی ہے ان کے رب کے امر سے ؛ یہ سدی ہے۔ ویستغفرون لمن فی الارض ضحاک نے کہا : لمن فی الارض سے مراد مومن ہیں ؛ یہ سدی کا قول ہے اس کی وضاحت سورة المومن : ویستغفرون للذین امنو میں گذر چکی ہے یہاں ملائکہ سے مرادحاملین عرش کو اٹھانے والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمام فرشتے مراد ہیں۔ کلبی کے قول سے یہی ظاہر ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : و یستغفرون للذین امنوا کے ساتھ منسوخ ہے یہ جگہ مومنین کے لیے خاص ہے۔ مہدوی نے کہا : صحیح یہی ہے کہ وہ منسوخ نہیں ہے کیونکہ یہ خبر ہے اور مومنین کے لیے خاص ہے۔ ابو الحسن ماوردی نے کلبی سے یہ قول نکل کیا ہے کہ فرشتوں نے جاب ان دونوں فرشتوں کو دیکھا جن کو آزمایا اور زمین کی طرف انہیں بھیجا گیا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ زہرہ کی وجہ سے آزمائش میں پڑگئے اور دونوں حضرت ادریس (علیہ السلام) کی طرف بھاگ گئے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پردادا تھے۔ دونوں فرشتوں نے حضرت ادریس (علیہ السلام) سے عرض کی کہ آپ ان دونوں کے حق میں دعا کریں۔ فرشتوں نے اپنے رب کی حمدبیان کرنے کے ساتھ تسبیح بیان کی اور بنی آدم کے لیے مغفرت طلب کی۔ ابو الحسن بن حصار نے کہا : بعض جاہلوں نے یہ گمان کیا کہ یہ آیت ہاروت و ماروت کے سبب نازل ہوئی ہے اور یہ مومنوں کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی اس کے ساتھ منسوخ ہے اور وہ نہیں جانتے کہ حاملین عرش تو مومنوں کے استغفار کے لیے خاص ہیں، اللہ تعالیٰ کے اور فرشتے ہیں جو اہل زمین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ مادردی نے کہا : فرشتوں کے اہل زمین کے لیے استغفار میں دو قول ہیں : گناہوں اور خطائوں سے ؛ مقاتل کے قول کا ظاہر یہی معنی ہے ان کے لیے رزق اور خوشحال کی طلب ہے ؛ یہ کلبی کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں : یہی زیادہ نمایاں ہے کیونکہ زمین کافر اور غیر کو عام ہے مقاتل کے قول کے مطابق کافر اس میں داخل نہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے جسے عاصم احوال نے ابو عثمان سے وہ سلمان سے نقل کرتے کرتے ہیں کہ بندہ جب خوشحالی کے دور میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا اب اسے تنگ دستی نے آلیا تو وہ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ کمزوری سے معروف آواز ہے اور جب وہ خو شحال کے دور میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا تھا تو اسے تکلیف نے آلیا تو فرشتے کہتے ہیں : انسان سے اجنبی سی آواز ہے وہ خوشحالی کے دور میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا تھا تو اسے مصیبت لاحق ہوئی تو وہ اس کے لیے بخشش طلب نہیں کرتے۔ یہ تعبیر اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آیت کریمہ اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کا ذکر خوشحال اور تنگدستی میں کیا کرتا تھا تو یہ آیت اہل زمین سے یعنی مومنوں کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ بھی احتمال کہ انہوں نے استغفار سے اراردہ طلب علم اور طلب غفران لیا ہو ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھا من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا۔ (فاطر) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وا ان ربک لز و مغفرۃ للناس علی ظلمھم یہاں استغفار کے مراد ان کے بارے میں حلم کرنا اور انتقام میں جلدی نہ کرنا ہے تو یہ حکم ہوگیا ؛ یہ زمحشری کا قول ہے۔ مطرف نے کہا : ہم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ سب سے مخلص فرشتے پائے ہیں اور اللہ کے بندوں کے ساتھ سب سے زیادہ دھوکہ کرنے والے شیطان کو پایا ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم۔ بعض علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں ڈرایا اور عظمت شان کو بیان کیا اور آخر میں مہربانی کا ذکر کیا اور بشارت دی
Top