تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 34

  1. اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ﴿34﴾

    1. اَوْلٰى لَكَافسوس تجھ پر
    2. فَاَوْلٰىپس افسوس
Translation · Al-Qurtubi
افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی۔ دھمکی کے بعد دھمکی ہے۔ وعید کے بعد وعید ہے۔ یہ چار چیزوں پر چار وعیدیں ہیں جس طرح روایت کی گئی ہے یہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رب سے جاہل تھا یعنی اس نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق نہ کی میرے سامنے کھڑانہ ہوا کہ نماز پڑھتا بلکہ اس نے میرے رسول کی تکذیب کی اور میرے سامنے نماز پڑھنے سے روگردانی کی، تصدیق کو چھوڑنا ایک خصلت ہے جھٹلانا ایک خصلت ہے نماز چھوڑنا ایک خصلت ہے اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنا ایک خصلت ہے چار چیزوں کو چھوڑنے کی وجہ سے چار وعیدیں آئیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ نہ کہا جائے، اللہ تعالیٰ کا فرمان، ثم ذھب الی اھلہ یتمطی، پانچویں خصلت ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں، یہ خصلت جھٹلانے اور اعراض کرنے سے پہلے بھی موجود تھی تو اس کے بارے میں خبر دی۔ یہ قتادہ کے قول میں واضح ہے جس طرح ہم ذکر کریں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے رسول اللہ ایک روز مسجد سے نکلے تو مسجد کے دروازے پر آپ کو ابوجہل ملا جو بنی مخزوم کے دروازے کے ساتھ تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک یا دو دفعہ جھٹکا دیا پھر فرمایا، اولی لک فاولی۔ ابوجہل نے آپ سے کہا کیا تو مجھے دھمکاتا ہے ؟ اللہ کی قسم میں اس وادی کے مکینوں میں سے سب سے زیادہ معزز ومحترم ہوں۔ رسول اللہ نے جس طرح ابوجہل سے فرمایا تھا اس اسلوب میں آیت نازل ہوئی، یہ دھمکی کے کلمات ہیں شاعر نے کہا : فاولی ثم اولی ثم اولی، ھل للدر یحلب من مرد۔ ہلاکت ہو، ہلاکت ہو پھر ہلاکت ہو کیا دودھ کو باربار دوہاجاسکتا ہے۔ قتادہ نے کہا : ابوجہل تکبر کرتے ہوئے آیا نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑا فرمایا، اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی۔ اس نے کہا تو اور تیرا رب مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے میں ان دو پہاڑوں کے درمیان سب سے معزز ہوں، جب بدر کا دن آیا تو وہ مسلمانوں کے قریب ہوا کہا، آج کے بعد اللہ کی عبادت کبھی بھی نہ کی جائے گی تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کردیا، اور وہ برے طریقے سے قتل ہوا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے تیرے لیے ہلاکت ہے اسی بارے میں خنساء کا شعر ہے : ھممت بنفسی کل الھموم، فاولی لنفسی اولی لھا، ساحمل نفسی علی آلۃ، فاما علیھا واما لھا۔ میں نے اپنے بارے میں ہر قسم کا ارادہ کیا میرے نفس کے لیے ہلاکت ہے اس کے لیے ہلاکت ہے میں اپنے نفس کو ایسی حالت پر مجبور کروں گی، وہ حالت اس کے خلاف ہوگی یا اس کے حق میں ہوگی۔ الالہ کا معنی حالت ہے اور الالۃ کا معنی چار پائی بھی ہے جس پر میت کو اٹھایا جاتا ہے اس تاویل کی بنا پر یہ کہا جائے گا کہ ان کلمات میں سے ہے جن میں قلب کا قاعدہ جاری ہوا گویا کہا گیا، اویل پھر حرف علت کو موخر کیا گیا معنی ہے تیرے لیے زندہ ہونے کی صورت میں ہلاکت ہے، تیرے لیے مردہ ہونے کی صورت میں ہلاکت ہے جس روز تو جہنم میں داخل ہو یہ جانے کے وقت ہلاکت ہے اور تیرے لیے اس روز ہلاکت ہے جس روز تو جہنم میں داخل ہو، یہ تکرار اسی طرح ہے جس طرح کسی نے کہا۔ لک الویلات انک مرجلی۔ تیرے لیے پے درپے ہلاکتیں ہوں تو مجھے آزاد چھوڑنے والا ہے۔ مراد یہ ہے لک الویل ثم الویل۔ یعنی تیرے لیے ہلاکت، پھر ہلاکت اور پھر ہلاکت۔ یہ قول ضعیف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے تیری مذمت اس کے ترک کرنے سے بہتر ہے مگر کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اصمعی نے کہا کلام عرب میں اولی کا لفظ ہلاکت کے قریب ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے گویا وہ کہتا ہے تو ہلاکت کے قریب ہوگیا۔ یہ ولی سے ماخوذ ہے جس کا معنی قرب ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا ایھا الذین آمنو اقاتلوالذین یلونکم من الکفار۔ توبہ 123) اے ایمان والو۔ ان کفار سے تم جنگ کرو جو تمہارے قریب رہتے ہیں۔ اصمعی نے یہ مصرعہ پڑھا، واولی ان یکون لہ الولائ۔ قریب ہے کہ اس کے لیے حکومت ہو، اور اس نے یہ مصرعہ بھی پڑھا۔ اولی لمن ھاجت لہ ان یمکد۔ جس کے دل کا مرض جوش مارنے لگا اس کی ہلاکت کا وقت قریب ہوگیا۔ ابوالعباس ثعلب، اصمعی کے قول کی تحسین کرتا وہ کہتا کوئی آدمی اصمعی کی وضاحت جیسی وضاحت نہیں کرتا۔ نحاس نے کہا : عرب کہتے ہیں اولی لک۔ قریب تھا کہ تو ہلاک ہوجاتا پھر بچ گیا۔ گویا تقدیر کلام یوں ہے اولی لک واولی لک الھلاکۃ۔ مہدوی نے کہا، تقدیر کلام یہ نہ ہوگی، ولا تکون اولی۔ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہوگی۔ گویا یہ کہا، الوعید اولی لہ من غیرہ کیونکہ ابوزید نے بیان کیا، اولاۃ الان۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ دھمکی دیں۔ علامت تانیث کا اس پر داخل کرنا اس امر پدلیل ہے کہ معاملہ اس طرح نہیں۔ لک خبر ہے اولی مبتداء ہے اولی غیر منصرف ہے کیونکہ یہ وعید کا علم (نام) ہوچکا ہے یہ اس طرح ہے جس طرح کسی کا نام احمد ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے اس میں تکرار اس معنی کی بنا پر ہے تجھ پر تیرے پہلے برے عمل، دوسرے، تیسرے اور چوتھے پر لازم کرتا ہو جس طرح یہ پہلے گزرچکا ہے۔