تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 11

  1. ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ﴿11﴾

    1. ذَرْنِيْمجھے چھوڑدو
    2. وَمَنْاور جسے
    3. خَلَقْتُمیں نے پیدا کیا
    4. وَحِيْدًااکیلا
Translation · Al-Qurtubi
ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا
Tafseer · Al-Qurtubi
ذرنی ومن خلقت۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ صعودا۔ ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ ذرنی یعنی مجھے چھوڑ دو یہ وعید اور دھمکی کا کلمہ ہے یعنی مجھے اور جسے میں نے تنہا پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دے۔ وحیدا اس صورت میں ضمیر محذوف سے حال ہے، جو ضمیر مفعول بہ ہے یعنی میں نے اسے پیدا کیا تو وہ تنہا تھا اس کے پا کوئی مال نہ تھا اور نہ اس کی اولاد تھی اس کے بعد میں نے اسے عطا کیا جو عطا کیا مفسرین کا خیال ہے اس کا مصداق ولیدبن مغیرہ ہے اگرچہ تمام لوگ اس کی مثل پیدا کیے گئے اس کا خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا گیا کیونکہ وہ نعمت کی ناشکری اور سول اللہ کو اذیت دینے میں خصوصیت رکھتا تھا اور وہ اپنی قوم میں وحید کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ولید کہا کرتا تھا میں وحید بن وحید ہوں عربوں میں میری مثل نہیں نہ ہی میرے باپ مغیرہ کی کوئی مثل ہے اسے وحید کا نام دیا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ اسے وحید اس کے گمان کے اعتبار سے کہا گیا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کی کہ وہ وحید ہے۔ ایک قوم کی یہ رائے ہے : وحیدا کا لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہے اس کے پھر دو معنی ہوسکتے ہیں، اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دیجئے میں اس سے انتقام لینے میں کسی بھی منتقم کی جانب سے تجھے بہتر بدلہ دوں گا۔ دوسرا میں نے اسے تنہاپیدا کیا ہے اس کی تخلیق میں میرے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوا میں اسے ہلاک کروں گا اور اس کے ہلاک کرنے میں کسی مددگار کا محتاج نہیں اس صورت میں وحید اضمیر فاعل سے حال ہوگا، وہ خلقت میں تاء ہے، پہلاقول مجاہد کا ہے، میں نے اسے اس کی مان کے پیٹ میں تنہاپیدا کیا اس کے پاس کوئی مال اور اولاد نہ تھی میں نے اس پر انعام کیا تو اس نے کفر کیا اس صورت میں وحید ولید کی طرف لوٹے گا یعنی اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا میں نے اسے ہر چیز کا مالک بنایا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے یہ ارادہ کیا ہے کہ اس امر پر دلالت کرے وہ اسے تنہا اٹھائے گا جس طرح اسے تنہاپیدا کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وحید سے مراد وہ شخص ہے جس کا باپ معلوم نہ ہو۔ ولید کے بارے میں معروف یہ تھا کہ وہ بداصل تھا جس طرح ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان، عتل بعد ذالک زنیم (القلم) وہ ترش رو ہے اس سے بڑھ کر وہ بداصل ہے یہ بھی ولید کی صفت میں ہے۔