تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 3

  1. وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ﴿3﴾

    1. وَّاَنَّهٗاور یہ کہ
    2. تَعٰلٰىبرتر
    3. جَدُّشان
    4. رَبِّنَاہمارا رب
    5. مَا اتَّخَذَاس نے نہیں بنایا
    6. صَاحِبَةًبیوی
    7. وَّلَااور نہ
    8. وَلَدًااولاد
Translation · Al-Qurtubi
اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے۔ وہ نہ بیوی رکھتا ہے اور نہ اولاد
Tafseer · Al-Qurtubi
اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانہ تعالیٰ جد ربنا میں علقمہ، یحییٰ ، اعمش، حمزہ، کسائی، ابن عامر، خلف اور سلمی نے ان کو سورت میں بارہ مواقع پر ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ مقامات یہ ہیں، وانہ تعلی جد ربنا، وانہ کان یقول، وانا ظننا، وانہ کان رجال، وانھم ظنوا، وانا لمسناالسمائ، وانا کنا نقعد، وانا لاندری، وانامناالصالحون، وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض، وانا لماسمعنا الھدی، وانا مناالمسلمون، ان کا عطف انہ استمع نفر، پر ہے اس میں ہمزہ پر فتح کے سوا کوئی صورت دست نہیں کیونکہ یہ اوحی کے نائب فاعل کے محل میں ہے اور اس کا مابعد اس کا معطوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ سب فامنا بہ، میں ھا پر محمول ہے یعنی ان سے پہلے باء حرف جار ہے یہ جائز ہے اور حرف جار کی کثرت کی وجہ سے ان کے ساتھ حرف جار مضمر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے ہم نے یہ تصدیق کی کہ ہمارا رب عظیم ہے۔ باقی قراء نے سب کو ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہی صحیح ہے۔ ابوعبیدہ اور ابوحاتم نے اسے پسند کیا اور اسے فقالو انا سمعنا کا معطوف قرار دیا کیونکہ یہ سب جنوں کا کلام ہے جہاں تک ابوجعفر اور شیبہ کا تعلق ہے ان دونوں نے تین مواقع پر ان کے ہمزہ کو فتحہ دیا ہے وہ یہ مواقع ہیں، وانہ تعالیٰ جد ربنا، وانہ کان یقول، وانہ کان رجال، دونوں نے کہا، یہ وہ جملے ہیں جو اوحی سے متعلق ہیں یعنی وحی سے ہیں ور باقی ماندہ میں ان کے ہمزہ کو کسرہ دیا کیونکہ وہ جنوں کا کلام ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کے فرمان، انہ لما قام عبداللہ کا تعلق ہے سب قراء نے اس میں ان کے ہمزہ کو فتحہ دیا ہے مگر نافع، شیبہ، زر بن حبیش، ابوبکر اور مفضل نے عاصم سے یہی روایت نقل کی ہے انہوں نے ہمزہ کو کسرہ ہی دیا ہے کوئی اور حرکت نہیں دی، انہ استمع نفر من الجن، وان لواستقامو اور وان المساجد للہ، اور ان قدابلغو، میں ہمزہ کو فتحہ دینے میں کوئی اختلاف نہیں اسی طرح قول کے بعد اس کے ہمزہ کو کسرہ دینے میں بھی کوئی اختلاف نہیں جس طرح فقالو، انا سمعنا، قل انما ادعوا ربی، قل ان ادری، اور قل انی لا املک ان مقامات میں ان کے ہمزہ کو کسرہ دیا جاتا ہے اسی طرح وہ مقامات جہاں ان فاجزائیہ کے بعد آیات ہے اس کے ہمزہ کو کسرہ دینے میں کوئی اختلاف نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فان لہ نار جھنم (توبہ 63) فانہ یسلک من بین یدیہ۔ کیونکہ یہ ابتدا کے مواقع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، وانہ تعالیٰ جد ربنا، لغت میں جد سے مراد عظمت اور جلال ہے اس معنی میں حضرت انس کا قول ہے جب ایک آدمی سورة بقرہ اور سورة آل عمران یاد کرلیتا ہے تو ہماری آنکھوں میں عظیم ہوجاتا ہے، جدربنا کا معنی ہے ہمارے رب کی عظمت اور جلال، عکرمہ مجاہد اور قتادہ نے یہ کہا ہے مجاہد سے یہ معنی بھی منقول ہے اور اس کا ذکر بلند ہے۔ حضڑت انس بن مالک، حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے جد کا معنی غنا کیا ہے۔ عکرمہ سے یہ قول بھی منقول ہے کہ حظ کو جد کہتے ہیں رجل مجدد یعنی ایسا آدمی جس کا حصہ معین کردیا گیا ہو حدیث طیبہ میں ہے، لاینفع ذالجد منک الجد، کسی حصہ والے کو تیرے مقابلہ میں حصہ نفع نہ دے گا۔ ابوعبیدہ اور خلیل نے کہا، حدیث میں جد، غنا کے معنی میں ہے یعنی کسی مالدار کو مال تیری پکڑ کے مقابلہ میں نفع نہ دے گا بیشک اس طاعت ہی نفع دے گی حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی قدرت ہے ضحاک نے کہا، اس کا معنی فعل ہے قرظی اور ضحاک نے یہ بھی کہا، اس سے مراد مخلوق پر اس کی نعمتیں اور احسانات ہیں ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا، اس کا معنی اس کی بادشاہی ہے۔ سدی نے کہا، اس کا معنی اس کا امر ہے سعید بن جبیر نے کہا، اس کا مطلب ہے ہمارا رب بلند وبالا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا انہوں نے اس جد سے مراد ادا لیا اور یہ جنوں کا قول ہے جنہوں نے ہر بات جہالت کی وجہ سے کی تو اس پر ان کامواخذہ نہ کیا گیا قشیری نے کہا، لفط جد کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ذکر کرنا جائز ہے اور جائز نہ ہوتا تو قرآن حکیم میں اس کا ذکر نہ ہوتامگر یہ لفظ وہم دلاتا ہے اس سے اجتناب بہتر ہے۔ عکرمہ کی قرات میں یہ جیم کے کسرہ کے ساتھ ہے جو ہنسی مذاق کی ضد ہے۔ اسی طرح ابوحیوۃ اور محمد بن سمیقع نے پڑھا، ابن سمیقع اور ابواشہب نے جداربنا پڑھا ہے جس کا معنی منفعت ہے عکرمہ نے اسے تنوین کے ساتھ جدا پڑھا ہے ربنا کو رفع کے ساتھ مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ تعالیٰ کا فاعل ہے۔ اور جد تمیز کی حیثیت سے منصوب ہے عکرمہ سے جد مرفوع، تنوین کے ساتھ اور تنوین کے بغیر نقل کیا گیا ہے۔ اور ربنا کو مرفوع نقل کیا گیا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، تعالیٰ جدجد ربنا۔ دوسراجد پہلے جد سے بدل ہے اسے حذف کیا گیا اور مضاف الیہ کو اسی کے قائم مقام رکھ دیا گیا آیت کا معنی یہ ہے ہمارے رب کا جلال اس سے بالا ہے کہ وہ کسی کو بیوی اور بیٹا بنائے تاکہ ان سے مایوسی ہو اور اسے ان کی حاجت ہے رب ند اور نظیر سے ماوراء ہے۔