Tafseer-e-Saadi - Al-Waaqia : 31
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے
ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح، مصابیح، مصباح کی جمع ہے جس کا معنی چراغ ہے۔ ستاروں کو مصابیح کا نام دیا کیونکہ یہ بھی روشن ہوتے ہیں۔ وجعلنھا رجوما ھا ضمیر سے پہلے شھب کا لفظ مخدوف ہے اس کی دلیل الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شہاب ثاقب (الصافات) ہے۔ اس تاویل کی بنا پر مصابیح نہ زائل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر مصابیح کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس تاویل کی بنا پر رجم نفس کواکب سے و گا اور کو کب (ستارہ) خود ساقط نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے جس کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے نہ اس کی روشنی میں کمی آتی ہے اور نہ ہی اس کی صورت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ابو علی نے یہ بات اس کے قول کے جواب میں کہی جو یہ کہتا ہے : یہ زینت کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے جو باقی ہی نہیں رہتے ؟ مہدوی نے کہا : یہ اس صورت میں ہوگا کہ اس کا اخذ کرنا کواکب کے موضع سے ہو تقدیر اول اس صورت میں ہوگی جب اخذ کرنا اس سے ہو جو کواکب کے موضع سے نیچے ہے۔ قشیری نے کہا : ابو علی کے قول سے زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ ہم یہ کہیں : یہ آسمانوں کی زینت ہیں جبکہ ان کے ساتھ بھی شیاطین کو رجم نہ کیا جائے۔ رجوم، رجم کی جمع ہے یہ مصدر ہے اس کے ساتھ نام رکھا جاتا ہے اس چیز کا جس کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے نجوم کے تین فائدے بنائے ہیں۔ (1) یہ آسمان کی زینت ہیں۔ (2) شیاطین کے لئے رجم ہیں۔ (3) ایسی علامات ہیں جن کے ساتھ خشکی، سمندر اور اوقات میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ جس نے ان تین مقاصد کے علاوہ کی تاویل کی ہے اس نے اس چیز کا تکلف کیا ہے جس کے بارے میں کوئی علم نہ ہو، اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ محمد بن کعب نے کہا : اللہ کی قسم ! اہل زمین میں سے کسی کے لئے بھی آسمان میں کوئی ستارہ نہیں لیکن اہل زمین نے کہانت کو اس کی راہ بنا دیا اور انہوں نے ستارہ کو علت بنا دیا ہے۔ واعتدنا لھم عذاب السعیر۔ ہم نے شیاطین کے لئے شدید آگ تیار کر رکھی ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، سعرت النار فھی مسعودرۃ سعیر جس طرح مقتولۃ اور قتیل کا لفظ ہے۔
Top