Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 41
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
تَكَادُ : قریب ہے کہ تَمَيَّزُ : پھٹ جائے مِنَ الْغَيْظِ : غضب سے۔ غصے سے كُلَّمَآ : جب کبھی اُلْقِيَ فِيْهَا : ڈالی جائے گی اس میں فَوْجٌ : کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ سَاَلَهُمْ : پوچھیں گے ان سے خَزَنَتُهَآ : ان کے داروغہ۔ چوکیدار اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس نَذِيْرٌ : کوئی ڈرانے والا
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟
تکاد تمیز من الغیظ وہ ٹکڑے ہوجائے گی اور اس کا بعض، بعض سے جدا ہوگا، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے (1) حضرت ابن عباس ضحاک اور ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر شدت غیظ کی وجہ سے پھٹ جائے گی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : من الغیظ کا معین جوش مارنا ہے۔ تمیز کی اصل تتمیز ہے کلمآ القی فیھا فوج فوج سے مراد کفار کی جماعت ہے۔ سالھم خزنتھآ جہنم کے داور غے تو بیخ اور قریع کے انداز میں ان سے سوال کریں گے۔ الم یاتکم نذیر۔ کیا تمہارے پاس دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جو تمہیں اس دن سے ڈراتا یہاں تک کہ تم احتیاط برتتے ؟ قالوا بلی قدجآء نا نذیر یعنی ہمارے پاس ڈرانے والا آیا، اس نے ہمیں ڈرایا اور خبردار کیا۔ فکذبنا و قلنا مانزل اللہ من شیء یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری زبانوں پر کچھ نازل نہیں کیا۔ ان انتم ضمیر سے مراد رسولوں کی جماعت ہے۔ الا فی ضلل کبیر۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلانے کا اعتراف کیا، پھر انہوں نے جہالت کا اعتراف کیا جبکہ وہ جہنم میں ہوں گے لو کنا نسمع کاش ہم رسولوں کی باتوں کو سنتے جو رسول لاتے تھے او نعقل یا ان سے حکمت کی باتوں کو سمجھتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : کاش ! ہم ہدایت کی بات کو سنتے یا اسے سمجھتے یا ہم اس آدمی کے سننے کی طرح سنتے جو یاد رکھتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے یا ہم اس آدمی کی طرح سمجھتے جو امتیاز رکھتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے (3) یہ اس امر پر دال ہے کہ کافر کو کچھ بھی عقل نہیں دیا گیا۔ سورة طور میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ ماکنان فی اصحب السعیر۔ یعنی ہم جہنمی نہ ہوتے۔ حضرت ابوسعید خدرمی سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” قیامت کے روز تاجر شرمندہ ہوں گے۔ کہیں گے : کاش ! ہم سنتے یا سمجھ بوجھ رکھتے تو ہم جہنمی نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ “ یعنی انہوں نے رسولوں کو جھٹلانے کے لئے جرم کا اعتراف کرلیا۔ یہاں ذنبا جمع کے معنی میں ہے کیونکہ اس میں فعل کا معنی پایا جات رہا ہے۔ یہ جملہ بوالا جاتا ہے : خرج عطاء الناس یعنی ان کے عطیات نکل گئے۔ فسحقالا صحب السعیر۔ اللہ تعالیٰ کی رحمحت سے انہیں دور کردیا گیا ہے۔ سعید بن جبیر اور ابو صالح نے کہا، یہ جہنم میں وادی ہے جسے سحق کہتے ہیں (1) کسائی اور ابو جعفر نے اسے فسحقا حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے (2) یہ حضرت علی شیر خدا سے بھی مروی ہے۔ باقی قراء نے اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح سحت اور رعب زجاج نے کہا : یہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے، تقدیر کلام یہ ہے اسحقھم اللہ سحقاً یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں دور کردیا۔ امراء القیس نے کہا ، وستسحقہ ریح الصبا کل مسحق بادصبا اسے دور کرتی ہے۔ ابوعلی نے کہا، قیاس تو یہ تھا کہ مصدر اسحاقا ہوتا تو مصدر حروف زائدہ کے حذف کے ساتھ آیا ہے جس طرح کہا گیا : وان اھلک فذالک کان قدری اگر میں ہلاک کیا جائوں تو یہی میری تقدیر ہوگی۔ محل استدلال قدری ہے جو اصل میں تقدیری تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان انتم الا فی ضلل کبیر۔ یہ جہنم کے داور غوں کا قول ہے جو وہ جہنمیوں کو کہیں گے۔
Top