Al-Qurtubi - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟
الذی خلق سبع سموت طباقا ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں ان کی اطراف ملے ہوئے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ طباقاً یہ نعت کی صفت ہے مصدر کے ساتھ اس کی صفت لگائی گئی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدر ہے مطابقہ کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی خلق سبع سموات وطبقھا تطبیقا او مطابقۃ یا تقدیر کلام یوں ہوگی طوبقت طباقا۔ سیبویہ نے کہا : طباقا منصوب ہے کیونکہ یہ مفعول ثانی ہے۔ میں کہتا ہوں : خلق، جعل اور صیئر کے معنی میں ہوگا۔ طباق، طبق کی جمع ہے جس طرح جمل کی جمع جمال ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ طبقہ کی جمع ہے۔ ابان بن تغلب نے کہا : میں نے ایک بدو کو سنا جو کسی آدمی کی مذمت کر رہا تھا تو اس نے کہا : شرہ طباق وخیرہ غیر باق اس کا شر تہہ در تہہ رہے اور اس کی خیر باقی رہنے والی نہیں (1) ۔ قرآن کے علاوہ میں سبع سموات طباق پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ سموت کی صفت ہوئی اس کی مثل قرآن حکیم میں بھی ہے وسبع سنبلت خضر (یوسف : 43) ماتری فی خلق الرحمن من تفوت حمزہ اور کسائی کی قرات من تفوت ہے الف نہیں وائو مشدد ہے (2) ، یہ حضرت ابن مسعود اور اس کے اصحاب کی قرات ہے باقی قراء نے من تفاوت پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح تعاھد اور تعھد، تحمل اور تحامل، تظھر اور تظاہر، تصغرا اور تصاغر، تضقف اور تضاعف، تبعد اور تباعد ہے دونوں کا معنی ایک ہے۔ ابو عبید نے من تفوت کی قرات کو اختیار کیا ہے اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کی حدیث سے استدلال کیا : امثلی یتفوت علیہ فی بناتہ کیا مجھ جیسے آدمی کی عدم موجودگی میں اس کی بیٹیوں میں اس کی اجازت کے بغیر معاملہ کیا جاتا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ امر ابو عبید پر رد کردیا جائے گا کیونکہ یتفوت کا معنی ہوتا ہے مشورہ کے بغیر کام کرنا۔ آیت میں تفوت کا لفظ مناسب ہے جس طرح تباین کہا جاتا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : فاوت الامر جب اس میں جدائی اور بعد میں پیدا ہوجائے یعنی ان میں سے بعض، بعض سے فوت ہوجائے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اس سے قبل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الذی خلق سبع سموت طباقا معنی ہے آپ ﷺ رحمن کی تخلیق میں کوئی کجی، نقص اور تباین نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ تقسیم ہیں، مستوی ہیں اور اس کے خالق ہونے پر دال ہیں اگرچہ ان کی صورتیں اور صفات مختلف ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد صرف آسمان ہیں یعنی آپ ﷺ آسمان کی تخلیق میں کوئی عیب نہیں دیکھیں گے۔ اس کی اصل فوت ہے مراد ہے کوئی چیز کسی چیز کو نہ پائے تو برابری میں کمی کی وجہ سے خلل واقع ہوجائے۔ اس پر حضرت ابن عباس ؓ کا قول دلالت کرتا ہے فرمایا : معنی ہے من تفرق ابو عبید نے کہا : تفوت الشی کا معنی ہے جب وہ چیز ناپید ہوجائے پھر حکم دیا کہ اس کی تخلیق میں تم غوروفکر کرو تاکہ تم اس سے عبرت حاصل کرو اور اس کی قدرت میں غوروفکر کرو تو فرمایا : فارجع البصر ھل تری من فطور۔ اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھائو یہ جملہ بولا جاتا ہے : قلب البصر فی السماء اس نے آسمان کی طرف نظر کو اٹھایا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اجھد بالنظر الی السمائ۔ معنی قریب قریب ہے۔ فارجع ارشاد فرمایا اور فاء کا ذکر کیا اس سے پہلے فعل مذکور نہیں کیونکہ فرمایا : ما تری معنی ہے دیکھئے پھر نظر کو لوٹائیے کیا آپ ﷺ کوئی کجی دیکھتے ہیں ؟ یہ قتادہ کا قول ہے۔ فطور کا معنی پھٹن ہے، یہ مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے (1) ۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے خلل یعنی نقص (2) ۔ سدی نے کہا : معنی ہے کوئی شگاف (3) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے کمزوری۔ یہ تفطر اور انفطار سے ماخوذ ہے جس کا معنی انشقاق ہے۔ شاعر نے کہا : بنی لکم بلا عمد سماء و زینھا فما فیھا فطور بغیر ستونوں کے تمہارے لئے آسمان بنایا اور اسے مزین کیا اس میں پھٹن نہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : شققت القلب ثم ذررت فیہ ھواک فلیم فالتام الفطور تو نے دل کو پھاڑا پھر تو نے اس میں اپنی محبت کا بیج بویا پھر اسے جوڑ دیا گیا تو شگاف مندمل ہوگیا۔
Top