تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 16
وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ﴿16﴾
- وَّاَنْاور یہ کہ
- لَّوِاگر
- اسْتَقَامُوْاوہ قائم رہتے
- عَلَي الطَّرِيْقَةِ(سیدھے) راستہ پر
- لَاَسْقَيْنٰهُمْتو البتہ ہم انہیں پلاتے
- مَّآءًپانی
- غَدَقًاوافر
Translation · Al-Qurtubi
اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو ) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر رہتے تو ہم انکے پینے کو بہت سا پانی دیتے
Tafseer · Al-Qurtubi
وان الواستقاموا علی۔۔۔۔ تا۔۔۔ صعدا۔
وان الوستقاموا علی الطریقۃ۔ یہ فرمان جنوں کے قول کی حکایت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے یعنی اگر یہ کفار ایمان لاتے تو دنیا میں ہم انہیں وسعت عطا کرتے اور انہیں فراخ رزق عطا کرتے۔ یہ وحی پر محمول ہوگا یعنی میری طرف وحی کی گئی کہ اگر جن استقامت کا مظاہرہ کرتے۔ ابن بحر نے ذکر کیا اس سورت میں جہاں ان ہے وہ ان جنوں کے قول کی حکایت ہے جنہوں نے قرآن سنا اور اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیی لوٹے اور جہاں بھی ان (مفتوحہ مخففہ) ہے تو وہ رسول اللہ کی طرف وحی ہے یعنی (اس کا تعلق اوحی فعل کے ساتھ ہے) ابن انباری نے کہا : جس نے ماقبل مقامات پر ہمزہ کو کسرہ دیا اور وان لواستقاموا میں ہمزہ کو فتحہ دیا تو اس نے مکمل قسم کو مضمر مانا۔ اس کی تاویل کی ہے، واللہ ان لواستقاموا علی الطریقۃ جس طرح گفتگو میں یہ کہا جاتا ہے، واللہ ان قمت لقمت اور واللہ لوقمت قمت۔ شاعر نے کہا :
اما واللہ ان لو کنت حرا وما بالجر انت ولا العتیق۔ اللہ کی قسم ! کاش تو آزاد ہوتا نہ تو اصلاآزاد ہے اور نہ ہی بعد میں آزاد کیا گیا ہے۔ جس نے نون مخففہ سے قبل کو فتحہ دیا اس نے اسی کلام کو اوحی الی انہ، وان لواستقامو اور آمنا بہ پر عطف کیا ہے تقدیر کلام یوں ہے بان لواستقاموا۔ جس نے تمام حروف ان مخففہ تک کو کسرہ دیا تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ مخففہ کو اوحی الی اور فامنا بہ پر عطف کرے اور قسم کو مضمر ماننے سے مستعفی ہوجائے اور عام قراء کی قرات لواستقاموا ہے کیونکہ دوساکن جمع ہوگئے ہیں ابن وثاب اور اعمش نے واؤ کو مضموم پڑھا ہے۔ ماء غدقا۔ یعنی کثیر پانی۔ ان سے سات سال تک بارش روک لی گئی تھی یہ جملہ بولا جاتا ہے، غدقت العین تفدق ھی غدقۃ۔ جب چشمہ کا پانی بہت زیادہ ہو۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں اس مراد تمام مخلوق ہے اگر ساری مخلوق حق، ایمان اور ہدایت کے راستہ پر استقامت کا مظاہرہ کرتی اور وہ مطیع و مومن ہوتی تو ہم اسے کثیر پانی سے سیراب کرتے تاکہ ہم آزمائیں کہ ان نعمتوں پر ان کا شکر کیسا ہے۔ حضرت عمر نے اس آیت کی تفسیر میں بیان فرمایا جہاں کہیں ماء کا ذکر ہے اس سے مراد مال ہے اور جہاں کہیں مال کا ذکر ہے اس سے مراد آزمائش ہے، لاسقینھم ماء غدقا۔ کا معنی ہے ہم دنیا میں ان پر وسعت کردیتے۔ ماء غدق کو مال کثر کے لیے بطور ضرب المثل ذکر کیا کیونکہ خیر اور رزق سب بارش کی وجہ سے ہوتا ہے اس وجہ سے بارش کو خیر اور رزق کی جگہ رکھ دیا جسطرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بارش مراد ہے۔ ولوان اھل القری آمنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض (الاعراف 96) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان، ولوانھم اقامو التورات والانجیل وماانزل الیھم من ربھم لاکلوا من فوقھم من تحت ارجلھم (مائدہ 66) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ سعید بن مسیب، عطاب نابی رباح، ضحاک، قتادہ، مقاتل عطیہ، عبید بن عمیر اور حسن بصری نے کہا، اللہ کی قسم، نبی کریم ﷺ کے صحابہ احکام کے سننے والے اور اطاعت کرنے والے تھے ان پر کسری، قیصر مقوقس اور نجاشی کے خزانے کھول دیے گئے تو اسی مال کی وجہ سے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا تو وہ اپنے امام پر جھپٹ پڑے اور انہیں (حضرت عثمان ذی النورین) کو شہید کردیا۔
کلبی اور دوسرے علماء نے کہا : وان الوستقاموا علی الطریقۃ کا معنی یہ ہے جس کفر پر وہ پہلے تھے اگر وہ اسی پر استقامت کا مظاہرہ کرتے اور وہ سب کے سب کافر ہوتے تو ہم خفیہ تدبیر کی بنا پر ان سے استدراج کا طریقہ اپناتے ہوئے ان پر رزق فراخ کردیتے یہاں تک کہ وہ وسیع رزق کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوجاتے تو ہم انہیں دنیا وآخرت میں عذاب دیتے یہ وہ تعبیر ہے جس ربیع بن انس، زید بن اسلم، ان کے بیـٹے، کلبی، ثمالی، یمانین رباب، ابن کیسان اور ابومجلز نے کی ہے انہوں نے ان آیات سے استدلال کیا ہے، فلما نسوا ماذکروابہ فتحنا علہیم ابواب کل شی (انعام 44) اور ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم من فضۃ۔ (الزخرف 33) پہلی تعبیر زیادہ مناسب وموزوں ہے کیونکہ الطریقہ معرف باللام ہے پس زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس کا راستہ ہدایت کا راستہ ہو اور استقامت، ہدایت کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
صحیح مسلم میں حضڑت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جن چیزوں سے میں تمہارے بارے میں خوف کھاتا ہوں ان میں سے سب سے خوفناک امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر زہرۃ الدنیا نکالے گا، صحابہ نے پوچھا یہ زہرۃ الدنیا کیا چیز ہے ؟ فرمایا، زمین کی برکات، ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ کی قسم، میں تمہارے بارے میں فقر سے نہیں ڈرتا میں تمہارے بارے میں اس چیز سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر فراخ کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کی گئی تھی تم اس میں باہم مقابلہ کرو گے جس طرح انہوں نے باہم مقابلہ کیا تو وہ تمہیں ہلاک کردے گی جس طرح اس نے انہیں ہلاک کردیا۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان : ومن یعرض عن ذکرربہ۔ میں ذکر سے مراد قرآن ہے یہ قول ابن زید کا ہے قرآن سے اس کے اعراض کی دو صورتیں ہیں۔ ایک قبول کرنے سے اعراض۔ اگر یہ کہا جائے گا کہ یہ اہل کفر میں تھی۔ دوسرے عمل سے اعراض، اگر یہ کہا جائے کہ یہ مومنوں میں تھی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر نہ کیا اللہ تعالیٰ اسے چھاجانے والے عذاب میں داخل کرے گا۔ کوفی قراء اور عیاش نے ابوعمرو سے یسل کہ (یا کے ساتھ) پڑھا ہے یہ قرات ابوعبید اور ابوحاتم کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام پہلے مذکور ہے کہا، ومن یعرض عن ذکر ربہ۔ جب کہ باقی قراء نے اسے نسلکہ پڑھا ہے۔ مسلم بن جندب سے نسلکہ مروی ہیی، طلحۃ اور اعرج نے اسی طرح قرات کی ہے یہ دونوں لغتیں ہیں سل کہ اور اسل کہ دونوں (مجرد مزیدفیہ) کا ایک ہی معنی ہے یعنی ہم اسے سخت مشکل عذاب میں داخل کریں گے۔
حضرت ابن عباس نے کہا، یہ جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس بھی وہ اس پر اپنے ہاتھ رکھیں گے تو ہاتھ پگھل جائیں گے حضرت ابن عباس سے یہی بھی مروی ہے اس کا معنی مشغۃ من العذاب ہے لغت میں بھی یہ معلوم ومشہور ہے کہ، صعد کا مشقت ہے تو کہتا ہے، تصعدنی الامر۔ یہ جملہ تو اس وقت بولتا ہے جب معاملہ تجھ پر مشکل ہوجائے اس معنی میں حضرت عمر کا قول ہے، ماتصعد فی شئی ماتصعدتنی خطبۃ النکاح۔ یعنی مجھے جتنا مشکل خطبہ نکاح ہے میرے لیے اتنی مشکل کوئی چیز نہیں۔ عذاب صعد کا معنی ہے سخت عذآب۔ صعد، صعد کا مصدر ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے صعد صعدا وصعودا۔ اس لفظ کے ساتھ عذاب کی صفت ذکر کی گئی ہے کیونکہ یہ عذاب معذب پر بلند ہوجاتا ہے جس کو برداشت کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ ابوعبیدہ نے کہا، الصعد مصدر ہے تقدیر کلام یوں ہوگی عذابا ذا صعد بلندی کی طرف چلنے میں مشقت ہوتی ہے صعود سے مراد پیچدہ گھاٹی ہے۔
عکرمہ نے کہا : جہنم میں ملائم چٹان ہے جس پر چڑھنے کا انہیں مکلف بنایاجائے گا جب وہ اس کی بلندی تک پہنچے گا تو اسے جہنم کی طرف گرا دیا جائے گا۔ کلبی نے کہا، ولید بن مغیرہ کو جہنم میں ایک پہاڑ پر چڑھنے پر مجبور کیا جائے گا جو پہاڑ ملائم چٹان کا ہوگا اسے زنجیروں کے ساتھ سامنے سے کھینچا جائے گا اور پیچھے سے گرزوں کے ساتھ ماراجائے گا یہاں تک کہ اس کی چوٹی پر پہنچے گا وہ چالیس سال تک اس کی بلندی پر نہیں پہنچے گا جب وہ اس کی بلندی پر پہنچے گا تو اسے اس کی پستی کی طرف گرا دیا جائے گا پھرا سے اس کی چوٹی پر چڑھنے پر مجبور کیا جائے گا ہمیشہ اس کا یہی طریقہ ہوگا اللہ تعالیٰ کے فرمان، سارھقہ صعودا۔ کا یہی معنی ہیی۔