تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 17
لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿17﴾
- لَنْ تُغْنِيَہرگز نہ بچاسکیں گے
- عَنْهُمْان سے ، کو
- اَمْوَالُهُمْان کے مال
- وَلَآاور نہ
- اَوْلَادُهُمْان کی اولاد
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
- شَيْئًا ۭکچھ، ذرا
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- اَصْحٰبُ النَّارِ ۭدوزخ والے، جہنمی
- هُمْوہ
- فِيْهَااس میں
- خٰلِدُوْنَہمیشہ رہیں گے
Translation · Al-Qurtubi
خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اسمیں ہمیشہ (جلتے) رہیں .
Tafseer · Al-Qurtubi
آیات 17۔ 19
تفسیر
لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولاد ھم من اللہ شیاء یعنی اس کے عذاب سے کچھ نفع نہ دے گا۔ مقاتل نے کہا : منافقوں نے کہا (حضرت) محمد ﷺ گمان کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کی مدد کی جائے گی تو اس وقت یقینا ہم بدبخت ہوں گے اللہ کی قسم ! اگر قیامت ہوئی تو قیامت کے روز ہماری مدد کی جائے گی ہماری ذاتوں، ہماری اولادوں اور ہمارے اموال کی وجہ سے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
یوم یبعثنم اللہ جمیعا اللہ تعالیٰ انہیں جس روز دوبارہ اٹھائے گا ان کے لئے ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔ فیحلفون لہ کما یحلفون لکم وہ اس روز اسی طرح اس کے لئے قسم اٹھائیں گے جس طرح آج وہ تمہارے لئے قسم اتھاتے ہیں۔ یہ عجب امر ہے وہ ان کا قسم کے ساتھ مغالطہ پیدا کرنا ہے، جب کہ تمام معارف عیاں ہوچکے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ عنما نے کہا : وہ ان کا یہ قول ہے واللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ (الانعام)
ویحسبون انھم علی شئی۔ یعنی انکار کرنے اور قسم اٹھانے کے ساتھ۔ ابن زید نے کہا : انہوں نے گمان کیا کہ وہ آخرت میں انہیں نفع پہنچائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دنیا میں گمان کریں گے کہ وہ بہت بڑی چیز پر قائم ہیں کیونکہ آخرت میں وہ مجبور ہو کر حق کو جانیں گے، جب کہ پہلا معنی زیادہ واضح ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” قیامت کے روز ایک منادی کرنے والا اعلان کرے گا : اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرنے والے کہاں ہیں ؟ تو قدریہ اٹھیں گے جب کہ ان کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی، ان کی باچھیں ایک طرف مائل ہوں گی، انکا لعاب بہہ رہا ہوگا، تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہم نے تیرے سو اکسی سورج، کسی چاند، کسی بت کی عبادت نہیں کی اور ہم نے تیرے سوا کسی کو اپنا للہ نہیں بنایا “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! انہوں نے سچ کہا، ان تک شرک ایسی جگہ سے پہنچے گا جسے وہ نہیں جانتے ہوں گے۔ پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ اللہ کی قسم ! وہ قدر یہ ہیں یہ تین دفعہ قسم اٹھائی (1) ۔
استحوذ علیھم الشیطن یعنی شیطان ان پر غالب آگیا ہے یعنی دنیا میں اپنے وسوسہ کے ساتھ ان پر غالب آگیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ ان پر قوی ہوگیا ہے۔ مفضل نے کہا : اس نے ان کا حاطہ کرلیا ہے۔ یہ چوتھے معنی کا بھی احتمال رکھتا ہے شیطان نے انہیں جمع کرلیا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : احوذ الشئی اسے جمع کردیا اور اس کے بعض کو بعض سے ملا دیا جب انہیں جمع کرلیا تو وہ ان پر غالب آگیا، ان پر قوی ہوگیا اور ان کو احاطہ میں لے لیا۔
فانسبح ذکر اللہ ذکر سے اس کے اوامر مراد ہیں۔ جب انسان طاعت کر رہا ہے تو اوامر کو بھلا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد زواجر ہیں یعنی اس کی معصیت سے جو جھڑکنے والی چیزیں تھیں، انہیں بھلا دیا۔ نسیان کبھی غفلت کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی ترک کی صورت میں ہوتا ہے یہاں دونوں وجوہ کا احتمال ہے۔
اولئک حزب الشطین حزب سے مراد طائفہ اور رھط ہے۔ الا ان حزب الشیطن ھم الخسرون۔ یعنی وہ اپنی تجارت میں خسارے پانے والے ہیں کیونکہ انہوں نے جہنم کے بدلے جنت کو بیچ دیا ہے اور گمراہی کے بدلے ہدایت کو بیچ دیا۔