تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 66. At-Tahrim · Ayah 9
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿9﴾
- يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّاے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
- جَاهِدِ الْكُفَّارَجہاد کیجئے کافروں سے
- وَالْمُنٰفِقِيْنَاور منافقوں سے
- وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْاور سختی کیجئے ان پر
- وَمَاْوٰىهُمْاور ان کا ٹھکانہ
- جَهَنَّمُجہنم ہے
- وَبِئْسَاور بدترین
- الْمَصِيْرُٹھکانہ ہے
Translation · Al-Qurtubi
اے پیغمبر کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
اس میں ایک ہی مسئلہ ہے :
وہ یہ کہ اللہ کے دین کے معاملہ میں سختی کی جائے
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ کفار کے ساتھ تلوار، وعظ و نصیحت اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں جہاد کریں اور منافقین کے ساتھ سختی کرنے اور حجت قائم کرنے میں جہاد کریں، ان پر آخرت کے احوال واضح کریں اور انہیں یہ بتائیں کہ ان کے لئے کوئی نور نہیں ہوگا جس کے ساتھ وہ پل صراط کو عبور کریں گے جبکہ مومنوں کے پاس نور ہوگا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ان پر حدود قائم کرنے میں جہاد کریں کیونکہ وہ ایسے کام کرتے تھے جو ان پر حدود کو واجب کرتے تھے اور حدود ان پر قائم کی جاتی تھیں (1) ۔ وما ولھم جھنم ضمیر دونوں قسموں یعنی کفار اور منافقین کی طرف لوٹ رہی ہے۔
وبئس المصیر۔ مصیر کا معنی لوٹنے کی جگہ ہے۔