تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 75. Al-Qiyaama · Ayah 7
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ﴿7﴾
- فَاِذَاپس جب
- بَرِقَچندھیاں جائیں گی
- الْبَصَرُآنکھیں
Translation · Al-Qurtubi
جب آنکھیں چندھیا جائیں
Tafseer · Al-Qurtubi
فاذا برق البصر۔۔ تا۔۔۔ واخر۔
فاذا برق البصر۔ نافع اور اہان نے عاصم نے برق پڑھا ہے اس کا معنی ہے زیادہ کھلنے کی وجہ سے آنکھ کا چمکنا تو اسے دیکھے گا وہ جھپکتی نہیں مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، یہ موت کا وقت ہوگا، حضرت حسن بصری نے کہا، یہ قیامت کے روز ہوگا اس بارے میں کہا یہ اس سوال کا جواب ہے جو انسان نے اس سے سوال کیا گویا یہ قیامت کے دن ہوگا۔ جبکہ باقی قراء نے برق پڑھا ہے، معنی ہے وہ متحیر ہوگئی وہ نہ جھکی، یہ ابوعمر، زجاج اور دوسرے علماء نے کہا، ذورمہ نے کہا، فراء اور خلیل نے کہا، برق جب کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی گھبرانا، مبہوت ہونا اور حیران ہونا ہے عرب متحیر اور مبہوت انسان کے بارے میں کہتے ہیں، قد برق فھوبرق، وہ متحیر اور وہ متحیر ہے، فراء نے یہ شعر پڑھا : فنفسک فانع ولاتنعنی ودار الکلوم ولاتبرق۔ اپنے نفس کو موت کی خبر دے مجھے موت کی خبر نہ دے زخموں کا علاج کرو اور زخموں سے نہ گھبراؤ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، برق یبرق ماضی عین کلمہ کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اس کا معنی ہے اس نے اپنی آنکھوں کو کھولا۔ ابوعبیدہ نے یہی کہا اور کلابی کا شعرپڑھا : لما اتانی ابن عمیر راغبا، اعطتیتہ عیسا صھابا فبرق۔ جب ابن عمیر رغبت کرتے ہوئے میرے پاس آیاتو میں نے سے بھورے رنگ کا اونٹ دیا تو اس نے اپنی دونوں آنکھیں کھول دیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے برق، راء کے کسرہ اور فتحہ دونوں اس کی لغتیں ہیں اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔