Al-Qurtubi - Al-Waaqia : 53
اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا بھلا انہوں نے دیکھا نہیں اِلَى الطَّيْرِ : پرندوں کی طرف فَوْقَهُمْ : ان کے اوپر صٰٓفّٰتٍ : صف بستہ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹ لیتے ہیں مَا يُمْسِكُهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو اِلَّا الرَّحْمٰنُ : مگر رحمن اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍۢ : ہر چیز کو بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیٹر بھی لیتے ہیں ؟ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے
اولم یروا الی الطیر فوقھم صفت جس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اس طرح پرندوں کے لئے ہوا کو مخسر کیا ہے صفت کا معنی باسات ہے یعنی وہ اڑنے کے وقت فضا میں اپنے پروں کو پھیلا لیتے ہیں کیونکہ جب وہ انہیں پھیلاتے تو، تو ادم (بڑے پر) کو صف درصف کرلیتے ہیں ویقضن انہیں پانے پہلوئوں سے مارتے ہیں۔ ابو جعفر نحاس نے کہا، پرندہ جب اپنے پروں کو پھیلائے تو اسے صافک ہتے ہیں اور جب انہیں ملا لے تو اسے قابضک ہتے ہیں کیونکہ اس وقت وہ پروں کو قبض کرلیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے پروں کو پھیلانے کے بعد قبض کرل یتے ہیں جب وہ اڑنے سے وقفہ کرتے ہیں۔ اس کا عطف صفت پر ہے۔ فعل مضارع کا عطف اسم فاعل پر ہے جب سرح اسم فاعل کا عطف فعل مضارع پر ہے۔ یقصد فی اسوقھا و جائر یہاں جائز کا عطف یقصد پر ہے۔ مایمسکھن الا الرحمٰن انہ بکل شیء بصیر۔ پرند جب فضا میں اڑ رہا ہو تو فضا میں اسے اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی نہیں روکتا۔
Top