Al-Qurtubi - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
کہہ دو کہ وہ (جو خدائے) رحمن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا
کسائی نے تعلمون کو یائ کے ساتھ پڑھا ہے (1) اور اسے علی سے روایت کیا ہے باقی قراء نے خطاب کے صیغہ کے طور پر پر تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ان کو دھمکانا ہے۔ یہ سوال کیا جاتا ہے : امنا کے مفعول بہ کو موخر کیا گیا اور توکلنا کے مفعول کو مقدم کیا گیا ؟ تو اس کا جواب دیا جائے گا : کافروں کے ذکر کے بعد جب اس کو ذکر کیا تو کفار سے اشارۃ بات کی گی گویا کہا گیا ہم ایمان لائے اور ہم نے کفر نہیں کیا جس طرح تم نے کفر کیا۔ پھر فرمایا، وعلیہ توکلنا خصوصاً ہم ان چیزوں پر بھروسہ نہیں رکھتے جن پر تم بھروسہ رکھتے ہو جیسے اپنے مردوں اور اپنے اموال پر، یہ زمحرشی کا قول ہے (2) ۔
Top