تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 67. Al-Mulk · Ayah 27

  1. فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ﴿27﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. رَاَوْهُوہ دیکھ لیں گے اس کو
    3. زُلْفَةًنزدیک
    4. سِيْٓئَتْبگڑ جائیں گے
    5. وُجُوْهُ الَّذِيْنَچہرے ان لوگوں کے
    6. كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
    7. وَقِيْلَاور کہہ دیاجائے گا
    8. هٰذَا الَّذِيْیہ ہے وہ چیز
    9. كُنْتُمْتھے تم
    10. بِهٖساتھ اس کے
    11. تَدَّعُوْنَتم تقاضا کرتے
Translation · Al-Qurtubi
تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
فلما را اوہ زلفۃ زلفۃ مصدر ہے جو مزدلفا کے معنی میں ہے جس کا معنی قریب ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے ہا، اس کا معنی عیاں ہے۔ اکثر مفسرین نے کہا : معنی ہے جب وہ عذاب کو قریب دیکھیں گے۔ اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مجاہد نے کہا : مراد بدر کا عذاب ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس حشر کا ان سے وعدہ کیا گیا اس کو قریب دیکھیں گے۔ اس پر تحشرون دلالت کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب وہ اپنے برے عمل کو قریب دیکھیں گے۔ سیئت وجوہ الذین کفروا کفار کے ساتھ برا معاملہ کیا جائے گا۔ زجاج نے کہا، ان کے چہروں میں طوء کو ظاہر کر دے گا اور ان کے چہروں پر ایسی نشانی ظاہر ہوگی جو ان کے کفر پر دلالت کرے گی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم تبیض وجوہ و تسودو جوہ (آل عمران : 106) نافع، ابن محیصن، ابن عامر اور کسائی نے ضمہ کے اشمام کے ساتھ سیئت پڑھا ہے باقی قراء نے اشمام کے بغیر خفت کو طلب کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ جس نے ضمہ پڑھا اس نے اصل کو پیش نظر رکھا۔ وقیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون۔ فراء نے کہا، تدعون یہ دعا سے تفتعلون کا وزن ہے، یہ اکثر علماء کا قول ہے یعنی تم تمنا کرتے ہو اور سوال کرتے ہو۔ حضرت ابن عباس نے کہا، تم جھوٹ بولتے ہو۔ اس کی تاویل ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تم اباطیل کا دعویٰ کیا کرتے تھے، یہ زجاج کا قول ہے۔ عام قرأت تدعون ہے۔ اس کی تاویل وہی ہے جو ہم نے ذکر کردی ہے۔ قتادہ، ابن ابی اسحاق، ضحاک اور یعقوب نے تدعون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ ان کا یہ قول ہے ربنا عجل لنا قطنا (ص : 16) ضحاک نے کہا : وہ ان کا یہ قول ہے اللھم ان اکن ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء (الانفال : 32) حضرت ابو العباس نے کہا : تدعون کا معنی ہے تم جلدی مچاتے ہو۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعوت بکذا۔ جب تو اسے طلب کرے۔ ادعیت یہ اسی سے باب افتعال ہے۔ نحاس نے کہا : تدعون اور تدعون دونوں کا ایک ہی معنی ہے جس طرح کہا جاتا ہے : قدر اور اقتدر، عدی اور اعتدی، مگر افتعل میں ایسا معنی ہے کہ ایک شی دوسری شی کے بعد واضح ہوتی ہے اور فعل، قلیل و کثیر پر واقع ہوتی ہے۔