Al-Qurtubi - Al-Waaqia : 16
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ
اِذَآ اُلْقُوْا : جب وہ ڈالیں جائیں گے فِيْهَا : اس میں سَمِعُوْا : سنیں گے لَهَا : واسطے اس کے شَهِيْقًا : چلانا وَّهِىَ تَفُوْرُ : اور وہ جوش کھارہی ہوگی
جب وہ اس میں ڈالے جائیں کے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔
اذا القوفیھا وائو ضمیر سے مراد کفار ہیں۔ سمعوالھا شھیقا شھیق سے مراد آواز ہے۔ حضرت ابن باس نے کہا : جب کفار کو جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت جہنم کی یہ آواز ہوگی (1) وہ ان کے لئے یوں آواز نکالے گی کہ ہر کوئی خوفزدہ ہوجائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب کفار کو جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت کفار کی یہ آواز ہوگی، یہ عطا کا قول ہے۔ شبیق سینے کی آواز کو کہتے ہیں اور زفیر حلق کی آواز کو کہتے ہیں۔ سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے وھی تفور وہ جوش مارے گی۔ حضرت حسان کا شعر ہے : ترکتم قدرکم لاشئی فیھا و قدر القوم حامیۃ تفور تم نے اپنی ہنڈیا کو یوں چھوڑا کہ اس میں کچھ بھی نہیں جبکہ قوم کی ہنڈیاں گرم ہے، جوش مار رہی ہے۔ مجاہد نے کہا : وہ ان کے ساتھ جوش مار رہی ہوگی جس طرح کثیر پانی میں تھوڑے دانے جوش مارتے ہیں (2) حضرت ابن عباس نے کہا : وہ ہنڈیا ان پر جوش مار رہی ہوگی جس میں وہ ہوں گے۔ یہ سخت غصہ کی وجہ سے آگ کے شعلہ کی شدت کا اظہار ہے جس طرح تو کہتا ہے : فلان یفور غیظاً وہ غصہ کی وجہ سے جوش مار رہا ہے۔
Top