تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 68. Al-Qalam · Ayah 33

  1. كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿33﴾

    1. كَذٰلِكَاسی طرح ہوتا ہے۔ ایسا ہوتا ہے
    2. الْعَذَابُعذاب
    3. وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِاور البتہ عذاب آخرت کا
    4. اَكْبَرُزیادہ بڑا ہے
    5. لَوْ كَانُوْاکاش وہ ہوتے
    6. يَعْلَمُوْنَوہ جانتے
Translation · Al-Qurtubi
(دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
کذلک العذاب یعنی دنیا کا عذاب اور اموال کی ہلاکت، یہ ابن زید سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل مکہ کو نصیحت کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی دعا کی وجہ سے خشک سالی میں مبتلا کیا تھا یعنی ہم ان کے ساتھ دنیا میں اسی قسم کا معاملہ کریں گے جو بلھی ہماری حدود کو پامل اکرے گا (1) ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ اہل مکہ کے لئے مثال ہے جب وہ بدر کی طرف نکلے اور انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کو قتل کریں گے اور مکہ کی طرف لوٹیں گے یہاں تک کہ بیت اللہ شریف کا طواف کریں گے، شرب پئیں گے اور لونڈیاں ان کے پاس نغمے گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الگ کردیا، انہیں گرفتار کرلیا گیا، انہیں قتل کردیا گیا اور ان باغ والوں کی طرح انہیں شکست کھانا پڑی جب باغ والے فصل کاٹنے کے لئے نکلے تھے اور خئاب و خاسر ہوئے۔ پھر یہ قول کیا گیا ہے : وہ حق جسے باغ والوں نے مساکین سے روکا تھا، اس بارے میں احتمال ہے کہ ان پر واجب ہو اور یہ احتمال ہے کہ وہ نفل ہو۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ یہ سورت مکی ہے تو آیت کو اہل مکہ پر جو قحط آیا یا غزوہ بدر میں جو انہیں قتل کیا گیا اس پر محمول کرنا ممکن نہیں۔