تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 71. Nooh · Ayah 7

  1. وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ﴿7﴾

    1. وَاِنِّىْاور بیشک میں نے
    2. كُلَّمَاجب کبھی
    3. دَعَوْتُهُمْمیں نے پکارا ان کو
    4. لِتَغْفِرَ لَهُمْتاکہ تو بخش دے ان کو
    5. جَعَلُوْٓاانہوں نے ڈال لیں
    6. اَصَابِعَهُمْاپنی انگلیاں
    7. فِيْٓ اٰذَانِهِمْاپنے کانوں میں
    8. وَاسْتَغْشَوْااور اوڑھ لیے۔ ڈھانپ لیے
    9. ثِيَابَهُمْکپڑے اپنے
    10. وَاَصَرُّوْااور انہوں نے اصرار کیا
    11. وَاسْتَكْبَرُوااور تکبر کیا
    12. اسْتِكْبَارًاتکبر کرنا
Translation · Al-Qurtubi
جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے
Tafseer · Al-Qurtubi
میں نے جب انہیں سبب مغفرت یعنی تیری ذات پر ایمان اور تیری طاعت کی طرف بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری دعوت کو نہ سن سکیں، انہوں نے اپنے چہروں کو اپنے کپڑوں سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ مجھے دیکھ ہی نہ سکیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، انہوں نے اپنے کپڑے اپنے سروں پر ڈال لئے تاکہ وہ کلام نہ سن سکیں۔ کپڑوں کے استغشاء کا مطلب ہے کہ کانوں کو بند کرنے میں زیادتی کرنا تاکہ وہ اس آواز کو نہ سنیں یا اپنے آپ کو اجنبی بنانے کے لئے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوجائے یا آپ سے اپنے اعراض کو ظاہر کرنے کے لئے ایسا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عداوت و دشمنی سے کنایہ ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : لبس لی فلان ثیاب العداوۃ اس نے میرے لئے عداوت کا لباس پہن لیا۔ اصروا انہوں نے کفر پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی۔ واستکبروا انہوں نے قبول حق سے اپنی بڑائی کا اظہار کیا کیونکہ انہوں نے کہا : انومن لک واتبع الارذلون۔ (الشعرائ) کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں جبکہ کمینے لوگوں نے آپ کی پیروی کی۔ استکبار بہت بڑا تکبر کیا۔