تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 8

  1. فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ﴿8﴾

    1. فَاِذَاپھر جب
    2. نُقِرَپھونکاجائے گا
    3. فِي النَّاقُوْرِصور میں
Translation · Al-Qurtubi
جب صور پھونکا جائے گا
Tafseer · Al-Qurtubi
فاذا نقر فی الناقور۔۔۔ تا۔۔۔۔ غیریسیر فاذا نقر فی الناقور۔ جب صور پھونکا جائے گا، ناقور، نقر سے فاعول کا وزن ہے گویا یہ ایسی چیز ہے جس کی شان یہ ہے کہ آواز پیدا کرنے کے لیے جسے کھٹکھٹایاجائے بلکہ عرب میں نقر کا معنی آواز ہے، اس معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : اخفضہ بالنقر لما علوتہ، ویرفع طرفا غیر خاف غضیض۔ عرب کہتے ہیں : نقر باسم الرجل یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے بلائے جب کہ اپنی دعوت کو اس کے لیے خاص کرے۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، یہ بگل جیسی کوئی چیز ہے اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے پہلا نفخہ مراد ہے کیونکہ یہ پہلی ہولناک سختی ہوگی اس کے بارے میں مفصل گفتگو سورة النمل، سورة الانعام اور کتاب التذکرہ میں گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ ابوحبان سے مروی ہے : حضرت زرارہ بن اوفی نے ہمیں امامت کروائی، جب وہ فاذا نقر فی الناقور۔ تک پہنچے توگر پڑے اور فوت ہوگئے۔ فذالک یومئذ یوم عسیر۔ وہ دن بڑا سخت ہے۔ علی الکافرین، یہاں الکافرین سے مراد اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کا انکار کرنے والے ہیں۔ غیریسیر۔ وہ آسان نہیں ہوگا، یعنی ان کی گرہیں نہیں کھلیں گی مگر اگلی گرہ پہلے سے بھی شدید ہوگی، عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے میں گناہ گاروں کا معاملہ مختلف ہوگا کیونکہ ان کی شدت کی گرہ کھلے گی تواگلامرحلہ آسان ہوجائے گا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوجائیں گے یومئذ اس تقدیر کلام میں فذالک یوم عسیر یومئذ کی صورت میں منصوب ہے یعنی عسیر نے اسے نصب دی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، حرف جر کے مقدر ماننے کے ساتھ اسے جر دی گئی ہے اس کی تقدیر یہ ہوگی، فذالک فی یومئذ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ مرفوع ہو مگر کیونکہ غیر منصرف کی طرف مضاف ہے اس لیے مبنی بر فتحہ ہے۔