Al-Qurtubi - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
پھر دوبارہ (سہ بارہ) نظر کر تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹے گی۔
ثم ارجع البصر کزتین، کرتین مفعول مطلق ہے کیونکہ اس کا معنی دو بار لوٹنا ہے۔ معنی یکے بعد دیگرے۔ دو دفعہ دیکھنے کا حکم دیا کیونکہ انسان جب کسی چیز کو ایک دفعہ دیکھتا ہے تو اس کا عیب نہیں پاتا جب تک دوسری دفعہ اسے نہ دیکھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی اگرچہ دو دفعہ دیکھا تب بھی کوئی عیب نہ پایا بلکہ دیکھنے کے ساتھ متحیر ہوگئے اسی وجہ سے فرمایا : ینقلب الیک البصر خاسا یعنی آنکھ لوٹے گی جھکی ہوئی درماندہ اور کوئی عیب پانے سے دور۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : خسأت القلب تو نے اسے دور کردیا اور دخا الکلب بنفسہ کتنا خود دور ہوگیا۔ یہ متعدی اور غیر متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے انخسأ الکلب یہ جملہ بھی بولا جاتا ہے : خسا البصر خساء خسوء اس کی آنکھ نہیں دیکھی، اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ینقلب الیک البصر خاسا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : خاسی اسے کہتے ہیں جو ایسی چیز نہ دیکھے جس کی وہ خواہش کرتا تھا۔ وھو حسیر۔ وہ تھکاوٹ میں انتہا کو پہنچ گئی۔ حسیر اسم فاعل کے معنی میں ہے یہ حسور سے مشتق ہے جس کا معنی نکلنا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ حسرہ، بعد الشی سے اسم مفعول کے معنی میں ہو۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے، اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : من مد طرفا ال ما فوق غایتہ ارتد خسان منہ الطرف قد حسرا جو آدمی اپنی حد سے اوپر نظر کرتا ہے اس کی آنکھ ناکام لوٹتی ہے جبکہ وہ سخت تھکی ہوتی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : قد حسر بصرہ حسر حسورا یعنی وہ تھک گئی اور زیادہ عرصہ دیکھنے کی وجہ سے اس کی نظر میں انقطاع آیا اور جو اس کے مشابہ ہو۔ اس سے صفت کے صیغے حسیر اور محسور استعمال ہوتے ہیں شاعر نے کہا : نظرت الیھا بالمحصب من منی فعاد الی الطرف وھو حسیر میں نے اس کی طرف محصب سے دیکھا جو مٹی سے ہے، نظر میری طرف لوٹی جبکہ وہ تھکی ماندی تھی۔ ایک اور اونٹنی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے : فشطرھا نظر العینین محسود اس اونٹنی کی جانب آنکھوں کی نظر تھکی ماندی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی نادم ہے۔ اس معنی میں شاعر کا قول ہے : ما انا الیوم علی شی خلا یا بنۃ القین تولی بحسر اے بنت قین ! میں آج ہاتھ سے نکل جانے والی چیز پر شرمندہ ہو کر پلٹنے والا نہیں کرتین سے مراد یہاں کثرت ہے اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ینقلب الیک البصر خاسا وھو حسیر۔ بار بار دیکھنے پر دلیل ہے۔
Top