تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 1

  1. قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ﴿1﴾

    1. قُلْآپ فرمادیں
    2. اُوْحِيَمجھے وحی کی گئی
    3. اِلَيَّمیری طرف
    4. اَنَّهُ اسْتَمَعَکہ اسے سنا
    5. نَفَرٌایک جماعت
    6. مِّنَسے، کی
    7. الْجِنِّجنات
    8. فَقَالُوْٓاتو انہوں نے کہا
    9. اِنَّابیشک ہم
    10. سَمِعْنَاہم نے سنا
    11. قُرْاٰنًاقرآن
    12. عَجَبًاایک عجیب
Translation · Al-Qurtubi
(اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا
Tafseer · Al-Qurtubi
سورة الجن۔ تمام علماء کے نزدیک یہ سورت مکی ہے اس کی اٹھارہ آیات ہیں۔ اللہ کے نام سے شروع جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم کرنے والا ہے اس ارشاد باری تعالیٰ میں پانچ مسائل ہیں : کیا وحی سے پہلے نبی کریم ﷺ کو جنوں کے آنے کی خبر تھی۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قل اوحی الی۔ اے محمد اپنی امت سے کہو، اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کی زبان پر میری طرف وحی کی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے میری قرات کو سنا۔ وحی سے قبل رسول اللہ اس بارے میں آگاہ نہ تھے حضڑت ابن عباس اور دوسرے علماء نے یہی کہا ہے کہ جیسا کہ ابھی آئے گا۔ ابن ابی عبلہ نے اسے احی پڑھا ہے کہا ہے، اوحی الیہ ووحی الیہ واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا گیا ہے اسی کے موافق اللہ تعالیٰ کا فرمان، واذالرسل اقتت۔ (المرسلات) ہر وہ واؤ جو مضموم ہو اس میں قلب کا قاعدہ جاری کرنا جائز ہے مازنی نے واؤ مک سورة میں بھی جائز قرار دیا ہے۔ جیسے اشاح، اسادۃ، وعاء اخیہ (یوسف 76) وغیرہ میں ہے۔ کیانبی کریم ﷺ نے جنوں کو دیکھا یا نہیں۔ مسئلہ نمبر 2۔ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف منقول ہے کیا نبی کریم نے جنوں کو دیکھا تھا یا نہیں ؟ قرآن حکیم کا ظاہر تو اسی امر پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ انہیں نہیں دیکھا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، استمع اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن (الاحقاف 29 ) ۔ صحیح مسلم اور ترمذی میں حضرت ابن عباس کا قول منقول ہے، رسول اللہ نے نہ توجنوں پر قرآن کو پڑھا اور نہ ہی انہیں دیکھا، رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں عکاظ کی منڈی کے ارادہ سے چلے جب کہ شیاطین اور آسمان کی خبر میں رکاوت پیدا کردی گئی تھی، ان شیاطین پر شہابچے پھینکے گئے اور شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے۔ ان کی قوم کے افراد نے پوچھا، تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ شیاطین نے کہا، ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے اور ہمارے اوپر شہابچے پھینکے گئے ہیں قوم کے افراد نے کہا، یہ رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی مگر ایسی چیز سے جو ابھی ابھی واقع ہوئی ہے پس تم مشرق ومغرب میں نکل جاؤ اور دیکھو وہ کیا چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے ؟ وہ مشرق ومغرب میں نکل کھڑے ہوئے۔ جنوں کی وہ جماعت جس نے تہامہ کا رخ کیا تھا وہ نخلہ کے مقام پر تھے اور عکاظ کی منڈی کا ارادہ رکھتے تھے جب کہ نبی کریم اپنے صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے جب جنوں نے قرآن کو سنا تو اس کی طرف کان لگائے اور کہا، یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمانی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے۔ ؟ پھر وہ اپنی قوم کی طرف پلٹ آئے انہوں نے کہا، اے ہماری قوم ہم نے عجیب قرآن سنا ہے وہ ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اس وحی کو نازل فرمایا فرمادیجئے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے سنا۔ امام ترمذی نے اسے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہا جنوں کی اپنی قوم سے یہ گفتگوہوئی جب اللہ تعالیٰ کا بندہ اس کی عبادت کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو وہ اس پر تہہ درتہہ جمع ہوگئے۔ کہا : جب جنوں نے رسول اللہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھاجب کہ آپ کے صحابہ، رسول کی نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کررہے تھے تو جن صحابہ کی اس اطاعت کو دیکھ کرمتعجب ہوئے انہوں نے اپنی قوم سے کہا، جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا تو وہ اس پر بھیڑ کرلیتے تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم نے جنوں کو نہیں دیکھا لیکن جن آپ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کی قراءت کو سنا۔ اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ جن اس وقت شیاطین کے ساتھ تھے جب شیاطین کو شہابچے مارے گئے تو انہوں نے حقیقت حال کو جاننے کی جستجو کی جن کو شہابچے مارے گئے ان میں جن بھی تھے ان جنوں کو بھی شیاطین کہا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، شیاطین الانس والجن (الانعام 112) کیونکہ شیطان ہر سرکش اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلنے والی چیز کو کہتے ہیں۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے جن آسمانوں کی طرف چڑھتے، وحی سنتے جب وہ ایک کلمہ سنتے تو ان میں نوکلمات بڑھالیتے وہ ایک کلمہ تو حق ہوتا اور اس میں جو زائد ملاتے وہ باطل ہوتا جب رسول اللہ مبعوث ہوئے تو انہیں اپنی جگہوں پر بیٹھنے سے روک دیا گیا اس بات کا ذکر انہوں نے ابلیس سے کیا اس سے قبل انہیں ستاروں سے نہیں مارا جاتا تھا۔ ابلیس نے کہا یہ ایسا نہیں ہوامگر زمین میں کوئی واقعہ رونما ہوا ہے اس نے اپنے لشکر بھیجے انہوں نے رسول الہ کو دو پہاڑوں (میراخیال ہے انہوں نے مکہ کہا تھا) کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے پایا وہ ابلیس کے پاس آئے اور اسے خبر دی، اس نے کہا یہی وہ واقعہ رونما ہوا ہے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ جنوں کو شہابچے مارے گئے جس طرح شیاطین کو شہابچے مارے گئے۔ سدی کی روایت میں ہے انہیں شہابچے مارے گئے وہ ابلیس کے پاس آئے اور اپنے ساتھ وقوع پذیر ہونے والے معاملہ کی خبر دی اس نے کہا، ہر علاقہ سے مٹھی بھر مٹی میرے پاس لاؤ جسے میں سونگوں گا وہ مٹی اس کے پاس لے آئے اس نے مٹی کو سونگھا اس نے کہا، تمہارے اس معاملہ کا باعث مکہ مکرمہ میں ہے۔ اس نے جنوں کی ایک جماعت بھیجی، ایک قول یہ کیا گیا وہ جن سات تھے ایک قول کیا گیا وہ نو تھے ان میں زوبعہ تھا۔ عاصم نے زر سے روایت نقل کی ہے کہ زوبعہ کی جماعت اور اس کے ساتھ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے ثمالی نے کہا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے وہ بنی شیصبان سے تعلق رکھتے تھے یہ تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ اور شوکت کے اعتبار سے سب سے قوی تھے عام طور پر یہی ابلیس کے لشکر ہوتے تھے۔ عاصم نے زر سے یہ بھی روایت کیا ہے وہ سات افراد تھے تین اہل حران سے اور چار اہل نصین سے تعلق رکھتے تھے۔ جویر نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے وہ نو تھے جو اہل نصیبین سے تعلق رکھتے تھے (یہ یمن کی ایک بستی ہے جو عراق کی بستی سے مختلف ہے) ایک قول یہ کیا گیا جو جن مکہ مکرمہ میں آئے وہ نصیبین کے تھے اور جو جن نخلہ کی مقام پر آئے وہ نینوی کے تھے اس کا ذکر سورة الاحقاف میں گزرچکا ہے۔ عکرمہ نے کہا وہ سورت جسے رسول اللہ پڑھا کرتے تھے وہ اقرا باسم ربک (العلق) تھی سورة الاحقاف میں نفر من الجن کی وضاحت ہوچکی ہے یہاں اس کا اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک قول یہ نقل کیا گیا : نبی کریم نے جنوں والی رات میں جنوں کو دیکھا تھا یہ قول زیادہ صحیح ہے۔ عامر شعبی نے کہا، میں نے علقمہ سے پوچھا کیا جنوں والی رات میں حضرت عبداللہ بن مسعود رسول اللہ کے ساتھ تھے علقمہ نے کہا میں نے حضرت ابن مسعود سے پوچھا میں نے کہا، کیا تم میں سے کوئی جنوں والی رات رسول اللہ کے ساتھ انہوں نے جواب دیا نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول الہ کے ساتھ تھے ہم نے آپ کو گم پایا ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ہم نے کہا، آپ کو کوئی اڑا کرلے گیا ہے یا آپ کو دھوکے سے قتل کردیا گیا ہے انہوں نے کہا، ہم نے وہ رات ایسی بری گزاری جیسی کوئی قوم گزار سکتی ہے۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ غار حراء کی جانب سے آرہے تھے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ہم نے آپ کو گم پایا ہم نے آپ کو تلاش کیا اور نہ پایا تو ہم نے وہ رات ایسی بری گزاری جس اذیت میں کوئی قوم گزار سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جنوں کا داعی آیا تھا میں اس کے ساتھ گیا تو ان پر قرآن حکیم کو پڑھا۔ نبی کریم ہمیں لے گئے آپ نے ہمیں ان کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائے انہوں نے نبی کریم سے زاد راہ کا سوال کیا جب کہ وہ جزیزہ کے جن تھے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہوگا وہ تمہارے ہاتھ لگے تو تمہارے لیے اس پر بہت گوشت ہوگا اور ہر مینگنی تمہارے چوپاؤں کا چارہ ہوگی، رسول اللہ نے صحابہ سے فرمایا، ان دونوں چیزوں کے ساتھ استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں۔ ابن عربی نے کہا، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس کی بنسبت زیادہ جانتے تھے کیونکہ انہوں نے یہ سب کچھ دیکھا اور حضرت ابن عباس نے اس کے بارے میں سنا، اور خبر معائنہ جیسی نہی ہوسکتی۔ لیکن قول یہ کیا گیا ہے جن دو دفعہ رسول اللہ کی بارگاہ میں آئے ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں آئے حضرت ابن مسعود نے اسی کا ذکر کیا ہے دوسری دفعہ نخلہ میں آئے جس کا ذکر حضرت ابن عباس نے کیا ہے۔ امام بیہقی نے کہا : جس واقعہ کو حضرت ابن عباس نے بیان کیا ہے یہ پہلی دفعہ تھی جب جنوں نے نبی کریم کی آواز کو سنا اور آپ کے احوال سے آگاہ ہوئے اس وقت نبی کریم نے نہ ارادۃ ان پر قرآن پڑھا نہ ہی انہیں دیکھا جس طرح حضرت ابن عباس نے حکایت بیان کی ہے پھر دوسری دفعہ جنوں کا داعی آپ کے پاس آیا، آپ اسی کے ساتھ تشریف لے گئے اور ان کو قرآن سنایا جس طرح حضرت عبداللہ بن مسعود نے حکایت کی ہے۔ امام بیہقی نے کہا، صحیح احادیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابن مسعود جنوں والی رات نبی کریم کے ساتھ نہیں تھے یہ اس وقت آپ کے ساتھ چلے تھے جب رسول اللہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو ساتھ لے گئے تھے تاکہ انہیں جنوں کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائیں۔ کئی سندوں سے یہ بھی مروی ہے کہ اس رات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ کے ساتھ تھے یہ بحث سورة الاحقاف میں گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جنوں پر قرآن حکیم پڑھوں تم میں سے میرے ساتھ کون جائے گا ؟ صحابہ کرام خاموش رہے پھر دوسری دفعہ فرمایا پھر تیسری فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود نے عرض کی، یارسول اللہ آپ کے ساتھ میں جاؤں گا۔ رسول اللہ چلے یہاں تک کہ حجون کے مقام آئے جو شعب ابی طب کے پاس ہے آپ نے میرے اردگرد ایک خط کھینچا فرمایا، اس سے باہر نہ نکلنا۔ پھر آپ حجون کی طرف چلے گئے تو آپ پر حجلہ عروسی جیسی چیزیں اتریں وہ اپنے قدموں سے نچلی جانب پتھرگرا رہے تھے وہ چل رہے تھے وہ اپنے دفوں کو بجا رہے تھے جس طرح عورتیں دف بجاتی ہیں انہوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تو میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا میں کھڑا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ آپ نے قرآن حکیم کی تلاوت کی آپ کی آواز لگاتار بلند ہوتی رہی اور وہ جن زمین کے ساتھ چمٹ گئے یہاں تک کہ میں انہیں دیکھ نہیں سکتا تھا جب آپ میری طرف لوٹے فرمایا کیا تو نے میرے پاس آنے کا ارادہ کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ۔ فرمایا یہ تیرے لیے مناسب نہیں تھا یہ جن قرآن سننے آئے تھے پھر وہ اپنی قوم کی طرف اس حال میں لوٹے کہ وہ خبردار کرنے والے تھے انہوں نے مجھ سے زاد راہ کا سوال کیا تو میں نے انہیں ہڈیاں اور لیدزاد راہ کے طور پر دیے پس تم میں سے کوئی بھی ہڈی اور لید کے ساتھ استنجاہ کرے۔ عکرمہ نے کہا : وہ جزیزہ موصل کے بارہ ہزار تھے ایک روایت میں ہے نبی کریم مجھے لے گئے یہاں تک کہ جب ہم اس مسجد میں آئے جو بنی عوف کے باغ کے پاس ہے تو آپ نے میرے لیے خط کھینچا تو ان میں سے ایک جماعت آپ کے پاس آئی ہمارے ساتھیوں نے کہا، گویا وہ زطی لوگ ہیں گویا ان کے چہرے مکوک ہیں انہوں نے پوچھا آپ کیا ہیں ؟ رسول اللہ نے فرمایا میں اللہ کا نبی ہوں انہوں نے کہا، اس دعوی پر کون آپ کی گواہی دے گا نبی کریم نے ارشاد فرمایا یہ درخت، حکم دیا، اے درخت، وہ درخت جڑیں گھسیٹا ہوا آیا اس کی شدید آواز آرہی تھی یہاں تک کہ وہ درخت آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا پوچھا، تو کس چیز پر گواہی دیتا ہے ؟ درخت نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ لوٹ گیا جس طرح آیا تھا جب کہ وہ اپنی جڑوں کے ساتھ پتھر بھی کھینچ کرلے جارہا تھا اس کی شدید آواز تھی یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں کھڑا ہوگیا جس طرح پہلے تھا۔ پھر روایت کی گئی جب رسول اللہ فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا سر حضرت عبداللہ بن مسعود کی گود میں رکھا اور سو گئے پھر بیدار ہوئے پوچھا، کیا پانی ہے ؟ حضرت ابن مسعود نے عرض کی، نہیں مگر میرے پاس ایک برتن ہے جس میں نبیذ ہے فرمایا، یہ تو کھجور اور پانی ہے تو آپ نے اس سے وضو کیا۔ کس پانی کے ساتھ استنجا کرنا جائز ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ سورة حجر میں پانی کے بارے میں اور سورة براءت میں اس چیز کا ذکر گزرچکا ہے جس سے استنجا کیا جاتا ہے تویہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ جنوں کی حقیقت کے بارے میں علماء کا اختلاف۔ مسئلہ نمبر 4۔ جنوں کی حقیقت کے بارے میں اہل علم کا اختلاف کیا ہے، اسماعیل نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ جن ابلیس کی اولاد ہیں اور انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ان میں سے مومن اور کافر ہیں وہ ثواب اور عقاب میں شریک ہیں ان میں سے اور ان میں سے جو مومن ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہے ان میں سے اور ان میں سے جو کافر ہے وہ شیطان ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے جن جان کی اولاد ہیں اوہ شیاطین نہیں وہ ایمان لاتے ہیں ان میں سے کچھ مومن اور کچھ کافر ہیں شیاطین، ابلیس کی اولاد ہیں وہ ابلیس کے ساتھ ہی مریں گے جس طرح جنوں کی اصلیت کے بارے میں اختلاف ہے جنوں میں سے مومنوں کے جنت میں داخل ہونے کے بارے میں اختلاف ہے جس نے یہ گمان کیا کہ وہ جنوں میں سے ہے ابلیس کی نسل سے نہیں اس نے کہا وہ اپنے ایمان کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا جس نے کہا وہ ابلیس کی اولاد ہے اس کے ان کے بارے میں دو قول ہیں۔ (1) یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے، وہ جنت میں داخل ہوں گے (2) یہ مجاہد کی روایت ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے اگرچہ وہ جہنم سے دور کیے جائیں گے ماوردی نے اسے حکایت کیا ہے یہ قول سورة الرحمن میں اللہ تعالیٰ کے فرمان، لم یطمثھن انس قبلھم ولاجان۔ کی تفسیر میں گزرچکا ہے اس میں یہ وضاحت ہے کہ جن جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ جنوں کے کھانے پینے کے بارے میں پایاجانے والا اختلاف۔ مسئلہ نمبر 5۔ بیہقی نے اپنی روایت میں ذکر فرمایا کہ جنوں نے رسول اللہ ﷺ سے زاد کے بارے میں سوال کیا وہ جزیرہ کے جن تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تمہارے لیے ہر ہڈی زادراہ ہے یہ ارشاد اس امر پر دلیل ہے کہ وہ کھاتے ہیں اطباء اور فلاسفہ میں سے کافروں کی جماعت نے جنوں کا انکار کیا ہے انہوں نے کہا، جن بسیط ہیں ان کا کھانا پینا ثابت نہیں۔ حقیقت میں ان کا یہ قول اللہ تعالیٰ کی ذات پر جرات اور افتراء ہے قرآن وسنت ان کا رد کرتے ہیں مخلوقات میں سے کوئی بھی چیز نہیں جو بسیط، مرکب اور جوڑا بھی ہو، واحد تو صرف سبحانہ وتعالی ہے اس کا غیر مرکب ہے وہ واحد نہیں اس کا حال کیسا بھی ہو۔ یہ کوئی ممتنع امر نہیں کہ نبی کریم انہیں ان کی اصلی صورت میں دیکھیں جس طرح آپ نے فرشتوں کو دیکھا اکثر طور پر وہ ہمارے سامنے سانپوں کی صورت اختیار کرتے ہیں موطا امام مالک میں ہے ایک آدمی کی شادی کو تھوڑا عرصہ گزرا تھا اس نے دوپہر کو اپنے گھرجانے کی اجازت چاہی، اس حدیث میں ہے وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سانپ اس کے بستر پر لپٹا ہوا ہے اس صحابی نے نیزہ لے کروار کیا اور اسے نیزے میں پرو لیا اور حدث ذکر کی۔ صحیح میں ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ان گھروں کے عوامر (بڑی عمر والے سانپ) ہیں جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھتا تو تین دفعہ ان پر تنگی کرو اگر وہ چلاجائے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کرو کیونکہ وہ جن کافر ہوگا فرمایا، جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کردو یہی چیز اور ان پر تحریج (تنگ کرو) کا بیان اوپر گزرچکا ہے۔ ایک قوم کا یہ نقطہ نظر ہے کہ یہ حکم مدینہ طیبہ کے ساتھ خاص ہے کیونکہ صحیح میں حضور ﷺ کا ایک فرمان منقول ہے۔ مدینہ طیبہ کے جن مسلمان ہوچکے ہیں، یہ الفاظ مدینہ طیبہ کے ساتھ خاص ہیں یہ اس کے حکم کے ساتھ بھی خاص ہوگئے۔ ہم کہتے ہیں کہ مدینہ طیبہ کے علاوہ کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ یہاں علت مدینہ طیبہ کی حرمت بیان نہیں کی گئی کہ یہ حکم اس کے مخصوص ہوتا یہاں اس کی علت اسلام قرار دی گئی ہے یہ اس کے غیر میں بھی عام ہے کیا تم رسول اللہ کا وہ ارشاد نہیں دیکھتے جس میں آپ اس جن کی خبر دیتے ہیں جو آپ سے ملا تھا وہ جزیرہ کے جن تھے یہ واضح ہے کہ جس کی تائید حضور کا یہ ارشاد بھی کرتا ہے، ونھی عن عوامرالبیوت۔ یہ عام ہے اس کے متعلق گفتگو سورة بقرہ میں گزرچکی ہے اس لیے دوبارہ گفتگو کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان، فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا۔ میں عجبا سے مراد یہ ہے وہ اپنے کلام کی فصاحت میں عجیب ہے ایک قول یہ کیا گیا وہ اپنے مواعظ کی بلاغت میں عجیب ہے ایک قول یہ کیا گیا وہ اپنی برکت کی عظمت میں عجیب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا قرآن غالب ہے اس کی مثل نہیں پائی جاتی۔ ایک قول یہ کیا گیا وہ اسے عظیم خیال کرتے ہیں۔ یھدی الرشد امور کے بہترین پہلوؤں کی طرف راہنمائی کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور یھدی کا فعل ترکیب کلام میں صفت بن گیا یعنی ھادیا کے معنی میں ہے فامنا بہ یعنی ہم اس کے ذریعے ہدایت یافتہ ہوئے اور ہم نے یہ تصدیق کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ ولن نشرک بربنا احدا۔ یعنی ہم ابلیس کی طرف نہ لوٹیں گے اور ہم اس کی اطاعت نہیں کریں گے کیونکہ شیطان نے بھی انہیں بھیجا تھا کہ وہ اس کے پاس خبر لائیں پھر جنوں کو شہابچوں سے مارا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہیں بنائیں گے کیونکہ وہ ربوبیت میں یکتا ہے اس میں مومنوں کو اس امر پر تعجب دلایا جارہا ہے کہ قریش میں سے مشرک اس کو نہ سمجھ سکے جس کا ادراک جنوں نے قرآن حکیم میں تدبر کرکے کرلیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : استمع نفر من الجن۔ سے مراد یہ ہے انہوں نے نبی کریم کی آواز کو سنا اور وہ جان گئے کہ جو آپ پڑھ رہے تھے وہ اللہ کا کلام ہے جس کو سنا اس کا ذکر نہ کیا کیونکہ حال اس پر دلالت کرتا ہے۔ نفر کا معنی جماعت ہے خلیل نے کہا، تین سے لے کر دس تک افراد کو نفر کہتے ہیں عیسیٰ ثقفی نے کہا، رشد راء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔