تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 56. Al-Waaqia · Ayah 62
Tafseerوَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ﴿62﴾
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- عَلِمْتُمُجان لیا تم نے
- النَّشْاَةَ الْاُوْلٰىپہلی دفعہ کی پیدائش کو
- فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَتو کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے
Translation · Al-Qurtubi
اور تم نے پہلی پیدائش تو جان ہی لی ہے پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟
Tafseer · Al-Qurtubi
ولقد علمتم النشاۃ الاولی کیونکہ تم کو نطفہ سے پھر علقمہ سے پھر مضفہ سے پیدا کیا گیا جب کہ تم کچھ بھی نہ تھے۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے۔
1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 459 2 ؎۔ تفسیر طبری، جز 27، صفحہ 230 3 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 248
فلولا تذکرون۔ تم سوچ و بچار کیوں نہیں کرتے ؟ حدیث میں ہے ” دوبارہ پیدا کرنے کے جھٹلانے والے پر بڑا تعجب ہے جب کہ وہ پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اس پر بھی تعجب ہے اور جو دوبارہ پیدا کرنے کا اقرار تو کرتا ہے مگر دار قرار کرے لیے تگ و دو نہیں کرتا “۔ عام قرأت النشاۃ ہے۔ مجاہد، حضرت حسن بصری، ابن کثیر اور ابو عمرو نے النشاء الف ممدودہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سورة عنکبوت میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔