تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 1
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ﴿1﴾
- يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُاے کپڑے میں لپٹے ہوئے (محمد)
Translation · Al-Qurtubi
اے (محمد ﷺ جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو
Tafseer · Al-Qurtubi
یا ایھا المدثر۔۔۔ تا۔۔۔۔ فطھر۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مدثر کا معنی اور اس سورت کا نزول۔
مسئلہ نمبر 1۔ یا ایھا المدثر۔ اے وہ ذات جس نے اپنے آپ کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا ہے اور نیند کی حالت میں ہے۔ اس کی اصل المتدثر ہے تاء کو دال میں ادغام کردیا کیونکہ وہ باہم نسبت رکھتے ہیں۔ ابی نے اسے اصل پر المتدثر پڑھا ہے۔ مقاتل نے کہا، اس سورت کا اکثر حصہ ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت مروی ہے یہ رسول اللہ کے صحابی تھے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ فترت وحی کے بارے میں بیان کررہے تھے اسی اثنا میں کہ میں چل رہا تھا تو میں نے آسمان کی جانب سے آواز سنی میں نے اپنا سر اٹھایا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آتا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، میں اس وجہ سے ڈر گیا اور میں لوٹ آیاتو میں نے کہا، مجھے کملی اوڑھا دو ، مجھے کملی اوڑھادو، تو انہوں نے مجھے کملی اوڑھادی، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، یا ایھالمدثر، قم فانذر، وربک فکبر۔ وثیابک فطھر۔ والرجز فاھجر۔ ایک روایت میں ہے یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے رجز سے مراد بت ہیں کہا، پھر لگاتار وحی آنے لگی امام ترمذی نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے اور کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے امام مسلم نے کہا، زہیر بن حرب، ولید بن مسلم سے وہ اوزاعی سے وہ یحییٰ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسلمہ سے پوچھا قرآن حکیم کا کون ساحصہ سب سے پہلے نازل ہوا ؟ فرمایا، یا ایھا المدثر، میں نے کہا، اقراء تو انہوں نے کہا میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے پوچھا قرآن حکیم کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا۔ فرمایا، یا ایھا المدثر۔ میں نے کہا، کیا اقرا تو حضرت جابر نے کہا میں تمہیں وہ بیان کررہا ہوں جو رسول اللہ نے ہمیں بیان فرمایا، فرمایا، میں نے غار حرا میں ایک ماہ اعتکاف کیا جب میں نے اعتکاف کو پورا کیا تو میں وہاں سے نیچے اترا میں وادی کے بطن میں پہنچا تو مجھے آوازدی گئی میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے اپنے دائیں اور اپنے بائیں دیکھاتو میں نے کسی کو نہ دیکھا مجھے پھر ندا کی گئی میں نے دیکھا تو میں کسی کو نہ دیکھ سکا، مجھے پھر ندا کی گئی تو میں نے اپنا سراٹھایا تو وہ ہوا میں عرش پر متمکن تھا یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ۔ مجھے شدید کپکپی نے اپنی گرفت میں لے لیا، میں حضرت خدیجہ کے پاس آیا میں نے کہا، مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھادو، انہوں نے مجھ پر پانی انڈیلا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، یا ایھا المدثر۔۔۔ تا۔۔۔ فطھر۔ امام بخاری نے اس روایت کو نقل کیا ہے اس میں کہا، میں حضرت خدیجہ کے پاس آیا میں نے کہا، مجھے کملی اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہادو۔ انہوں نے مجھ پر کملی اوڑھادی اور ٹھنڈا پانی مجھ پر انڈیل دیا تو یہ آیات نازل ہوئیں، یا ایھالمدثر۔۔۔ تا۔۔۔ تستکثر۔
علامہ ابن عربی نے کہا : ایک مفسر نے کہا، عقبہ بن ربیعہ کی جانب سے بدسلوکی ہوئی آپ غمگین ہو کر گھرلوٹ آئے آپ مضطرب ہوئے اور لیٹ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی، یہ قول باطل ہے۔ قشیری نے ابونصر نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ کو کفار مکہ کی یہ بات پہنچی کہ تو جادوگر ہے اس وجہ سے آپ کو دکھ ہوا اور بخار ہو تو آپ نے چادر اپنے اوپر لپیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، قم فانذر۔ آپ ﷺ ان کی باتوں میں نہ سوچتے رہیں اور انہیں رسالت کا پیغام پہنچائیں، ایک قول یہ کیا گیا ابولہب، ابوسفیان، ولید بن مغیرہ، نضر بن حرث، امیہ بن خلف، عاص بن وائل اور مطعم بنی عدی اکٹھے ہوئے انہوں نے کہا، عرب کے وفود ایام حج میں جمع ہورہے ہیں وہ ایک دوسرے سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں باہم پوچھتے ہیں جب کہ تم ان کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہو کوئی کہتا ہے وہ مجنون ہیں کوئی کہتا ہے وہ کاہن ہیں کوئی کہتا ہے وہ شاعر ہیں سارے عرب جہاں جائیں گے یہ سب ایک آدمی کے بارے میں میں رائے قائم کرنے میں متفق نہیں تم محمد کو ایک نام دو جس پر تم سب متفق ہو اور عرب بھی اسے وہی نام دیں۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا، وہ شاعر ہے ولید نے کہا، میں نے ابن ابرص اور امیہ بن صلت کا کلام سنا ہے، محمد ﷺ کا کلام انمیں سے کسی کے بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا، وہ کاہن ہیں ولید نے کہا، کاہن کبھی سچ بولتا ہے اور کبھی جھوٹ بولتا ہے جب کہ محمد نے تو کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ ایک اور اٹھا اس نے کہا وہ مجنون ہیں ولید نے کہا، جنون تو لوگوں کے گلے دباتا ہے اور محمد ﷺ کا توگلا نہیں دبایا گیا، ولید اپنے گھر چلا گیا قریش نے کہا، ولید بن مغیرہ بےدین ہوگیا۔ ابوجہل اس کے پاس آیا اور کہا، اے اباعبدشمس، کیا بات ہے یہ قریش تجھے مال دینے کے لیے مال جمع کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے تو محتاج ہوگیا ہے اور بےدین ہوگیا ہے ولیدنے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں لیکن میں نے محمد ﷺ کے بارے میں سوچا میں نے کہا جادوگر کی کیا حقیقت ہوتی ہے ؟ تو کہا گیا وہ باپ بیٹے، بھائی، بھائی، میاں بیوی، جدائی ڈال دیتا ہے تو میں نے کہا، وہ جادوگر ہے یہ بات لوگوں میں عام ہوگئی تو وہ شور مچانے لگے، بیشک محمد ﷺ جادوگر ہیں (نعوذ باللہ) رسول اللہ مغموم گھر آئے اور ایک چادر لپیٹ لی تو یہ آیت نازل ہوئی، یا ایھا المدثر۔ عکرمہ نے کہا، یا ایھا المدثر کا معنی ہے اے نبوت اور اس کی ذمہ داریوں کو اٹھانے والے علامہ ابن عربی نے کہا، یہ مجاز بعید ہے کیونکہ ابھی آپ نے تبلیغ کا سلسلہ شروع نہ کیا تھا جب کہ یہ نزول قرآن کا آغاز تھا رسول اللہ نے اس سورت میں موجود احکام پر شدت سے عمل شروع نہ کیا تھا کیونکہ نازل ہونے والی یہ دوسری سورت تھی۔
صفت کے ساتھ خطاب محبت و شفقت کی دلیل۔
مسئلہ نمبر 2۔ یا ایھا المدثر۔ کریم ذات کی طرف سے اپنے محبوب کے لیے خطاب میں شفقت ونرمی کا اظہار ہوتا ہے جب وہ ذات اسے اس کی حالت سے ندا کرے اور اس کی صف کے ساتھ اسے تعبیر کرے یہ نہیں فرمایا، اے محمد۔ اے فلاں، تاکہ اس کے رب کی جانب سے نرمی اور شفقت کا شعور دلائے جس طرح سورة مزمل میں پہلے گزرچکا ہے اس کی مثل حضرت علی شیر خدا کے لیے سرورکائنات کا ارشاد ہے جب وہ مسجد میں سور رہے تھے، قم اباتراب، اے ابوتراب۔ اٹھو وہ حضرت فاطمہ سے ناراض ہو کر گھر سے نکلے تھے ان کی چادر گرگئی تھی اور ان کے جسم کو مٹی لگ گئی تھی امام مسلم نے اس روایت کو نقل کیا ہے اس کی مثل رسول اللہ نے حضرت حذیفہ کے لیے غزوہ خندق کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا، قم یا نومان اے سونے والے اٹھو۔ یہ پہلے گزرچکی ہے۔