تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 24
وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ﴿24﴾
- وَوُجُوْهٌاور بہت سے چہرے
- يَّوْمَئِذٍۢاس دن
- بَاسِرَةٌبگڑے ہوئے
Translation · Al-Qurtubi
اور بہت سے منہ اس دن اداس ہونگے
Tafseer · Al-Qurtubi
ووجوہ یومئذ باسرہ۔ تظن ان یفعل بھا فاقرہ۔ یعنی کفار کے چہرے قیامت کے روز تیوری چڑھے ترش ہوں گے، صحاح میں ہے بسرا الفحل الناقۃ وابتسرھا، یعنی نر اونٹ، اونٹنی کی خواہش کے بغیر اس پر جاپڑا۔ وبسرالرجل وجھہ بسورا، آدمی نے تیوری چڑھائی۔ کہا جاتا ہے، عبس وبسر۔ سدی نے کہا، باسرہ یعنی بدلے ہوئے معنی ایک ہی ہے انہیں یقین ہوگا کہ ان کے ساتھ کمرتوڑ سلوک کیا جائے گا، فاقرۃ سے مراد بڑی مصیبت اور عظیم امر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، فقرتہ الفاقرہ۔ مصیبت نے اس کی کمرتوڑ دی مجاہد دوسرے علماء نے یہی معنی بیان کیے ہیں قتادہ نے کہا، فاقرہ کا مطلب مصیبت ہے۔ سدی نے کہا، ہلاکت ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید نے کہا، آگ میں داخل ہونا ہے سب معانی قریب قریب ہے اصل اس کا معنی ہے اونٹ کی ناک پر لوہے یا آگ سے ایسا نشان لگانا جو ہڈی تک جاپہنچے۔ یہ اصمعی نے کہا، کہا جاتا ہے۔ فقرت انف البعیر۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تولو ہے سے اس کی ناک میں سوراخ کرے پھر سوراخ کی جگہ چمڑے سے بنی رسی ڈالے جس پر کمان کی تان لپٹی ہوئی ہو تاکہ اس کے ساتھ تو اونٹ کو مطیع کرے، اسی معنی میں ان کا قول ہے، قد عمل بہ الفاقرہ اس کے ساتھ کمر توڑ سلوک کیا گیا۔ نابغہ نے کہا، وضربۃ فاس فوق راسی فاقرہ۔ میرے سر پر کلہاڑے کی ایسی ضرب لگائی جو ہڈی توڑنے والی تھی۔