تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 60. Al-Mumtahana · Ayah 13

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ع﴿13﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاایمان والو
    3. لَا تَتَوَلَّوْاتو دوستی نہ کرو
    4. قَوْمًاوہ لوگ
    5. غَضِبَ اللّٰهُاللہ نے غضب کیا
    6. عَلَيْهِمْان پر
    7. قَدْ يَئِسُوْاوہ ناامید ہوچکے
    8. مِنَ الْاٰخِرَةِآخرت سے
    9. كَمَاجیسے
    10. يَئِسَ الْكُفَّارُمایوس ہیں کافر (جمع)
    11. مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِقبر والوں (مردے) سے
Translation · Al-Qurtubi
مومنو ! ان لوگوں سے جن پر خدا غصہ ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت کے آنے) کی امید نہیں۔
Tafseer · Al-Qurtubi
یا یھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم۔ قوما سے مراد یہودی ہیں۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ مسلمان فقراء میں سے کچھ لوگ یہودیوں کو مومنوں کو خبریں دیتے اور ان کے ساتھ تعلقات قائم کرتے اس طرح ان سے کچھ پھل حاصل کرلیتے تو انہیں اس امر سے منع کیا گیا۔ قد یئسو…… مراد یہود یہیں ؛ یہ ابن زید کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد منافق ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مراد یہود و نصاری ہیں (3) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے انہوں نے آخرت کے لئے عمل کو ترک کردیا اور دنیا کو ترجیح دے دی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ آخرت کے ثواب سے مایوس ہوگئے (1) ؛ یہ مجاہد کا قول ہے : کما یئس ……۔ یعنی زندہ کا فر اصحاب قبو کے بارے میں مایوس ہوچکے ہیں کہ وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں گے ؛ یہ حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : اس کا مصداق ہوہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا : وما ی……(الجاثیۃ :24) ہمیں زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے جس طرح وہ کفار مایوس ہوگئے جو قبروں میں ہیں کہ وہ دنیا کی طرف لوٹیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے سورت کا اختتام بھی اسی چیز سے کیا جس سے سورت کو شروع کیا تھا کہ کفار کے ساتھ دوستی کو ختم کردیا جائے۔ یہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کو خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ ارادہ فرماتا ہے کہ قریش کے کفار آخرت کی بھلائی سے یوں مایوس ہوگئے ہیں جس طرح وہ کفار جو قبروں میں دفن ہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگئے ہیں (2) ۔ قاسم بن ابی بزہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : کفار میں سے جو فوت ہوچکا ہے وہ بھلائی سے مایوس ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔