تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 62. Al-Jumu'a · Ayah 4

  1. ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿4﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. فَضْلُ اللّٰهِاللہ کا فضل ہے
    3. يُؤْتِيْهِدیتا ہے اسے
    4. مَنْ يَّشَآءُجس کو وہ چاہتا ہے
    5. وَاللّٰهُاور اللہ
    6. ذُو الْفَضْلِفضل والا ہے
    7. الْعَظِيْمِبڑے
Translation · Al-Qurtubi
یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
حضرت ابن عباس نے کہا، فضل سے مراد ہے عجم کو قریش کے ساتھ ملا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد اسلام ہے (6) اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وحی اور نبوت ہے، یہ مقاتل کا قول ہے۔ چوتھا قول ہے : اس سے مراد وہ مال ہے جو طاعت میں خرچ کرتا ہے، یہ ابو صالح کے قول کا معنی ہے۔ امام مسلم، ابو صالح سے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ مہاجر فقراء رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : مالدار لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں لے گئے۔ پوچھا :” وہ کیا ؟ “ صحابہ نے عرض کی : وہ نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رزے رکھتے ہیں، وہ صدقہ کرتے ہیں، ہم صدقہ نہیں کرتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم آزاد نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں اگٓاہ نہ کروں جس کے ذریعے تم سبقت لے جانے والوں کو پالو گے اور بعد والوں سے سبقت لے جائو گے اور تم سے کوئی افضل نہیں ہوگا مگر اسی صورت میں جب وہ اس طرح کا عمل کرے جیسا تم عمل کرتے ہو۔ “ صحابہ نے عرض کی : کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! فرمایا :” تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمد اللہ کہا کرو۔ “ (1) ابو صالح نے کہا : مہاجر قراء رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : ہم نے جو عمل کیا اس کے بارے میں خوشحال لوگوں نے سنا تو انہوں نے بھی اسی کی مثل کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ “ پانچواں قول لوگوں کا بنی کریم ﷺ کی تصدیق میں اطاعت کرنا اور آپ ﷺ کے دین میں داخل ہونا اور آپ ﷺ کی مدد کرنا ہے (2) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔