تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 11

  1. یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ﴿11﴾

    1. يُّبَصَّرُوْنَهُمْوہ دکھائے جائیں گے ان کو
    2. يَوَدُّچاہے گا
    3. الْمُجْرِمُمجرم
    4. لَوْ يَفْتَدِيْکاش فدیے میں دے دے
    5. مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۢاس دن کے عذاب سے
    6. بِبَنِيْهِاپنے بیٹے کو
Translation · Al-Qurtubi
(حالانکہ) ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہونگے (اس روز) گنہگار خواہش کریگا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دیدے یعنی اپنے بیٹے
Tafseer · Al-Qurtubi
یبصرونھم وہ انہیں دکھائی دیں گے قیامت میں کوئی مخلوق نہیں ہوگی مگر وہ اپنے ساتھی کے سامنے ہوگی (1) وہ جن ہو یا انسان ہو۔ انسا نپانے باپ، اپنے بھائی، اپنے قریبی رشتہ دار اور اپنے قبیلہ کو دیکھے گا، وہ اس کا حال نہیں پوچھے گا اور نہ اس سے بات کرے گا کیونکہ وہ اپنی ہی پریشانیوں میں مگن ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ ایک گھڑی کے لئے ایک دوسرے سے متعارف ہوں گے (2) وہ اس گھڑی کے بعد ایک دوسرے سے متعارف نہیں ہوں گے۔ بعض روایات میں ہے : لوگ اپنی جان پہچان والے لوگوں سے بھاگیں گے کیونکہ انہیں خوف ہوگا کہ جو زیادتیاں انہوں نے کی ہیں ان کے بارے میں ان سے مطالبہ ہوگا۔ اس تعبیر کی بنا پر یبصرنھم کی ضمیر کفار کے لئے ہوگی اور ھم ضمیر اقرباء کے لئے ہوگی۔ مجاہد نے کہا : معنی ہے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مومنوں کو کفار دکھائے گا۔ اس اعتبار سے وائو ضمیر مومنین کے لئے اور ھم ضمیر کفار کے لئے ہوگی۔ ابن زید نے کہا، وہ کفار کو جہنم میں دکھائے گا جنہوں نے انہیں دنیا میں گمراہ کیا تھا۔ یبصرونھم وائو ضمیر پیروکاروں کے لئے اور ھم ضمیر قائدین کے لئے ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ مظلوم کو ظالم اور قمتول کو قاتل دکھائے گا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یبصرونھم کی ضمیر ملائکہ کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی فرشتے ان کے اقوال پہچانیں گے اور ہر فریق کو اس طرف ہانک کرلے جائیں گے جو ان کے مناسب ہے۔ یبصرونھم پر کلام مکمل ہوئی، پھر فرمایا : یود المجرم یعنی کافر تمنا کرے گا (4) لویفتدی من عذاب یومئذ جہنم کے عذاب سے بچنے کیلئے وہ چیز فدیہ کر دے جو دنیا میں اس کے لئے سب سے عزیز تھی (5) خواہ وہ اس کے قریبی رشتہ دار ہوں تو وہ اس پر قادر نہیں ہوگا، پھر ان کا ذکر کیا اور فرمایا : بینیہ۔ وصاحبتہ واحیہ۔ وفضلیتہ التی تو یہ۔ صاحبتہ سے مراد اس کی بیوی ہے۔ فضیلتہ سے مراد اس کا قبیلہ ہے جو اس کی مدد کرتا تھا، یہ مجاہد اور ابن زید کا قول ہے۔ امام مالک نے کہا، اس سے مراد اس کی ماں ہے جو اس کو پالتی تھی، ماوردی نے اسے بیان کیا ہے (6) اشہب نے اسے اس سے روایت کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا، فصیلہ، قبیلہ سے چھوٹا ہوتا ہے (7) ثعلب نے کہا، وہ اس کے قریبی ابٓاء و اجداد ہیں۔ مبرد نے کہا، فصیلہ سے مراد جسم کے اعضاء کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ قبیلہ سے چھوٹا ہوتا ہے۔ انسان کی نسل کو فصیلہ کہتے ہیں۔ اسے اپنے بعض کے ساتھ تشبیہ دی۔ قبیلہ اور اس کے غیر میں گفتگو سورة حجرات میں گزر چکی ہے۔ یہاں ایک مسئلہ ہے : جب اس نے اپنا مال فصیلہ پر وقف کیا یا فصیلہ کے لئے وصیت کی جس نے عموم کا دعویٰ کیا اس نے اس لفظ کو عشیرہ پر معمول کیا جس نے اسے خصوص پر محمول کیا (1) اس نے اسے آباء پر محمول کیا، قریبی پھر قریبی۔ پہلی تعبیر نطق میں اکثر مراد لی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ تو یہ کا معنی ہے وہ اس سے ملاتا ہے اور اگر خوف ہو تو اسے امن دیتا ہے۔ ومن فی الارض جمیعاً وہ پسند کرتا ہے کہ اگر ان کو بطور فدیہ دینے سے نجات ملے تو وہ فدیہ کے طور پر دے دے ثم ینجیہ۔ پھر وہ فدیہ اسے خلاصی دے۔ یہاں اضمار ضروری ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وانہ لفس (الانعام : 121) اصل میں ان اکلہ لفسق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یود المجرم فاء کے ساتھ جواب کا تقاضا کرتا ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے : ودوالوتد ھن فیدھنون۔ (القلم) اس میں فیدھنن کا جواب ہے۔ اس آیت میں جواب ثم ینجیہ۔ ہے کیونکہ یہ حروف عطف میں سے ہے۔ تقدیر یہ ہوگی یود المجرم لویفتدی فینجیہ الافتداء ہے۔