تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 62. Al-Jumu'a · Ayah 6

  1. قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿6﴾

    1. قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَکہہ دیجئے اے لوگو
    2. هَادُوْٓاجو یہودی بنے ہو
    3. اِنْ زَعَمْتُمْاگر تم زعم رکھتے ہو۔ گھمنڈ رکھتے ہو۔ سمجھتے ہو
    4. اَنَّكُمْ اَوْلِيَآءُبیشک تم دوست ہو
    5. لِلّٰهِاللہ کے
    6. مِنْ دُوْنِ النَّاسِلوگوں کے سوا
    7. فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَپس تم تمنا کرو موت کی
    8. اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
    9. صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Al-Qurtubi
کہہ دو کہ اے یہود ! اگر تم کو یہ دعوے ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں تو اگر تم سچے ہو تو (ذرا) موت کی آرزو تو کرو
Tafseer · Al-Qurtubi
جب یہودیوں نے فضیلت کا دعویٰ کیا اور کہا : نحن ابنوآء اللہ واحبآء وہ (المائدہ :18) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان زعمتم انکم اولیآء للہ من دون الناس تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اولیاء کو عظمت و شان حاصل ہے۔ فتمنوا الموت ان کنتم صدقین۔ تاکہ تم بھی وہاں پہنچ جائو جہاں اولیاء اللہ پہنچے ہیں۔ ولایتمنونہ ابداً بما قدمت ایدیھم۔ جو انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی تکیذب کر رکھی ہے اس لئے وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ اگر وہ آرزو کرتے تو ضرور مر جاتے۔ اس میں ان کے قول کا بطلان ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیارے ہونے کا جو دعویٰ کیا تھا اس کا بطلان ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا، والذی نفس محمد بیدہ لوتمنوا الموت ما یقی علی ظھرھا یھودی الامات اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ اگر وہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو زمین پر کوئی یہودی باقی نہ بچتا وہ مر جاتا۔ اس میں غیب کی خبر ہے اور نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہے۔ سورة بقرہ آیت 94 قل ان کا نت لکم الدار الاخرۃ عند اللہ خالصۃ من دون الناس فتمنوا الموت ان کنتم صدقین۔ میں بحث گزر چکی ہے۔