Al-Qurtubi - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے
اس میں دو مسئلے ہیں : موت اور حیات کی تخلیق کا معنی مسئلہ نمبر 1 ۔ الذی خلق الموت ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تمہیں موت اور زندگی کے لئے پیدا کیا، یعنی دنیا میں موت کے لئے اور آخرت میں زندگی کے لئے پیدا کیا (3) ۔ موت کو زندگی پر مقدم کیا کیونکہ موت صفت قہر کے زیادہ قریب ہے جس طرح بنات کو بنین پر مقدم کیا فرمایا : یھب لمن یشاء اناثا (الشوریٰ :49) ایک قول یہ کیا گیا ہے : موت کو اس لئے مقدم کیا کیونکہ یہ زندگی سے پہلے ہے کیونکہ اشیاء ابتدا میں موت کے حکم میں تھیں جس طرح نطفہ، مٹی وغیرہ۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو موت کے ساتھ ذلیل کیا، دنیا کو زندگی کا گھر بنایا پھر موت کا گھر بنایا اور آخرت کو جزاء کا گھر پھر بقاء کا گھر بنایا “ (4) ۔ حضرت ابو دائود ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لولا ثلاث ما طاطا ابن آدم رأسہ الفقر و المرض والموت وانہ مع ذلک لوثاب اگر تین چیزیں نہ ہوں تو انسان اپنا سر نہ جھکائے فقر، مرض اور موت اس کے باوجود وہ اچھلنے کودنے والا اور جلد باز ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ الموت والحیوۃ موت کو حیات پر مقدم کیا کیونکہ جو انسان موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتا ہے اسے عمل کی طرف دعوت میں یہ سب سے قوی داعی (سبب) ہے اسے مقدم کیا کیونکہ جس غرض کے لئے آیت چلائی گئی ہے وہ زیادہ اہم ہے۔ علماء نے کہا : موت سے مراد عدم محض اور خالص فنا نہیں جبکہ موت سے مراد روح کا بدن سے جو تعلق ہے اس کا انقطاع اور اس کی مفارقت ہے، دونوں میں کسی چیز کا حائل ہونا، ایک حال سے دوسرے حال میں بدل جانا اور ایک دار سے دوسرے دار میں منتقل ہونا ہے، جبکہ زندگی اس کے برعکس ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، مکی اور مقاتل نے کہا : موت اور حیات دو جسم ہیں موت کو مینڈھے کی ایسی ہیئت میں بنایا گیا ہے جو کسی انسان کے پاس سے نہیں گزرتا اور کوئی اس کی ہوا نہیں پاتا مگر مر جاتا ہے، حیات کو ایسے گھوڑی کی صورت پر بنایا گیا ہے جو سیاہ وسفید رنگ والی ہے یہ وہی گھوڑی ہے جس پر حضرت جبریل امین اور انبیاء (علیہم السلام) سواری کیا کرتے تھے، اس کا ایک قدم حد نگاہ تک ہوتا ہے، جو گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی ہوتی ہے، یہ کسی چیز کے پاس سے نہیں گزرتی جو چیز اس کی ہوا پاتی ہے تو وہ زندہ ہوجاتی ہے، وہ کسی چیز کو نہیں روندتی مگر وہ ہر چیز زندہ ہوجاتی ہے، یہ وہی گھوڑی تھی جس کے قدم کے شان سے سامری نے کوئی چیز لی اسے بچھڑے پر ڈالا تو وہ زندہ ہوگیا، ثعلبی اور قشیری نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔ مادردی نے اسی کا معنی مقاتل اور کلبی سے نقل کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : قرآن حکیم میں ہے قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم (السجدہ :11) ولو تری اذیتوفی الذین کفروا الملئکۃ (الانفال :50) توفتہ رسلنا (الانعام : 61) فرمایا اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (الزمر : 42) واسطے فرشتے ہیں جو مکرم ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں۔ حقیقت میں موت عطا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ آخرت میں موت کو مینڈھے کی مثالی شکل دی جائے گی اور پل صراط پر اسے ذبح کردیا جائے گا جس طرح خبر صحیح میں واقع ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ اس خبر صحیح کا محتاج ہے جو عذر کو ختم کر دے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مقاتل سے یہ بھی مروی ہے : خلق الموت سے مراد ہے نطفہ، علقہ اور مضغہ کو پیدا کیا اور خلق الحیوۃ سے مراد ہے انسان کو پیدا فرمایا، اس میں روح پھونکی تو وہ انسان بن گیا۔ میں کہتا ہوں : یہ اچھا قول ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : لیبلوکم ایکم احسن عملا دلالت کرتا ہے۔ سورة کہف میں اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ سدی نے ایکم احسن عملا کا معنی یہ ذکر کیا ہے اکثر بکم للموت ذکر او احسن استعدادا تم میں سے کون موت کو زیادہ کرتا ہے اور کون اس کے لئے زیادہ تیاری کرتا ہے ؟ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے کون زیادہ خوف رکھتا ہے اور کون زیادہ احتیاط برتتا ہے ؟ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے سورت کے شروع احسن عملا تک آیات پڑھیں فرمایا : ” کون اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچتا ہے (1) اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں جلدی کرتا ہے “۔ لیکن ایک قول یہ کیا گیا ہے : لیبلوکم کا معنی ہے تمہارے ساتھ ممتحن کا سا معاملہ کرے یعنی موت دے کر بندے کو آزماتا ہے تاکہ اس کے صبر کو واضح کرے اور حیات دے کر آزماتا ہے تاکہ اس کے شکر کو واضح کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے بعث اور جزا کے لئے موت کو پیدا کیا اور زندگی کو آزمانے کے لئے پیدا کیا۔ لیبلوکم میں لام خلق حیات کے متعلق ہے خلق موت کے متعلق نہیں، زجاج نے اسے ذکر کیا ہے۔ فراء اور زجاج نے یہ بھی کہا : بلوی، ای پر واقع نہیں ہوتا کیونکہ بلوی اور ای کے درمیان فعل مضمر ہے جس طرح تو کہتا ہے : بلوتکم لانظر ایکم اطوع اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سلھم ایھم بذلک زعیم (القلم) ان سے پوچھیں پھر دیکھیں۔ ایکم مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے احسن اس کی خبر ہے معنی ہے تاکہ جانے یا دیکھے تم میں سے ازروئے عمل کے کون سب سے اچھا ہے ؟ و ھو العزیز الغفور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اس سے انتقام لینے میں غالب ہے اور جو توبہ کرے اس کو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
Top