تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 62. Al-Jumu'a · Ayah 8
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿8﴾
- قُلْکہہ دیجئے
- اِنَّ الْمَوْتَبیشک موت
- الَّذِيْوہ جو
- تَفِرُّوْنَ مِنْهُتم بھاگتے ہو اس سے
- فَاِنَّهٗ مُلٰقِيْكُمْتو بیشک وہ ملنے والی ہے تم سے
- ثُمَّ تُرَدُّوْنَپھر تم لوٹائے جاؤ گے
- اِلٰى عٰلِمِطرف جاننے والے
- الْغَيْبِغیب کے
- وَالشَّهَادَةِاور حاضر کے
- فَيُنَبِّئُكُمْپھر وہ بتادے گا تم کو
- بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَساتھ اس کے جو تم ، تم عمل کرتے
Translation · Al-Qurtubi
کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آکر رہے گی پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔
Tafseer · Al-Qurtubi
زجاج نے کہا، یہ نہیں کہا اجتا : ان زید افمنطلق یہاں ارشاد فرمایا : فانہ ملقیکم کیونکہ الذی میں شرط کا معنی موجود ہے، تقدیر کلام یوں ہوگی ان فررتم منہ فانہ مل اقیکم ان کا فرار انہیں کوئی نفع نہ دے گا اس پر دلالت میں مبالغہ ہے۔
زبیر نے کہا :
ومن ھاب اسباب المنایا ینلنہ ولو رام اسباب السماء بسلم
جو آدمی موتوں کے اسباب سے ڈرتا ہے تو وہ اسے پا لیتی ہیں اگرچہ وہ سیڑھی کے ذریعے آسمان کے اسباب کا قصد کرے۔ میں کہتا ہوں : یہ جائز ہے کہ کلام اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر مکمل ہوجائے۔
الذین تقرون منہ پھر نئے سرے سے کلام شروع ہو فانہ ملقیکم۔ طرفہ نے کہا :
وکفی بالموت قاعلم واعضا لمن الموت علیہ قد قدر
فاذکر الموت و حاذر ذکرہ ان فی الموت لذی اللب عبر
کل شی سوف یلقی حتفہ فی مقام اوعلی ظھر سفر
والسایا حولہ ترصدہ لیس ینجیہ من الموت الحذر
تو جان لے موت اس کے لئے نصیحت کرنے والی کافی ہے جس پر موت مقدر کردی گئی ہے موت کو یاد کر یا اس کے ذکر سے بچ موت میں دانشمند کے لئے عبرتیں ہیں۔ ہر شی کسی قیام گاہ یا سفر میں اپنی موت سے ملاقات کرنے والی ہے۔ موتیں اس کے اردگرد اسے تاڑنے والی ہیں کوئی احتیاط موت سے اسے انجات نہیں دے سکتی۔