تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 29

  1. وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ﴿29﴾

    1. وَالْتَفَّتِاور لپٹ جائے
    2. السَّاقُایک پنڈلی
    3. بِالسَّاقِدوسری پنڈلی سے
Translation · Al-Qurtubi
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے
Tafseer · Al-Qurtubi
والتفت الساق بالساق۔ ایک شدت دوسری شدت کے ساتھ مل چکی ہے یعنی دنیا کے آخر کے شدت، آخرت کے آغاز کی شدت کے ساتھ مل چکی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے، امام شعبی نے اور دوسرے علماء نے فرمایا، موت کے وقت شدت تکلیف سے انسان کی دونوں پنڈلیاں لپٹ گئیں۔ قتادہ نے کہا، کیا تو نے نہیں دیکھا جب وہ موت کے قریب پہنچتا ہے تو وہ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر مارتا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب اور حضرت حسن بصری نے کہا : یہ انسان کی دو پنڈلیوں ہیں جب انہیں کفن میں لپیٹ دیاجائے۔ زید بن اسلم نے کہا، کفن کی پنڈلی میت کی پنڈلی کے ساتھ چمٹ گئی۔ حضرت حسن بصری نے یہ بھی کہا، اس کے دونوں پاؤں مرگئے اس کی دونوں پنڈلیاں سوکھ گئیں پس وہ اسے نہیں اٹھاتیں جب کہ وہ ان پر خوب گھومتا تھا۔ نحاس نے کہا، پہلاقول ان میں سے سب سے حسین ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے والتفت الساق بالساق۔ کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ دنیاکا آخری دن آخرت کے پہلے دن کے ساتھ لپٹ گیا تو ایک شدت دوسری شدت سے مل گئی مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے یعنی موت کی کرب کی شدت مطلع کی ہولناکی کی شدت سے مل گئی اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، الی ربک یومئذ المساق۔ مجاہد نے کہا، معنی ہے ایک مصیبت دوری مصیبت سے مل گئی، وہ کہتے ہیں اس پر شدائد پے درپے ہوگئیں، ضحاک اور ابن زید نے کہا، اس پر دو شدید امر جمع ہوگئے لوگ اس کے جسم کو تیار کرتے ہیں اور فرشتے اس کی روح کو تیار کرتے ہیں۔ عرب ساق کا لفظ بڑی مصیبت کے لیے استعمال کرتے ہیں اس معنی میں ان کا قول ہے، قامت الدنیا علی ساق، قامت الحرب علی ساق، دنیا بڑی مصیبت پر کھڑی ہے جنگ بڑی مصیبت پر کھڑی ہے شاعر نے کہا : قامت الحرب بنا علی ساق، جنگ نے ہمیں بڑی مصیبت پر کھڑا کردیا ہے۔ یہی معنی سورة قلم کے آخر میں گزرچکا ہے ایک قوم نے کہا کافر کو اس وقت عذاب دیا جاتا ہے جب اس کی روح جسم سے نکلتی ہے یہ پہلی مصیبت ہے پھر اس کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی مصیبت ہوگی۔