تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 24

  1. وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ﴿24﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ
    2. فِيْٓ اَمْوَالِهِمْان کے مالوں میں
    3. حَقٌّحق ہے
    4. مَّعْلُوْمٌمعلوم۔ مقرر
Translation · Al-Qurtubi
اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
والذین فی اموالھم حق معلوم۔ اس سے مراد فرض زکوۃ ہے، یہ قتادہ اور ابن سیرین کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : زکوۃ کے علاوہ مراد ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے ہا، صلہ رحمی کرنا اور بوجھ اٹھانا ہے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ حق کی صفت معلمو سے لگائی ہے۔ زکوۃ کے علاوہ معلوم نہیں، وہ تو ضرورت کے مطباق ہوتا ہے جبکہ اس میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ للسآئل و المحروم۔ سورة زاریات میں یہ بات پہلے گزر چیک ہے۔ والذین یصدقون بیوم الذین۔ یعنی یوم جزاء مراد قیامت کا دن ہے۔ اس بارے میں بحث سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے۔ وہ الذین ھم من عذاب ربھم مشفقون۔ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان عذاب ربھم غیر مامون۔ حضرت ابن عباس نے کہ؁، جس نے شرک کیا اور اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو جھٹلایا وہ اس کے عذاب سے امن میں نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : کوئی بھی عذاب سے امن میں نہیں بلکہ ہر کسی پر واجب ہے کہ اس سے ڈرے۔ والذین ھم لفروجھم حفظون۔ الا علی آزواجھم اوماملکت ایمانھم فانم غیر ملومنین۔ فمن ابتغی ورآء ذلک فائولئک ھم العدون۔ اس بارے میں گفتگو سورة مومن کی آیت قد افلح المومنون۔ میں گزرچ کی ہے۔ والذین ھم لا منتھم وعھدھم راعون۔ اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ والذین ھم یشھدتھم قآئمون۔ خواہ وہ گواہی انہیں قریبی رشتہ دار یا دور کے رشتہ دار کے خلفا دینی پڑے۔ وہ حاکم کے پاس گواہی دیتے ہیں (1) وہ اسے چھپاتے نہیں اور نہ ہی اس میں تبدیلی کرتے ہیں۔ شہادت اور اس کے احکام کے بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، گواہیان یہ ہیں ان اللہ واحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ و رسولہ لامنتھم واحد کا صیغہ بھی پڑھا گیا ہے، یہ ابن کثیر اور ابن محیصن کی قرأت ہے۔ الامنۃ اسم جنس ہے۔ اس میں دین کی امانات داخل ہوجاتی ہیں۔ شرعی احکام بھی اماتنیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے بندوں کو امین بنایا ہے۔ اس میں بندوں کی امانتیں بھی داخل ہوجاتی ہیں۔ یہ سب سورة نساء میں گزر چکا ہے۔ عباس دوری نے ابو عمرو اور یعقوب سے بشاھداتھم جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ باقی قرئا نے بشھادتم واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ مصدر بعض اوقات مفرد کا معنی دیتا ہے اگرچہ جمع کے صیغہ کی طرف مضاف ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان انکر الاصوات لصوت الخمیر۔ (لقمان) فراء نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان و اقیموا الشھادۃ للہ (الطلاق : 2) بشھدتھم واحد کے صیغہ پر دال ہے۔