تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 8

  1. وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ﴿8﴾

    1. وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
    2. لَمَسْنَاہم نے چھوا (ٹٹولا)
    3. السَّمَآءَآسمان
    4. فَوَجَدْنٰهَاتو ہم نے اسے پایا
    5. مُلِئَتْبھرا ہوا
    6. حَرَسًاپہریدار
    7. شَدِيْدًاسخت
    8. وَّشُهُبًااور شعلے
Translation · Al-Qurtubi
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا
Tafseer · Al-Qurtubi
تفسیر 8 تا 10 اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا لمسناالسماء یہ جنوں کا قول ہے یعنی ہم نے اس کی خبر جاننا چاہی جس طرح ہماری عادت تھی تو ہم نے اسے پایا کہ وہ فرشتوں سے بھرا ہے۔ حرس، حارس کی جمع ہے اور شھب، شھاب کی جمع ہے وہ ستاروں کاٹوٹنا ہے جو انہیں چوری چھپے باتیں سننے پر جلاتے ہیں اور اس بارے میں گفتگو سورة حجر اور صافات میں گزرچکی ہے وجد کے بارے میں یہ جائز ہے کہ اسے دو مفعولوں کی طرف متعدی مانا جائے ان دو میں سے پہلامفعول ھاضمیر ہے اور ملئت اس کے دوسرے مفعول کے محل میں ہے یہ بھی جائز ہے کہ وہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہو اور ملئت، قد کے مضمر ماننے کے ساتھ حال ہو، حرسا، ملئت کا مفعول ثانی ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے اور شدیدا حرس کی صفت ہے یعنی وہ طاقتور فرشتوں سے بھرا ہوا ہے۔ حرس کے لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے شدید کو واحد ذکر کیا ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے، السلف الصالح، صالحین کے معنی میں ہے سلف کی جمع اسلاف اور حرس کی جمع احراس ہے امراء القیس کا قول ہے : تجاوزت احراسا واھوال معشر۔ میں نگہبانوں اور جماعت کی خوفناک چیزوں سے آگے گزر گیا۔ یہ بھی جائز ہے کہ حرس مصدر ہو اور یہ حراسۃ شدیدۃ کے معنی میں ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع، فمن یستمع الان یجد لہ شھابارصدا۔ میں ھاضمیر سے مراد السماء ہے اور مقاعدان جگہوں کو کہتے ہیں جن کی مثل میں اس لیے بیٹھا جاتا ہے کہ آسمان کی خبروں کو سنا جائے یعنی سرکش جن یہ کام اس لیے کرتے تھے تاکہ فرشتوں سے آسمان کی خبریں سنیں یہاں تک کہ وہ خبریں کاہنوں خوالقاء کریں جیسے اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مبعوث کیا تو اللہ نے جلانے والے شہابچوں کے ساتھ ان کی نگہبانی کا اہتمام فرمایا، جنوں نے اس وقت کہا، فمن یستمع الان یجد لہ شھابارصدا۔ شہاب سے مراد جلانے والا ستارہ ہے اس کا بیان پہلے گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے، ستاروں کاٹوٹنا، یہ نبی کریم کی بعثت کے بعد ہوا۔ یہ آپ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔ سلف صالحین میں اس بارے میں اختلاف ہے کیا شیاطین کو رسول اللہ کی بعثت سے پہلے بھی شہابچے مارے جاتے تھے یا ایسا امر تھا جو نب یکریم کی بعثت کے لیے ہوا ؟ کلبی نے کہا، ایک قوم نے کہا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم کی بعثت کے درمیانی عرصہ یعنی فترت کا زمانہ میں جو تقریبا پانچ سو سال پر محیط ہے آسمان کی نگہبانی نہیں کی جاتی تھی جب حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی تو تمام آسمانوں کو ممنوعہ قرار دے دیا گیا اور فرشتوں اور شہابچوں سے اس کی حفاظت کی گئی۔ میں کہتا ہوں : اسے عطیہ عوفی نے حضڑت ابن عباس سے روایت کیا، بیہقی نے اس کا ذکر کیا اور حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا، جب رسول اللہ کی بعثت کا دن آیاتو شیاطین کو روک دیا گیا اور ان کو شہابچے مارے گئے۔ عبدالملک بن سابور نے کہا، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے درمیانی عرصہ یعنی فترت کے دور میں آسمان کی نگہبانی کی جاتی تھی جب حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو آسمان کی نگہبانی کی گئی اور شیاطین کو شہابچوں سے مارا گیا اور آسمان کے قریب ہونے سے انہیں روک دیا گیا۔ نافع بن جبیر نے کہا، فترت کا دور میں شیاطین سنا کرتے تھے اور انہیں شہابچوں سے نہیں مارا جاتا تھا جب رسول اللہ مبعوث ہوئے تو انہیں شہابچوں سے مارا گیا اسی قسم کا قول حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہا، جب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمانوں پر اٹھایا گیا تو کسی کو شہابچے نہیں مارے گئے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو ان شیاطین کو ماراجانے لگا ایک قول یہ کیا گیا یہ سلسلہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی تھا اور رسول اللہ کی بعثت کے ساتھ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اضافہ کردیا گیا اللہ تعالیٰ کے فرمان، ملئت کا یہی معنی ہے یعنی اس کی نگہبانی میں اضافہ کردیا گیا اوس بن حجر نے کہا، جب کہ وہ دور جاہلیت کا شاعر ہے : فانقض کالدری یتبعہ نقع یثور تخالہ طنبا۔ یہ اکثر لوگوں کا قول ہے جاحظ نے اس شعر کا انکار کیا اور کہا، ہر وہ شعر جو اس بارے میں روایت کیا گیا ہے وہ من گھڑت ہے اور اس نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ بعثت سے قبل شیاطین کو نہیں مارا جاتا تھا جب کہ شیاطین کو مارنے کا قول صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : فوجدنھا ملئت حرسا شدیدا وشھبا۔ یہ جنوں کی جانب سے خبر ہے کہ آسمان کی نہگداشت میں اضافہ کردیا گیا یہاں تک کہ وہ آسمان شہابچوں اور ان سے بھر گئے یہ قول اس لیے صحیح ہے کہ اس اثنا میں نبی کریم صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ ستارے سے کسی کو مارا گیا پوچھا، تم دور جاہلیت میں اس بارے میں کیا کہتے تھے صحابہ نے عرض کیا ہم کہا کرتے تھے کوئی عظیم آدمی فوت ہوا ہے یا کسی عظیم شخص نے جنم لیا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں پھینکے جاتے بلکہ ہمارا رب سبحانہ وتعالی جب آسمان میں کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر تمام آسمان والے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح کا سلسلہ اس آسمان تک آ پہنچتا ہے آسمان والے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا، تو حاملین عرش اس آسمان کے فرشتوں کو خبر دیتے ہیں پھر یہ آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو خبر دیتے ہیں آخرکار خبریں اس آسمان تک آپہنچتا ہے آسمان والے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا، تو حاملین عرش اس آسمان کے فرشتوں کو خبر دیتے ہیں پھر یہ آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو خبر دیتے ہیں آخرکار خبر اس آسمان تک آپہنچتی ہے جس اس خبر کو اچک لیتے ہیں تو انہیں شہابچوں سے مارا جاتا ہے جو خبروہ جن لاتے ہیں وہ سچی ہوتی ہے لیکن وہ اس خبر میں زیادتی کردیتے ہیں۔ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ شہابچے مارنے کا سلسلہ بعثت سے قبل بھی تھا۔ زہری نے اسی کی مثل حضرت علی بن حسین بن علی بن طالب سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں ان سے پوچھا گیا کیا دور جاہلیت میں انہیں شہابچوں سے مارا جاتا تھا ؟ جواب دیا ہاں۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں دیکھا، وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع، فمن یستمع الان یجد لہ شھابا رصدا۔ کہا، جب نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو معاملہ سخت کردیا گیا اس کی مثل قتبی نے کہا، ابن قتیبہ نے کہا، بعثت کے بعد نگہبانی کا معاملہ سخت ہوگیا اس سے قبل وہ چوری چھپے باتیں سن لیا کرتے اور کسی وقت انہیں شہابچوں سے مارا بھی جاتا تھا جب حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو انہیں سننے سے مطلقا روک دیا گیا اس کی وضاحت سورة الصافات میں ویقذفون من کل جانب۔ دحورا ولھم عذاب واصب۔ آیت میں گزرچکی ہے۔ حافظ نے کہا، اگر کوئی کہنے والا یہ کہے، جب جنوں کو معلوم ہوچکا تھا تو وہ خبر سننے کے لیے کیا اپنے آپ کو جلانے کے لیے پیش کردیتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر چیز بھلا دیتا ہے یہاں تک کہ آزمائش بڑی ہوجاتی ہے جس طرح ابلیس کو ہر لمحہ یہ بات بھلادی جاتی ہے کہ وہ محفوظ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا، ان علیک اللعنۃ الی یوم الدین (الحجر) اگر یہ نہ ہو تو احکام کا مکلف ہونا ہی درست نہ ہو۔ رصدا کے بارے میں یہ کہا گیا، یہ فرشتوں کی طرف سے ہوگا۔ رصد کا معنی ہے کسی شی کی حفاظت کرنے والا۔ اس کی جمع ارصاد ہے اس مقام کے علاوہ میں ممکن ہے کہ وہ جمع ہو جس طرح حرس کا صیغہ ہے اس کی واحد راصد ہے ایک قول یہ کیا گیا، رصد شہابچہ ہے یعنی شہابچہ اس کی تاڑ میں ہوتا ہے تاکہ اس کے ساتھ شیطان کو رجم کیا جائے۔ یہ فعل کا وزن ہے جو مفعول کے معنی میں ہے جس طرح خبط اور نفص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا لاندری اشر ارید بمن فی الارض ام ارادبھم ربھم رشدا۔ کا مفہوم ہے آسمانوں کی ان نگہبانوں سے جو نگہبانی کی گئی ہے کیا اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا ہے یابھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ ابن زید نے کہا، ابلیس نے کہا ہم نہیں جانتے کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اہل زمین پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی طرف رسول بھیجنے کا ارادہ کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ جنوں کی آپس میں اس وقت کی گفتگو ہے جب کہ ابھی نبی کریم کی قرات نہیں سنی تھی یعنی ہم نہیں جانتے کہ حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ اہل زمین کے لیے عذاب کا ارادہ کیا گیا ہے کیونکہ اہل زمین آپ کو جھٹلاتے ہیں اور جھٹلانے کے ساتھ ہلاک ہوجاتے ہیں جس طرح وہ لوگ ہلاک ہوئے جنہوں نے سابقہ امتوں میں سے انبیاء کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور ہدایت پائیں وہ شر اور رشد اسی کفر و ایمان پر منحصر تھا اس قول کی بنا پر انہیں نبی کریم کی بعثت کا علم تھا جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قرات کو سنا تو انہیں علم ہوگیا کہ وحی کی حفاظت کی خاطر انہیں آسمان کے قریب جانے سے روکا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نہیں بلکہ یہ ایسا قول ہے جوان جنوں نے اس قت اپنی قوم سے کہا تھا جب وہ انہیں خبردار کرنے کے لیے واپس گئے تھے یعنی جب وہ ایمان لائے تو انہیں خوف ہوا کہ اکثر اہل زمین ایمان نہیں لائیں گے تو انہوں نے کہا، ہم نہیں جانتے کہ جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کیا اہل زمین اس کا انکار کریں گے یا وہ ایمان لائیں گے ؟۔