تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 61. As-Saff · Ayah 9

  1. هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ع﴿9﴾

    1. هُوَ الَّذِيْٓوہ اللہ وہ ذات ہے
    2. اَرْسَلَجس نے بھیجا
    3. رَسُوْلَهٗاپنے رسول کو
    4. بِالْهُدٰىہدایت کے ساتھ
    5. وَدِيْنِ الْحَقِّاور دین حق کے ساتھ
    6. لِيُظْهِرَهٗتاکہ غالب کردے اس کو
    7. عَلَياوپر
    8. الدِّيْنِ كُلِّهٖدین کے سارے کے سارے اس کے
    9. وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَاور اگرچہ ناپسند کریں مشرک
Translation · Al-Qurtubi
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
تفسیر ھو الذی …… وہی ذات پاک ہے جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کیا۔ لیظھرہ علی الدین کلہ یعنی دلائل کے ساتھ اسے تمام ادیان پر غالب کردے۔ ظھور سے مراد جنگ میں طاقت کے ذریعے غلبہ ہے۔ طھور سے مراد یہ نہیں کہ کوئی دوسر ادین باقی ہی نہ رہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان غالب اور بلند ہونگے اور آخر زمانہ میں اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : لیظھرہ … یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظاہر ہونے کے ساتھ دین غالب ہوگا اس وقت کوئی کافر باقی نہیں رہے گا مگر سب مسلمان ہوجائیں گے۔ مجاہد نے کہا : یہ اس وقت ہوگا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اتریں گے تو زمین میں کوئی دین باقی نہیں رہے گا مگر صرف دین اسلام ہوگا (1) ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” حضرت ابن مریم (علیہ السلام) عادل ثالث کی حیثیت سے اتریں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کردیں گے، نوجوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا ان پر کوشش نہیں کی جائے گی دشمنی، باہم بغض اور باہم حسد ختم ہوجائے گا، مال کی طرف لوگوں کو بلایا جائے گا تو اسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا “ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تمام ادیان پر مطلع فرمائے گا یہاں تک کہ آپ ان کے علام اور ان کی بطلان کی وجہ سے آگاہ ہوجائیں گے اور انہوں نے جو تحریف اور تبدیلی کی ہے اس پر مطلع ہوجائیں گے۔ علی الدین مراد تمام دین ہیں کیونکہ دین مصدر ہے اس کے ساتھ جمع کو بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔