تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 11
وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ﴿11﴾
- وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
- مِنَّاہم میں سے
- الصّٰلِحُوْنَنیکو کار (جمع)
- وَمِنَّااور ہم میں سے
- دُوْنَ ذٰلِكَ ۭاسکے علاوہ
- كُنَّاہم تھے
- طَرَآئِقَراہیں
- قِدَدًامختلف
Translation · Al-Qurtubi
اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
وانا مناالصالحون۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ھربا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منالصالحون ومنا دون ذالک۔ یہ جنوں کے قول کی حکایت ہے جب جنوں نے اپنے ساتھیوں کو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو اس وقت انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ قرآن سننے سے پہلے ہم میں سے کچھ صالح تھے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے ایک قول یہ کیا گیا کہ منادون ذالک کا معنی ہے کہ ؟ صالحین سے صالحیت میں کم ہیں۔ یہ کلام اس کے زیادہ مشابہ ہے جس نے اسے ایمان اور شرک پر محمول کیا ہے۔ کنا طرائق قددا یعنی ہم مختلف جماعتیں تھیں، سدی نے یہ تعبیر کی ہے۔ ضحاک نے کہا، مختلف دین رکھنے والے تھے۔ قتادہ نے کہا، متضاد خواہشات رکھنے والے تھے، اس معنی میں شاعر کا قول ہے :
القابض الباسط الھادی بطاعتہ فی فتنۃ الناس اذا اھواء ھم قدد۔
وہ قابض، باسط اور اس کی اطاعت کرنے والا ہے جب کہ لوگ فتنہ میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کی خواہشات مختلف ہیں۔ معنی یہ ہے کہ تمام جن کافر نہیں تھے بلکہ مختلف تھے ان میں سے کچھ کفار تھے اور کچھ صالح مومن اور کچھ غیر صالح مومن تھے۔ مسیب نے کہا، ہم مسلمان، یہودی، نصرانی اور مجوسی تھے۔
سدی نے اللہ تعالیٰ کے فرمان، کنا طرائق قددا۔ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، جنوں میں بھی تمہاری طرح قدریہ، مرجفہ، خوارج، رافضیہ، شیعہ اور سنی تھے۔ ایک قوم نے یہ تعبیر کی کہ قرآن سننے کے بعد ہم مختلف تھے ہم میں سے کچھ مومن اور ہم میں سے کچھ کافر تھے یعنی ہم میں سے کچھ صالح اور کچھ ایسے مومن تھے جو صالحیت میں انتہاء تک پہنچے تھے یعنی ہم میں سے کچھ صالح اور کچھ ایسے مومن تھے جو صالحیت میں انتہا تک نہیں پہنچے ہوئے تھے پہلی تعبیر اچھی ہے کیونکہ جنوں میں سے کچھ ایسے تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی کہ انہوں نے کہا، (ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے) یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ تورات پر ایمان رکھتے تھے جن کو انہوں نے ایمان کی دعوت دی تھی یہ ان کی طرف سے مبالغہ ہے نیز اس قول میں کوئی فائدہ نہیں کہ ہم اب مومن اور کافر میں منقسم ہوئے ہیں۔
طرائق، طریقہ کی جمع ہے۔ یہ انسان کا مذہب ہے یعنی ہم مختلف جماعتیں تھیں، یہ قول کیا جاتا ہے، القوم طرائق، یعنی مختلف مذاہب پر ہے۔ قدد سے مراد راستوں کی مثل ہے یہ طرائق کے لیے تاکید ہے اس کا واحد قدۃ ہے کہا جاتا ہے : بکل طریق قدۃ اس کی اصل قد السیور ہے جس کا معنی تسموں کا کاٹنا ہے لبید اپنے بھائی اربد کا مرثیہ کہتا ہے :
لم تبدغ العین کل نھم تھا لیلۃ ثمسی الجیاد کالقدد۔ آنکھ تمام خواہش کے باوجود اس رات تک نہ پہنچی جس رات گھوڑؤں نے تسموں کی طرح رات گزار دی۔ اور ایک نے یہ شعر کہا : ولقد قلت وزید حاسر یوم ولت خیل عمرو قددا۔ میں نے کہا جب کہ زید تھکا ماندہ تھا، جس روز عمرو کے گھوڑے ٹکڑے ٹکڑے لوٹے۔ قد جب کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ایسا تسمہ ہے جو ایسے چمڑے سے کاٹا جاتا ہے جس کو ابھی رنگانہ گیا ہو ایک جملہ بولا جاتا ہے۔ مالہ قد ولاتخف۔ قد چمڑے کا برتن اور قحف لکڑی کے برتن کو کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان : واناظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض میں ظن کا علم اور یقین کے معنی میں ہے یہ ظن اس ظن کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے۔ اناظننا ان لن تقول اور وانھم ظنوا۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات میں استدلال اور غوروفکر سے جان لیا کہ ہم اس کے قبضہ اور حکومت میں ہیں ہم بھاگنے یا کسی اور طریقہ سے اس کی قدرت سے باہر نہیں جاسکتے۔ ھربا یہ مصدر ہے جو حال کے معنی میں ہے یعنی ھاربین کا معنی دے رہا ہے۔