تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 1

  1. سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ﴿1﴾

    1. سَاَلَسوال کیا
    2. سَآئِلٌۢسوال کرنے والے نے
    3. بِعَذَابٍعذاب کا
    4. وَّاقِعٍجو واقع ہونے والا ہے
Translation · Al-Qurtubi
ایک طلب کرنیوالے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہگا
Tafseer · Al-Qurtubi
سال سائل بعذات واقع۔ نافع اور ابن عامر نے سال سائل پڑھا ہے (1) یعنی ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جس نے اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے تو اس وقت یہ سوال سے مشتق ہوگا۔ باء کے بارے میں جائز ہے کہ یہ زائدہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ عن کے معین میں ہو۔ سوال، دعا کے معنی میں ہوگا یعنی ایک دعوت دینے والے نے عذاب کو دعوت دی، یہ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعا علی فلاں بانویل دعا علیہ بالعذاب یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعوت زیداً یعنی میں نے اس کے حاض رہونے کی التماس کی مراد ہوگا ایک التماس کرنے والے نے کافروں کے لئے عذاب کیا لتماس کی۔ قیامت کے روز لامحالہ ان پر واقع ہوگا۔ اس تعبیر کی بنا پر باء زائدہ ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تثبت بالدھن (المومنون : 20) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وھزی الیک بجذع النخلۃ (مریم : 25) یہ تاکید ہے یعنی ایک سائل نے واقع ہونے والے عذاب لے بارے میں سوال کیا۔ للکفرین الام علی کے معنی میں ہے۔ سوال کرنے والے نضر بن حارث تھا (2) اللہ تعالیٰ نے اس کے سوالوں کا یوں ذکر کیا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئینا بعذاب الیم۔ (النفال) اس کا سوال پورا ہوا غزوہ بدر کے موقع پر اسے اور عقبہ بی ابی معیط کو اتنقام میں قتل کیا گیا اس کے علاوہ کسی کو اتنقام میں قتل نہیں کیا گیا : یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں سائل حارث بن نعمان فہری تھا اس کی وجہ یہ بنی کہ جب اسے نبی کریم ﷺ کا حضر علی شیر خدا کے بارے میں یہ فرمان پہنچا، من کنت مولاہ فعلی مولاہ (1) وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہوا وہ آیا یہاں تک کہ اس نے اپنی سواری ابطح میں بٹھائی پھر کہا : اے محمد ! ﷺ تو نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں حکم دیا کہ ہم لا الا الہ اللہ کی وانک رسول اللہ کی گواہی دیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی، ہم پانچ نمازیں پڑھیں تو ہم نے آپ ﷺ سے وہ بات قبول کی، ہم اپنے اموال کی زکوۃ دیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی ہر سال ہم رضمان شریف کیر وزے رکھیں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی، ہم حج کریں تو ہم نے وہ بات آپ ﷺ سے قبول کی پھر آپ ﷺ اس بات پر بھی راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے چچا زاد کو ہم پر فضیت دی۔ کیا یہ ایسی بات ہے جو آپ ﷺ نے پانی جانب سے کی ہے یا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ! یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے “ حارث مڑا وہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! اگر وہ حق ہے جو محمد ﷺ کہتے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب لے آ۔ اللہ کی قسم ! وہ اپنی اونٹنی تک نہیں پہنچا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک پھتر مارا جو اس کے دماغ کو لگا تو وہ اس کی دبر سے نکل گیا تو اسے قتل کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی سال سائل بعذاب واقع۔ (٭) ایک قول یہ کیا گیا ہے : قریش کے کفار کی جماعت کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے کافروں کے خلاف عذاب کا سوال کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں آپ ﷺ نے عذاب کا مطالبہ کیا اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ اسے کفار پرو اقع کرے وہ لامحالہ ان پر واقع ہوگا۔ کلام اس ارشاد تک فاصبر صبراً جمیلاً ۔ تک ممتد ہے یعنی جلدی نہ کیجیے عذاب بالکل قریب ہے جب باء امن کے معنی میں ہو، یہ قتادہ کا قول ہے تو سائل یہ سوال کرتا ہے کہ عذاب کس کو واقع ہوگا یا کب واقع ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فسئل بہ خبیراً ۔ (الفرقان) اس آیت میں بھی باء عن کے معنی میں ہے۔ علقمہ نے کہا : فان تسالونی بالنساء بصیر بادواء النساء طبیب (2) اگر تم مجھ سے عورتوں کے بارے میں پوچھو تو عورتوں کی بیماریوں کو جاننے والا طبیب ہوں۔ اگر تم مجھ سے عورتوں کے بارے میں پوچھو تو عورتوں کی بیماریوں کو جاننے وا ا طبیب ہوں۔ یہاں بھی بالنساء عن النسئا کے معنی میں ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : حرجنا نسال عن فلان و بفلان یعنی باء اور عن دونوں صلے اسعتمال ہوتے ہیں۔ معنی ہوگا انہوں نے سوال کیا کس پر عذاب واقع ہوگا اور کس کے لئے واقع ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : للکفرین کافروں پر یا کافروں کے لئے۔ ابو علی اور دوسرے علماء نے کہا، جب یہ سوال سے مشتق ہو تو اس کی اصل یہ ہے کہ وہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا، ایک مفعول پر اقتصار کرنا جائز ہے۔ جب ان دونوں میں سے ایک مفعول پر اقتصار ہو تو جائز ہوگا کہ حرف جار کے ساتھ اس کی طرف متعدی ہو تو تقدیر کلام یہ ہوگی : سائل نے نبی کریم ﷺ یا مسلمانوں سے واقع ہونے والے عذاب کے بارے میں سوال کیا۔ جس نے اسے ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے تو اس کے نزدیک دو توج ہیں ہوں گی (1) یہ سوال کی لغت ہے، یہ قریش کی لغت ہے عرب کہتے ہی سال، یسال۔ جس سرح نال، ینال۔ خاف، یخاف ہے دوسری توجیہ یہ ہے کہ یہ سیلان سے مشتق ہے۔ حضرت ابن عباس کی قرات اس کی تائید کرتی ہے سال، سل۔ عبدالرحمٰن بن زید نے کہا، سال وادمن اودیۃ جھنم جسے سائل کہتے ہیں : یہ حضرت زید بن ثابت کا قول ہے۔ ثعلبی نے کہا، پہلا قول زیادہ اچھا ہے جس طرح اعشی ہمزہ کی تخفیف کرتے ہوئے کہتے ہیں : سالتانی الطلاق اذ راتانی قل مالی قد جئتمانی بنکر ان دونوں نے مجھ سے طلاق کا سوال کیا جب ان دونوں نے مجھے دیکھا کہ میرا مال کم ہو یا ہے تحقیق تم دونوں میرے پاس عجیب و غریب بات لائے ہو۔ صحاح میں ہے اخفش نے کہا، یہ جملہ بولا جاتا ہے خرجنا نسال عن فلان و بفلان بعض اوقات اس کے ہمزہ میں تخفیف کردی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے : سال یسال کہا : ومرھق سال امتاعاب باء صدتہ محل استدلال سال ہے مرھق اسے کہتے ہیں جس کو قتل کرنے کے لئے پکڑالیا گیا ہو۔ اصدہ ضمہ کے ساتھ ہے ایسی چھوٹی قمیص جسے کپڑے کے نیچے پہنا جاتا ہے۔ مہدوی نے کہا، جس نے سال پڑھا ہے اس کے لئے جائز ہے کہ وہ ہمزہ میں تخفیف کرے کہ اسے الف سے بدل دے یہ خلاف قیاس بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ الف وائو سے بدلا ہوا ہو، یہ اس کی لغت کے مطباق ہے جو یہ کہے : سلت اسال، جس طرح خفت، اخاف ہے۔ نحاس نے کہا : سیبویہ نے سلت اسال حکایت کیا ہے جس طرح خفت اخاف ہے یہ سالت کے معنی میں ہے یہ شعر پڑھا : سالت ھذیل رسول اللہ فاحشۃ ضلت ھذیل بما سالت ولم تصب (1) ہذیل نے رسول اللہ ﷺ سے فحش سوال کیا ہذیل سوال کے باعث گمراہ ہوگیا اس نے صحیح راہ نہ پائی۔ یہ کہا جاتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں۔ مہدوی نے کہا، یہ بھی جائز ہے کہ یہ یاء سے بدلا ہوا ہو یہ سال، یسیل سے مشتق ہے تو سایل جہنم میں ایک وادی ہوئی۔ پہلے قول کے مطاق سائل کا ہمزہ اصلی ہوگا اور دوسرے قول کے مطابق وائو کا بدل ہوگا اور تیسرے قول کے مطابق یاء کا بدل ہوگا۔ قشیری نے کہا، سائل مہموز ہے کیونکہ جب یہ ہمزہ کے ساتھ ہو تو یہ مہموز ہوگا اگر ہمزہ کے ساتھ نہ ہو تو بھی مہموز ہی ہوگا جس طرح قائل اور خئاف ہے کیونکہ جب فعل کے عین کلمہ میں علال کا قاعدہ جاری ہو تو اسم فاعل میں بھی اعلال کا قاعدہ جاری ہوتا ہے التباس کے خوف سے حذف کے ساتھ اعلال جاری نہیں ہوگا تو اسے ہمزہ کے ساتھ بدل دیا جائیگا تیرے لئے یہ جائز ہے کہ تو ہمزہ میں تخفیف کرے یہاں تک کہ وہ بین بین ہوجائے۔ واقع وہ عذاب کفار پر واقع ہوگا۔ یہ امر واضح کیا کہ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوگا جو معارج والا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : سال سآئل بعذات واقع۔ پوچھا : کس کے لئے ؟ فرمایا : کافروں کے لئے (1) کا ذین میں جو لام ہے یہ واقع کے متعلق ہے۔ فراء نے کہا، تقدیر کلام یوں ہے بعذاب للکافرین واقع اس اعتبار سے واقع، عذاب کی صفت ہوگی۔ لام عذاب کے لئے داخل ہوا واقع کے لئے داخل نہیں ہوا، یعنی یہ عذاب آخرت میں کافروں کے لئے ہے۔ کوئی بھی ان سے اس عذاب کو دور نہیں کرسکے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لام، علی کے معنی میں ہے۔ معنی ہے کافروں پر واقع ہوگا۔ روایت بیان کی گئی ہے حضرت ابی کی قرأت میں یہ اسی طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عن کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کافروں سے اس عذاب کو دور کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یعنی یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو معارج والا ہے۔ جو علو، فاضل درجات والا اور نعمتوں والا ہے، یہ حضر ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے۔ معارج سے مراد مخلقو کے اوپر اس کے انعام کے مراتب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عظمت و علاو الا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد آسمان کے معارج ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ملائکہ کے معارج ہیں کیونکہ ملائکہ آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں تو اپنی صفت اس سے بیان کی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معارج سے مراد بالا خانے ہیں یعنی وہ بالا خانوں کا مالک ہے یعنی اس نے اپنے الویاء کے لئے جنت میں بالا خانے بتائے ہیں۔ عبداللہ نے ذی المعاریج پڑھا ہے۔ یوں کہا جاتا ہے : معرج معراج معارج اور معاریج جس طرح مفتاح اور مفاتیح ہے۔ معارج سے مراد درجات ہیں اسی سے معارج علیھا یظھرون۔ (زخرف) ہے۔ تعرج الملئکۃ ول اور ح وہ معارج میں بلند ہوتے ہیں (3) جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بنائے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ان کے اصحاب، سلمی اور کسائی نے یعرج قرأت کی ہے ارادہ جمع کا کیا ہے کیونکہ ان کا قول ہے ملائکہ کو مذکر ذکر کرو، انہیں مونث نہ گردانوں۔ باقی قراء نے جماعت کا ارادہ کرتے ہوئے تاء کے ساتھ قرأت کی ہے۔ الروح سے مراد حضرت جبرائیل امین ہے (4) یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : نزل بہ الروح الامین۔ (الشعرائ) ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ایک فرشتہ ہے جو بہت سی عظیم مخلوق ہے۔ ابو صالح نے کہا، یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، لوگوں کی شکل و صورت پر ہے مگر وہ انسان نہیں۔ قبیصہ بن زویب نے کہا، یہ میت کی روح ہے جب اسے قبض کا جائے۔ الیہ اس مکان کی طرف جوان کا محل ہے، وہ آسمان میں ہے کیونکہ وہ اس کی نیکی اور کرامت کا محل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول کی طرح ہے انی ذاھب الی ربی (الصافات : 99) یعنی اس جگہ کی طرف جانے والا ہوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، الیہ کی ضمیر سے مراد اس کا عرش ہے۔