تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 22

  1. وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ﴿22﴾

    1. وُجُوْهٌبہت سے چہرے
    2. يَّوْمَئِذٍاس دن
    3. نَّاضِرَةٌتازہ (بارونق)
Translation · Al-Qurtubi
اس روز بہت سے منہ رونق دار ہونگے
Tafseer · Al-Qurtubi
وجوہ یومئذ ناظرہ۔۔ تا۔۔ فاقرۃ۔ وجوہ یومئذناظرہ۔ الی ربھا ناظرہ۔ پہلا نضرہ سے مشتق ہے جس کا معنی حسن اور تروتازگی ہے دوسرا نظر سے مشتق ہے یعنی مومنوں کے چہرے روشن، خوبصورت اور تروتازہ ہوں گے۔ یہ باب ذکر کیا جاتا ہے، نضرھم اللہ ینضرھم نظرۃ ونضارۃ۔ اس سے مراد روشن ہونا، آسودگی ہونا، اور غنی ہونا ہے۔ اس معنی میں یہ حدیث طیبہ ہے، نضر اللہ امرا سمع مقالتی فوعاھا۔ اللہ تعالیٰ اس آدمی کو خوش رکھے جس نے میری گفتگو سنی اور اسے یاد رکھا، رب سے مراد خالق ومالک ہے۔ ناظرۃ یعنی اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے یہی جمہور علماء کا نقطہ نظر ہے اس بارے میں حضرت صہیب کی مروی حدیث ہے جس کو امام مسلم نے نقل کیا ہے جو سورة یونس میں، للذین احسنوالحسنی وزیادۃ۔ 26) میں گزرچکی ہے۔ حضرت ابن عمر کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جنتیوں میں سے سب سے معزز وہ شخص ہوگا جو صبح وشام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ یزید نحوی نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے حضرت حسن بصری کہا کرتے تھے ان کے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان نظر بمعنی انتظار ہے یعنی وہ اس ثواب کا انتظار کررہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے ہوگا، یہ حضرت ابن عمر اور مجاہد سے مروی ہے، عکرمہ نے کہا، وہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کررہے ہوں گے ماوردی نے حضرت ابن عمر اور عکرمہ سے یہی روایت نقل کی ہے۔ یہ صرف مجاہد سے مروی ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان، لاتدر کہ الابصاروھو یدرک الابصار۔ سے استدلال کیا ہے یعنی انکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتی اور وہ آنکھوں کا احاطہ کرلیتا ہے۔ یہ قول بہت کمزور ہے آیت، احادیث کے ظاہر سے خارج ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، جنتیوں میں سے سب سے کم مرتبہ جنتی وہ ہوگا جو اپنے باغات بیویوں، خادموں اور پلنگوں کی طرف ایک ہزار سال کی مسافت سے دیکھ لے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے معزز وہ شخص ہوگا جو صبح وشام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔ پھر رسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی، امام ترمذی نے کہا، یہ حدیث غریب ہے حضرت ابن عمر سے مروی ہے جب کہ انہوں نے اسے مرفوع نقل نہیں کیا۔ صحیح مسلم میں ابوبکربن عبداللہ بن قیس، اپنے باپ سے وہ نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں فرمایا، دو جنتیں ہیں ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے وہ چاندی کے ہوں گے اور دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور ان میں جو کچھ ہے وہ سونے کے ہوں گے جنت عدن میں جنتیوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کبریائی کی رداء کے سوا کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ حضرت جریر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کو چاند کی طرف دیکھا فرمایا تم اپنے رب کو یوں عیاں دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو تم پر اس کی روئیت میں ظلم نہیں کیا جائے گا، اگر تم طاقت رکھو کہ تم سورج کے طلوع ہونے سورج کے غروب ہونے سے پہلے والی نماز میں مغلوب نہ ہوتوایسا کرو، پھر اس آیت وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب۔ ق) سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے تم اپنے رب کی نماز پڑھو تلاوت کی۔ متفق علیہ۔ اسے ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے ابوداود نے رزین عقیلی سے روایت نقل کی ہے کہا، میں نے عرض کی یارسول اللہ کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کا دیدار کرے گا ؟ حضرت ابن معاذ نے کہا، قیامت کے روز تنہا تنہا دیکھے گا فرمایا ہاں، اے ابارزین۔ پوچھا مخلوق میں سے اس کی کیا صورت ہے ؟ فرمایا اے ابارزین، کیا تم میں سے ہر کوئی چاند کو نہیں دیکھتا، حضرت ابن معاذ نے کہا چودہویں رات کو تنہا تنہا، ہم نے عرض کی، کیوں نہیں، کہا اللہ تعالیٰ سب سے عظیم ہے، ابن معاذ نے کہا، فرمایا، چاند تو اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عظیم و برتر ہے۔ ابواسحاق ثعلبی کی تفسیر میں زبیر نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ہمارا رب عزوجل جلوہ افروز ہوگا یعنی یہاں تک کہ جنتی اس کا دیدار کریں گے وہ اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرمائے گا، اپنے سراٹھا لویہ عبادت کا وقت نہیں۔ ثعلبی نے کہا، مجاہد کا قول کہ وہ اپنے رب کی جانب سے تو اب کے منتظر ہوں گے اور مخلوقات میں سے کوئی اس کا دیدار نہیں کرے گا تو یہ محل نظر تاویل ہے کیونکہ عرب جب نظر کو انتظار کے معنی میں استعمال کرتے تو وہ کہتے ہیں، نظرتہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ھل ینظرون الا الساعۃ۔ الزخرف 66) وہ صرف قیامت کا انتظار کرتے ہیں، ھل ینظرون الاتاویلہ۔ الاعراف 53) کافر کس چیز کا انتظار کررہے ہیں، کہ قرآن کی دھمکی کا انجام کیا ہوتا ہے، ماینظرون الاصیحۃ واحدہ۔ یاسین 49) وہ ایک ہی چیخ کا انتظار کررہے ہیں جب اس سے تفکر اور تدبر کا ارادہ ہو تو اس وقت وہ کہتے ہیں نظرت فیہ مگر جب یہ الفاظ الی یا وجہ کے ذکر کے ساتھ ملا ہو تو اس وقت یہ دیکھنے کے معنی میں ہوگا۔ ازہری نے کہا، مجاہد کا قول کہ وہ اپنے رب کے ثواب کا انتظار کرتے ہوں گے غلط ہے کیونکہ یہ نہیں کہا جاتا نظر الی کذا۔ کہ اس نے اس کا انتظار کیا، کسی کا یہ کہنا نظرت الی فلان یہ آنکھ سے دیکھنا ہی ہوتا ہے عرب بھی اس طرح کہتے ہیں جب وہ آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ کریں تو وہ کہتے ہیں، نظرت الیہ جب وہ انتظار کا ارادہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں، نظرتہ، شاعر نے کہا : فانکما ان تنظرانی ساعۃ، من الدھر تنفعنی لدی ام جندب۔ اگر تم مجھے ایک ساعت مہلت دیتے تو وہ ساعت مجھے ام جندب کے ہاں نفع دیتی۔ جب اس نے انتظار کا ارادہ کیا تو اس نے تنظر انی کہا، اور تنظرانی الی نہیں کہا، اگر وہ آنکھ سے دیکھنا مراد لیں تو وہ کہتے ہیں، نظرت الیہ، شاعر نے کہا : نظرت الیھا والنجوم کا نھا، مصابیح رھبان تشب لقفال۔ میں نے اسے دیکھا جب کہ ستارے گویا راہبوں کے چراغ ہیں جو پلٹے والوں کے لیے روشن کیے گئے ہیں ایک شاعر نے کہا، نظرت الیھا بالمحصب من منی، ولی نظرلولا التحرج عارم۔ میں نے منی سے اس کی طرف دیکھا جو محصب میں تھی اگر گناہ نہ ہوتا تو میری نظر بدخلق ہوتی۔ ایک اور شاعر نے کہا، انی الیک لما وعدت لناظر، نظر الفقیر الی الغنی الموسر۔ میں تیرے وعدہ کی طرف اس طرح دیکھنے والا تھا جس طرح محتاج خوشحال کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی میں تیری طرف عاجزی کی نظر سے دیکھ رہا تھا کیونکہ خشوع و خضوع کی نظر مسول کے دل کو زیادہ نرم کردیتی ہے، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ انہوں نے لاتدر کہ الابصار، وھو یدرک الابصار، الانعام 103) آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرتیں جبکہ وہ آنکھوں کا احاطہ کرلیتا ہے یہ دنیا میں ہوگا اس کے بارے میں گفتگو اس کے محل میں مفصل گزرچکی ہے۔ عطیہ عوفی نے کہا، وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اس کی عظمت کی وجہ سے لوگوں کی آنکھیں اس کا احاطہ نہ کرسکیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نظر ان کا احاطہ کرلے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان، لاتدر کہ الابصار وھو یدرک الابصار۔ دلالت کرتا ہے۔ قشیری ابونصر نے کہا : الی کی جگہ الالاء ہے یعنی اس کی نعمتوں کا انتظار ہوگا یہ قول بھی باطل ہے کیونکہ الالاء کا واحد الف کے ساتھ لکھا جاتا ہے یاء کے ساتھ نہیں لکھا جاتا پھر الالاء اس کی ان نعمتوں کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو دور کرنے والی ہوں جب کہ وہ جنت میں اپنی ذاتوں سے ناراضگی کے دور کرنے کا انتظار نہیں کررہے ہوں گے۔ جو آدمی کسی چیز کا انتظار کرتا ہے اس کی زندگی پریشان کن ہوتی ہے جنتیوں کی یہ صفت بیان نہیں کی جاتی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں نظر کو وجہ کی طرف مضاف کیا گیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، تجری من تحتھا الانھار۔ البقرہ 25) اس کے نیچے نہریں رواں ہوں گی پانی نہر میں چلتا ہے نہ کہ نہر چلتی ہے۔ بعض اوقات وجہ، آنکھ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فالقوہ علی وجہ ابی یات بصیرا۔ یوسف 93) تم اسے میرے باپ کی آنکھوں پر ڈالنا وہ روشن ہوجائیں گے قیامت کے روز قانون کو بدل دینا کوئی بعید نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کا فعل چہرے میں پیدا کردے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی۔ الملک 22) کیا وہ جو منہ کے بل چلتا ہے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ عرض کی گئی، یارسول اللہ وہ آگ میں منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ فرمایا جو ذات انہیں قدموں پر چلانے پر قادر ہے وہ انہیں منہ کے بل بھی چلانے پر قادر ہے۔