تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 64. At-Taghaabun · Ayah 7

  1. زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ﴿7﴾

    1. زَعَمَدعوی کیا
    2. الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓاان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا
    3. اَنْ لَّنْکہ ہرگز نہ
    4. يُّبْعَثُوْااٹھائے جائیں گے
    5. قُلْکہہ دیجئے
    6. بَلٰى وَرَبِّيْکیوں نہیں ، میرے رب کی قسم
    7. لَتُبْعَثُنَّالبتہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے
    8. ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّپھر البتہ تم ضرور بتائے جاؤ گے
    9. بِمَا عَمِلْتُمْساتھ اس کے جو تم نے عمل کیے
    10. وَذٰلِكَاور یہ بات
    11. عَلَيپر
    12. اللّٰهِ يَسِيْرٌاللہ (پر) بہت آسان ہے
Translation · Al-Qurtubi
جو لوگ کافر ہیں انکا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے کہہ دو کہ ہاں ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ کے پھر جو جو کام تم کرتے رہے ہو وہ تمہیں بتائے دیں گے اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
کافروں نے یہ گمان کیا کہ انہیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ زعم سے مراد گمان رکھتے ہوئے کوئی بات کرنا۔ شریح نے کہا، ہر شی کی کنیت ہے اور کذب (جھوٹے) کی کنیت زعموا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عاص بن وائل سہمی اور حضرت خباب کے بارے میں نازل ہوئی۔ جس کی وضاحت سورة مریم کے آخر میں گزر چکی ہے پھر ہر کافر کو شامل ہوگئی۔ اے محمد چ ﷺ فرما دیجیے : کیوں نہیں تمہیں ضرور تمہاری قبروں سے زندہ کیا جائے گا پھر تمہیں تمہارے اعمال کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ دوبارہ اٹھانا اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی دفعہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔