Tafseer-e-Majidi - Al-Waaqia : 6
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
حضرت ابن عباس نے کہا : کیا تم اس کے عذاب سے امن میں ہو جو آسمان میں ہے اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے امنتم من فی السماء قدرتہ و سلطانہ و عرشہ و مملکتہ یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے جس کی قدرت، سلطان، عرش اور مملکت آسمان میں ہے۔ یہاں آسمان کو خاص کیا ہے جبکہ اس کی مملکت عام ہے۔ اس بات پر آگاہ کرنے کیلئے ہے الہ وہ ہے جس کی قدرت آسمانوں میں نافذ ہے نہ کہ وہ الہ ہے جس کی تم زمین میں عظمت بیان کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ملائکہ کی طرف اشارہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، جبرائیل امین کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حضرت جبرائیل امین وہ فرشتہ ہے جس کے ذمہ عذاب دینا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ احتمال موجود ہے کہ معنی ہو کیا تم بےخوف ہوگئے اس خالق سے جس نے پیدا کیا ہے ان چیزوں کو جو آسمان میں ہیں کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے جس طرح اس نے قارون کو زمین میں دھنسایا تھا۔ فاذا ھی تمور۔ یعنی وہ جائے گی اور آئے گی۔ مور کا معنی آنے اور جانے میں اضطراب ہے۔ شاعر نے کہا : رمین فاقصدن القلوب ولن تری دما ماترا الا جری فی الحیازم انہوں نحے تیر مارے اور انہوں نے دلوں کا قصد کیا تو ہرگز پھیلنے والے خون کو نہیں دیکھے گا مگر یہ کہ وہ سینے کے وسط میں چلتا ہے۔ حیازم یہ حیزوم کی جمع ہے۔ وہ سینہ کا وسط ہے جب انسان کو دھنسایا جاتا ہے تو زمین اس پر گھوم جاتی ہے۔ یہی مور ہے۔ محققین کہتے ہیں : کیا تم بےخوف ہو اس سے جو آسمانوں سے بھی اوپر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فسیحوا فی الارض (التوبہ : 2) یعنی جو آسمان سے اوپر ہے اس کا خوف مس کرنے سے نہیں اور نہ ہی اسے مکان بنانے سے ہے بلکہ وہ اس پر غلبہ رکھتا ہے اور تدبیر فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے امنتم من علی السماء جس طرح ولا وصلبنکم فی جذوع النخ (طہ : 71) فی، علی کے معنی میں ہے۔ اس کا معنی ہوگا اس کا مدبر اور اس کا مالک ہے جس طرح یہ جملہ بولا ا جاتا ہے : فلان علی العراق و العجاز یعنی فلاں عراق اور حجاز کا والی اور اس کا امیر ہے۔ اس باب میں اخبار بہت زیادہ ہیں، صحیح ہیں، مشہر و معروف ہیں، بلندی کی طرف اشارہ کرنے والیاں ہیں، ان کا انکار صرف ملحد یا معاند جاہل ہی کرسکتا ہے۔ ان سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور پستی سے اس کی پاکی بیان کرنا ہے۔ اس کی علو اور عظمت کے ساتھ صفت یہ جہات اور حدود کے اعتبار سے نہیں کیونکہ یہ اجسام کی صفات ہیں۔ دعا کے موقع پر ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے کیونکہ آسمان وحی کا محبط ہے، بارش وہاں سے نازل ہوتی ہے، پاکیزگی کا محل ہے اور پاکیزہ فرشتوں کا معدن ہے، بندوں کے اعمال اس کی طرف بلند کئے جاتے ہیں۔ آسمانوں سے اوپر اس کا عرش اور اس کی جنت ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو دعا اور نماز کا قبلہ بنا دیا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ نے امکنہ کو پیدا کیا ہے، وہ امکنہ کا محتاج نہیں، وہ مکان اور زبان کے پیدا کرنے سے پہلے ازل میں تھا، اس کا کوئی مکان اور زبان نہیں تھا، وہ اب بھی اسی طرح ہے جس طرح وہ پہلے تھا۔ قنبل نے ابن کثیر سے النشور، وامنتم پڑھا ہے۔ پہلے ہمزہ کو وائو اور دوسرے میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ کو فیوں، بصریوں اور اہل شام نے ابو عمرو اور ہشام کے علاوہ دونوں ہمزوں میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
Top