Al-Qurtubi - Al-Haaqqa : 47
فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ
فَمَا مِنْكُمْ : تو نہ ہوتا تم میں سے مِّنْ اَحَدٍ : کوئی ایک عَنْهُ : اس سے حٰجِزِيْنَ : روکنے والا۔ باز رکھنے والا ہوتا
پھر تم میں سے کوئی ہمیں اس سے روکنے والا نہ ہوتا
فما منکم من احدعنہ حجزین۔ مانا فیہ ہے احد جمع کے منی میں ہے اس وجہ سے اس کی صفت جمع سے لگائی گئی ہے یعنی تم میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جو اس سے روکنے والی ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لانفرق بین احد من رسلہ (البقرۃ : 285) یہاں بھی احد جمع پر دال ہے کیونکہ بین کا لفظ دو یا زیادہ افراد پر ہی داخل ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، لم تحل الغنائم لاحد سود الرئوس قبلکم تم میں سے کسی سردار کے لئے غنیمت حلال نہیں تھی۔ یہاں بھی لفظ احد ہے اس کا معنی جمع کا ہے اور بین زائد ہے حجز کا معین روکنا ہے حجزین کے بارے میں جائز ہے کہ یہ احد کی صفت ہو معنی مع تبار سے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے تو یہ محل جر میں ہوگا۔ خبر منکم ہوگی۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ منصوب ہو اور خبر ہو اور منکم ملفا ہو اور حجزین کے متعلق ہو اس میں خبر کے منصوب ہونے میں یہ مانع نہیں جس طرح ان قیک زیذا راغب میں فصل مانع نہیں وانہ لتذکرۃ للمتقین ضمیر سے مراد قرآن ہے قرآن ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس کی مثل فیہ ھدی للمتقین۔ (بقرہ) ہے جس طرح ہم نے سورة بقرۃ کے آغاز میں بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے یعنی حضور ﷺ نصیحت، رحمت اور نجات ہیں (5) ۔
Top