تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 9
وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ﴿9﴾
- وَتَكُوْنُ الْجِبَالُاور ہم دیکھ رہے ہیں اس کو
- كَالْعِهْنِدھنی ہوئی روئی کی طرح
Translation · Al-Qurtubi
اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دہنکی ہوئی) رنگین اون
Tafseer · Al-Qurtubi
وتکون الجبال کالعھن۔ پہاڑ ہوجائیں گے رگنی ہوئی اون کی طرح۔ اون کو عھن اس وقت کہتے ہیں جب وہ رنگی ہوئی ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا، پہاڑ سرخ اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ اونوں میں سے کمزور ترین اون ہوتی ہے۔
اس معنی میں زہیر کا قول ہے :
کان فتات العھن فی کل منزل
فتاب کا معنی ٹکڑے۔ العھن سے مراد سرخ اون ہے۔ اس کی واحد عھنہ ہے، گویا سرخ اون کے ٹکڑے ہر جگہ ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا : العھن سے مراد رگن دار اون ہے۔ پہاڑوں کو اس سے تشبیہ دی جا رہی ہے کیونکہ پہاڑوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں معنی ہے پہاڑ سختی کے بعد نرم ہوجائیں گے اور اجتماع کے بعد بکھر جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سب سے پہلے پہاڑ جمع شدہ ریت کی طرح ہو اجئیں گے، پھر دھنی ہوئی رنگدار اون کی طرح ہوجائیں گے، پھر بکھرے ہئے ذرات کی طرح ہوجائیں گے۔
ولایسئل حمیم حمیماً ۔ کوئی جگر دوست اپنے دوست سے حال نہیں پوچھے گا کیونکہ ہر ایک انسان اپنے ذاتی مسائل میں ہی مصروف ہوگا، یہ قتادہ کا قول ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لکل امری منھم یومئذ شان یعنیہ۔ (عبس) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام یوں ہے لایسئال حمیم عن حمیم حرف جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کو مفعول کے ساتھ ملا دیا گیا۔ عام قرأت یسئال یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ شیبہ اور بزی نے عاصم سے ولایسئال قرأت نقل کی ہے کہ یہ مجہول کا صیغہ ہے یعنی کسی دوست سے اس کے دوست کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا اور کسی قریبی رشتہ دار سے اس کے قریبی رشتہ دار کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا بلکہ ہر ایک انسان سے اس کے اپنے علم کے بارے میں پوچھا جائے گا، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کل نفس بما کسبت رھینۃ۔ (المدثر)