تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 59. Al-Hashr · Ayah 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ﴿3﴾
- وَلَوْلَآاور اگر نہ
- اَنْیہ کہ
- كَتَبَلکھ رکھا ہوتا
- اللّٰهُاللہ
- عَلَيْهِمُان پر
- الْجَلَآءَجلا وطن ہونا
- لَعَذَّبَهُمْتو وہ انہیں عذاب دیتا
- فِي الدُّنْيَا ۭدنیا میں
- وَلَهُمْاور ان کے لئے
- فِي الْاٰخِرَةِآخرت میں
- عَذَابُ النَّارِجہنم کا عذاب
Translation · Al-Qurtubi
اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو انکو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیئے آگ کا عذاب (تیار) ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
آیات۔ 3۔ 4
ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلاء یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں جلاوطنی کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور وہ ایک عرصہ وہاں ہی رہتے تو ان میں سے بعض ایمان لاتے اور ان کے ہاں ایسے بچے جنم لیتے جو ایمان لاتے۔
لعذ بھم فی الدنیا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں انہیں قتل اور قید کی صورت میں عذاب دیتا جس طرح اس نے بنی قریضہ کے ساتھ کیا ہے۔ جلا وطنی سے مراد اپنے وطن کو چھوڑنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے :۔ جلا بنفسہ جلاء اجلاہ غیر اجلائ۔
جلاء اور اخراج اگرچہ دونوں کا معنی دور کرنا ہے تاہم دو وجوہ سے فرق ہے۔ (1) جلا وطنی اہل اور اولاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اخراج کبھی اہل اور اولاد کو وہاں ہی رکھنے کی صورت میں ہوا کرتا ہے۔ (2) جلا وطنی صرف جماعت کے لئے ہوتی ہے اور اخراج کبھی ایک کے لئے اور کبھی جماعت کے لئے ہوتا ہے ؛ یہ ماوردی کا قول ہے۔
ذلک یعنی وہ جلا وطنی بانھم شاقوا اللہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی ومن یشاق اللہ طلحہ بن مصرف اور محمد بن سمیقع نے پڑھا۔ ومن یشاقو اللہ یعنی ہم جنس حروف کو اظہار کی سمت میں پڑھا ہے ؛ جس طرح سورة انفال میں ہے باقی قراء نے ادغام کیا ہے۔