تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 20
كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ﴿20﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- بَلْبلکہ
- تُحِبُّوْنَتم محبت رکھتے ہو
- الْعَاجِلَةَجلدی کو (دنیا)
Translation · Al-Qurtubi
مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو
Tafseer · Al-Qurtubi
کلا بل تحبون العاجلۃ، وتذرون الاخرہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، ابوجہل قرآن کی تفسیر اور اس کے بیان پر ایمان نہیں لائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ نماز نہیں پڑھیں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اے اہل مکہ کے کفار تم دنیاوی زندگی سے محبت کرتے ہو اور تم آخرت کے لیے عمل کرنے کو ترک کرتے ہو، ایک تفسیر میں ہے آخرت سے مراد جنت ہے۔ اہل مدینہ اور کوفہ کے قراء نے تحبون اور تذرون کو تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے۔ ابوعبید نے بھی اسی قرات کو پسند کیا ہے اور کہا، اگر ان قراء کی مخالفت مکروہ نہ ہوتی تو میں انہیں یاء کے ساتھ پڑھتا کیونکہ اس سے پہلے انسان کا ذکر ہے باقی فراء نے دونوں کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ خبر جاری ہے یہ ابوحاتم کی پسندیدہ قرات ہے، جس نے اسے ینبا الانسان پر محمول کرتے ہوئے یاء کے ساتھ پڑھا ہے تو اس میں الانسان لوگوں کے معنی میں ہے جس نے اسے تاء کے ساتھ پڑھا ہے تو اس نے اس کلام کو اس امر پر محمول کیا ہے کہ شرمندہ کرنے کے لیے ان سے گفتگو کی کیونکہ یہ مقصود میں زیادہ بلیغ ہے اس کی مثل یہ ارشاد ہے : ان ھوء لاء یحبون العاجلۃ ویذرون ورآء ھم یوما ثقیلا۔ دہر) بیشک وہ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور قیامت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔